نااہلوں کا ’سونامی‘؟

سیاست میں کامیاب ہونے کے لیے صلاحیت کی نہیں بلکہ دیگر چیزوں کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کسی بااثر خاندان میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ کی کامیابی کے کافی زیادہ امکانات ہیں اگر ایسا نہیں تو پھر چاپلوسی میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہونا چاہیے۔

وفاقی کابینہ کے 12 نومبر کے اجلاس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان کر رہے ہیں (پی آئی ڈی)

جب تحریک انصاف کی حکومت نے حلف اٹھایا تو میں نے اسی وقت بتا دیا تھا کہ انتہائی غیرسنجیدہ اور نااہل لوگ اب ہم پر راج کریں گے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔

صورت حال یہ ہے کہ زیادہ تر وزیر اسی بات پر خوش ہوتے ہیں کہ انہیں مشہور لوگوں سے ملنے کا اور تصویریں کھنچوانے کا موقع مل رہا ہے۔ وزیر آبی ذرائع، وزیر پورٹ اور شپنگ سے پوچھیں اب تک انہوں نے کیا کام کیا ہے؟ وزیر خزانہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ وہ ٹماٹر 17 روپے کلو خرید رہے ہیں۔ وزیر قانون ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ماورائے آئین کیا ہو سکتا ہے اور کتنے مزید آرڈیننس لکھے جا سکتے ہیں۔ وزیر ریلوے کے 15 ماہ کے دور میں حادثات میں 220 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آج کل وہ ریلوے کو ٹھیک کرنے کی بجائے ہمیں طبعی نظریہ ضرورت سمجھا رہے ہیں۔ غرض یہ کہ جس وزیر کو دیکھو وہ نااہلی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ 

پاکستان میں سیاست میں کامیاب ہونے کے لیے صلاحیت کی نہیں بلکہ دیگر چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اگر آپ کسی بااثر خاندان میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ کی کامیابی کے کافی زیادہ امکانات ہیں۔ اگر آپ کسی بااثر خاندان میں پیدا نہیں ہوئے تو پھر چاپلوسی میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی پارٹیوں میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شعبہ زندگی میں اس صلاحیت کے بغیر آگے بڑھنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس وقت ایسا لگتا ہے پورا ملک باصلاحیت کی بجائے چاپلوس لوگ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کے حکومت میں آنے سے پہلے ہی یہ آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے کہ نااہلی کا سونامی آنا والا ہے۔

میں پی ٹی آئی میں آٹھ سال رہا۔ پہلے تین سال پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ (سی ای سی) کو تخلیہ میں سیاسی مشورے بھیجتا رہا مگر تین سال میں یہ بات واضح ہو گئی کہ سی ای سی کا کوئی شخص عمران خان کو ناخوش کرنے کو تیار نہیں ہے اور اسی کوشش میں لگا ہے کہ تعریفوں کے پل باندھ کر ان کی نظروں میں اچھا رہے۔

بہت سے مشکل فیصلے ایسے ہوتے ہیں جس میں پارٹی سربراہ سے اختلاف کرنا پڑتا ہے۔ میری جہانگیر ترین، اسد عمر، چوہدری سرور، عارف علوی اور دوسرے پارٹی رہنماؤں سے کئی دفعہ تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں قومی مسائل اور پالیسیوں پر گفتگو ہوئی اور یہ بات واضح تھی کہ انہیں کچھ نہیں پتہ کہ اگر حکومت مل گئی تو کرنا کیا ہے۔ یہ بڑی پریشانی کی بات تھی اور ہمارا گروپ جو پارٹی میں پوری طرح سرگرم تھا، اس نے پوری کوشش کی کہ پارٹی کو حکومت کرنے کے قابل بنایا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن عمران خان کو جوانی سے ہی تعریف کرنے والے لوگ بےانتہا پسند ہیں اور ایسے لوگوں کا پارٹی پر پوری طرح قبضہ تھا بلکہ حکومت بھی ایسے ہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ صدر عارف علوی کو ہی لے لیں جب تک پارٹی کے جنرل سکریٹری رہے مجال ہے کہ کبھی پارٹی آئین کی پاسداری کی ہو اور اب یہی روش صدر بن کر بھی ہے۔ جو کاغذ انہیں بھیجا جاتا ہے اسے یہ جانے بغیر کے آئینی ہے یا نہیں ہے بس دستخط کر دیتے ہیں۔

مگر بات صرف یہی نہیں تھی۔ میں سیاسی انجینیئرنگ کے سخت خلاف ہوں اور ہمیشہ اس بات پر قائل رہا ہوں کہ فوج کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ اس اختلاف کے باوجود بہت سے سینیئر افسر میری رائے کو اہمیت دیتے ہیں، جس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں۔ میں نے انہیں کئی دفعہ یہ بات باور کروائی کہ ان کے چنیدہ حکومت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ خرابی زیادہ پیدا کریں گے۔ آج وہ خود پریشان ہیں کہ کن نااہلوں کو حکومت پکڑا دی ہے۔

صرف حکومت نہیں بلکہ ریاستی ادارے بھی تنزلی کا شکار ہیں۔ اب نادرا اور پیمرا کو ہی لے لیں جنہوں نے ایک سابق منسٹر اور سینیٹر کو غیر پاکستانی قرار دے دیا۔ اگر یہ بات حقیقت ہے تو اتنے سالوں سے وہ کیا کر رہے تھے اور اچانک ان کو کہاں سے اطلاع ملی۔ پولیس کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ نیب کو تو رہنے ہی دیں۔

صرف پی ٹی آئی ہی نہیں ہر پارٹی اور ادارے پر نااہل لوگوں کا مکمل کنٹرول ہے جو بہت زیادہ پریشانی کی بات ہے۔ آج کل میں حزبِ اختلاف کی پارٹیوں کو سیاسی مشورے بھیجتا ہوں مگر وہاں بھی یہی بےبسی اور بےچارگی والا حال ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ قابل لوگ نہیں ہیں۔ مگر ایک تو کم ہیں اور جو ہیں ان کے لیے اتنی مشکلات کھڑی کر دی گئی ہیں کہ ان کا کام کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ جو ہمت کرتا ہے اسے یا تو ہم مار دیتے ہیں، ہٹا دیتے ہیں یا پھر ملک بدر کر دیتے ہیں۔

اس صورت حال سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ قابل اور باصلاحیت لوگوں کو مواقع فراہم کیے جائیں، جو اس ملک کو نئے سرے سے تعمیر کریں۔ یہ ایک اہم اور ضروری کام ہے جس کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنا پڑے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ