سیاست کا پلان بی ۔ ۔ ۔

پاکستانی سیاست کی اے بی سی بڑی ہی دلچسپ ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں اقتدار حاصل کرنا ہے تو ٹرپل اے کا کلیہ جادوئی ہے یعنی اے فار اللہ، اے فار آرمی اور اے فار امریکہ۔

اب آئیے مولانا فضل الرحمٰن کے ’پلان بی‘ کی طرف۔ واضح ہے کہ مولانا کا پلان اے ناکام ہو چکا ہے۔ دو دن کے الٹی میٹم کو چھوڑیئے آج دو ہفتے ہو گئے مولانا کو وزیرِ اعظم کے دو سطری استعفیٰ کا انتظار ہی ہے(پکسابے)

روایت ہے کہ ایک بار جنرل ضیا الحق نے ازراہِ تفنن یا غرضِ تحقیر خان عبدالولی خان کو کہہ سنایا کہ پاکستان میں سیاست دان سیاست کی اے بی سی تک سے واقف نہیں۔ عبدالولی خان نے انتہائی تحمل سے دھیمے لہجے میں جواب دیا ’پاکستان میں سیاست دان سیاست کی اے بی سی ڈی ای ایف تک ہی پہنچتا ہے کہ آگے جی ایچ کیو آ جاتا ہے۔۔۔۔۔‘

پاکستانی سیاست کی اے بی سی بڑی ہی دلچسپ ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں اقتدار حاصل کرنا ہے تو ٹرپل اے کا کلیہ جادوئی ہے یعنی اے فار اللہ، اے فار آرمی اور اے فار امریکہ ۔۔۔۔ کہ یہ تین قوتیں جس کے ساتھ لگ جائیں مقدر اس کے ہاتھ ہو جائے۔ لیکن کسی سیاسی حکمران کو اقتدار سے باہر نکالنا ہو تو بھی یہی اے بی سی کام آتی ہے۔ اے فار اکاؤنٹیبلٹی (احتساب)، بی فار بیہائینڈ بارز (جیل کی سلاخوں کے پیچھے) اور سی فار کرپشن۔ ہر سول حکمران کو دخل در اقتدار کرنے کا یہ ایسا تیر بہدف نسخہ ہے کہ دہائیوں کا آزمودہ رہا ہے۔ پاکستان کی بیشتر سیاست اسی اے بی سی کے دائرے میں گھومتی ہے اور جس نے اس دائرے سے باہر نکلنا ہو وہ آگے کے سیاسی حروف تہجی کو ایسے پہچانتا ہے جیسے اپنے مفاد کو ڈی فار ڈیل، ای فار اسٹیبلشمنٹ، ایف فار فارن اور پھر آگے آ جاتا ہے وہ جس کا نام خان عبدالولی خان نے لیا تھا۔۔۔۔۔

اسی لیے تو سیاست کے سیانے کہتے ہیں کہ اس دیار غیر میں نہ کوئی سدا کا دوست نہ کوئی دشمن۔ سو اپنے در ہمیشہ کھلے رکھو کہ کب کوئی پلٹ کر آ جائے اور بازی ہی پلٹ جائے۔ آج کل بھی پاکستان کی سیاست میں پلان بی کا بڑا چرچا ہے۔ اکثر کے پلان اے چل نہ پائے اور اب پلان بی پر کارروائی جاری ہے۔ نواز شریف کا پلان اے تھا مزاحمت، ووٹ کی عزت اور سول بالادستی کے خوش کن دلفریب نعرے۔ برس ہا برس سے مقتدر گود میں لوریوں میں پلتے نرم و نازک پنجابی ووٹر نے بھی اس کڑوے کسیلے نعرے پر کروٹ لی، انگڑائی لے کر بیدار ہونے کو ہی تھا کہ ن لیگ کا ’پلان بی‘ آ گیا یا آڑے آ گیا۔ اسی پلان بی کے تحت نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکل گیا اور اب وہ شہباز کے ساتھ پرواز کریں گے۔

اسی ’پلان بی‘ کے تحت جلد ہی مریم بی بی کی پاکستان سے روانگی بھی متوقع ہے۔ نواز اور مریم ایک بار پاکستان سے چلے گئے تو پھر جلد واپسی کی توقع رکھنا بعید ہو گا۔ ڈیل کہیں، سمجھوتہ کہیں، معاملات طے ہونا کہیں یا نظریہ ضرورت کہیں۔۔۔ ان سب کا اندازہ نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط ہو گا۔ شہباز شریف کا البتہ امکان ہے کہ وہ بڑے بھائی کو محفوظ روانگی دینے کے بعد وطن واپس آ جائیں گے اور ن لیگ جو کہ اب واضح طور پر ش لیگ بن گئی ہے اس میں مفاہمت کی نئی روح پھونکیں گے اور مزاحمت کے کالے جادو کا کوئی توڑ نکالیں گے۔

ن لیگ کا پلان بی کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے پلان بی پر کام کا آغاز ہو گا۔ جس طرح مریم نواز کے اپنے والد سے ملاقات کا اہتمام کروایا گیا اسی طرح فریال تالپور کی آصف زرداری سے ملاقات (اور آئندہ کی ممکنہ ملاقاتیں) بھی رنگ لائیں گی۔ اپنے ایک گذشتہ کالم میں عرض کر چکی ہوں کہ ملکی مقتدر حلقوں کے لیے طویل المیعاد بنیادوں پر مریم نواز کی نسبت بلاول بھٹو زیادہ قابل قبول اور قابل قدر ہیں۔

آئندہ نسلوں میں میرے نزدیک پاکستان کی سیاست اور اقتدار میں بلاول بھٹو کا کردار زیادہ مثبت اور فعال نظر آتا ہے۔ بلاول بھٹو سیاست کے ہمہ جہت گر اور اسرار و رموز مریم نواز کی نسبت زیادہ لچک اور زیادہ گہرائی سے جان رہے ہیں اور سیکھ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی یوں بھی ن لیگ کی نسبت مقتدر حلقوں سے مزاحمت اور مفاہمت کا تجربہ وسیع رکھتی ہے اور جبر کے مقابلے میں صبر کا حوصلہ بھی۔

رہ گئی حکومت، تو ان کا پلان اے فار اکاؤنٹیبلٹی بھی فی الحال ناکام ہی نظر آتا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیاسی نعرے کے بقول ملک کا پیسہ لوٹنے والے بڑے بڑے مگرمچھ کرپشن مقدمات میں جیلوں میں تو بند ہیں لیکن احتسابی نظام نہ تو کیس ثابت کر پا رہا ہے اور نہ اربوں کھربوں کی ریکوریاں۔ ایسے میں انصافی سیاست کے بقول ملک کے بڑے بڑے چور ڈاکوؤں کو ریلیف مل رہا ہے تو جان لیجیئے کہ نئے پاکستان میں بھی نظریہ ضرورت سیاسی ایجادات کی ماں ہے یا بہ الفاظ دیگر آپ اسے ’پلان بی‘ کہہ کر بھی ہر قسم کی توہین کے خدشے اور خطرے سے ضمانت پا سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب آئیے مولانا فضل الرحمٰن کے ’پلان بی‘ کی طرف۔ واضح ہے کہ مولانا کا پلان اے ناکام ہو چکا ہے۔ دو دن کے الٹی میٹم کو چھوڑیئے آج دو ہفتے ہو گئے مولانا کو وزیرِ اعظم کے دو سطری استعفیٰ کا انتظار ہی ہے۔ دوسری طرف مولانا کے سامنے تاحال جم کر کھڑے ان کے کارکنان کو ’پلان بی‘ کا انتظار ہے۔ لیکن اس والے ’پلان بی‘ کی روانی میں شاید کوئی سپیڈ بریکر آیا ہے کہ ابھی تک تیز رفتار اور گرم گفتار مولانا کا ہاتھ ایکسیلیٹر پر نہیں پڑ رہا۔ پہلے رہبر کمیٹی متفقہ ’پلان بی‘ بنانے میں ناکام رہی اور اب ن لیگ کے نیویں نیویں ہو کر نکل جانے کے بعد سے رہبر کمیٹی سمٹ کر جمیعت کے اندرونی اجلاسوں تک محدود ہو گئی ہے لیکن وہاں سے بھی ’پلان بی‘ کی کوئی خوشخبری باہر نہیں آ رہی۔

نومبر کا بھی وسط آ گیا، مولانا کب تک بیٹھے رہیں گے، کچھ واضح نہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے۔ اس ’پلان بی‘ میں جتنی تاخیر ہو گی وہ خود مولانا کے مخالف جائے گی۔ بہتر یہی ہو گا کہ جمیعت حکومت کی حمیت سے مل کر کوئی درمیانی راستہ نکالے جسے ’پلان بی‘ کا قابل قبول نام دیا جا سکے۔

اپنے سیاسی حریفوں کے لیے پلان بی نکالنے اور سیاسی اے بی سی کے گھن چکر سے باہر نکلنے کے بعد اب حکومت ذرا عوام کو ریلیف کے پلان بھی بنائے۔ مہنگائی ڈائن ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کو کھائے جا رہی ہے حکومتی لوگوں کو عوامی مشکلات کا کتنا ادراک ہے یہ تو مشیر خزانہ کے ٹماٹر کی قیمت بارے لا علمی سے آشکار ہے۔ اس قدر مہنگی سبزیوں، دالوں، آٹے گھی کی قیمت کے ساتھ وزیر اعظم صاحب ذرا ایک غریب گھرانے کی ایک وقت کی روٹی کا حساب کتاب لگا کر بتائیں۔

حکومت کو سوا سال ہو گیا، گورننس کا پلان اے بری طرح ناکام جا رہا ہے۔ اب ذرا ایک ’پلان بی‘ عوام کے لیے بھی ہو جائے جس سے غریب کے گھر کا چولہا دن میں تین بار بہ آسانی جل سکے۔ ایسا پلان بی تیار ہو گیا تو پھر نہ کسی مارچ کا خوف رہے گا نہ کسی دھرنے کی پرواہ اور نہ کسی سیاسی حریف کا دباؤ رہے گا بلکہ مدت بھی مکمل کریں گے اور مدت میں عوامی توسیع بھی پائیں گے۔ لیکن خدانخواستہ اگر عوامی ریلیف کا ’پلان بی‘ کامیاب نہ ہوا تو پھر جہاں پاکستانی سیاست کی اے بی سی کو دھچکا لگتا ہے وہیں سے کسی متبادل پلان بی کی تیاری بھی شروع ہو سکتی ہے۔

مشتری ہوشیار باش

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ