اب انسٹا گرام سے ’ٹک ٹاک‘ کریں

انسٹاگرام نے مشہور زمانہ ایپ ٹک ٹاک کی طرز پر نیا فیچر ’ریلز‘ متعارف کرا دی۔

انسٹاگرام فیس بک کی ملکیت ہے(اے ایف پی)

ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے کے لیے استعمال ہونے والی سماجی رابطے کی مشہور سروس انسٹاگرام نے’ریلز‘کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کروایا ہے، جس میں انتہائی مقبول ایپ ٹک ٹاک کے بعض بے حد پسند کیے جانے والے فیچرز شامل ہیں۔

ریلز کو استعمال کرنے والے 15 سیکنڈ تک کی ویڈیو بنا سکتے ہیں اور ٹک ٹاک پر بھی ویڈیو کا دورانیہ اتنا ہی ہے۔

ٹک ٹاک کے’ڈیوٹ‘نامی فیچر کی طرح ریلز بھی صارفین کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ کہیں اور سے آڈیو لے کر اسے اپنی ویڈیو میں استعمال کر سکتے ہیں۔

فی الحال برازیل میں دستیاب انسٹاگرام کا یہ نیا فیچر اینڈروئیڈ اور ایپل سٹورز پر موجود ہے اور یہ ایپ کو اپ ڈیٹ کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انسٹاگرام کا نیا فیچر فیس بک نے متعارف کرایا ہے۔

اس اقدام کا مقصد بڑے پیمانے پر مقبول اور 2016 میں لانچ ہونے والی حریف چینی ایپ ٹک ٹاک کا مقابلہ کرنا ہے جس کے صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

فیس بک کے مقابلے میں ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد کم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دو ارب 70 کروڑ افراد فیس بک اور اس کی دوسری ایپس مثلاً میسینجر اور وٹس ایپ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیس بک کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سے ایک ملازم نے سوال کیا تھا کہ ان کے پاس نوجوان صارفین کو ٹک ٹاک پر منتقل ہونے سے روکنے کے لیے کیا حربہ ہے۔

زکربرگ نے انکشاف کیا کہ فیس بک نے’لاسو‘ نامی ایک مکمل ایپ کے ذریعے مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے، جو ان ملکوں میں لانچ کی جائے گی جہاں ٹک ٹاک ابھی تک مقبول نہیں۔

’ہمارے پاس سیکھنے، سمجھنے اور ٹرینڈ سے آگے نکلنے کا وقت موجود ہے۔ اس وقت بھی خاصی گنجائش ہے اور ہمارے پاس وقت ہے کہ کوئی حل تلاش کرلیں کہ ہمیں کیا یہاں کیا کرنا ہے۔‘

فیس بک نے تبصرے کے لیے دی انڈپینڈنٹ کی درخواست کا فوری کوئی جواب نہیں دیا لیکن انسٹاگرام کے ڈائریکٹر پروڈکٹ مینیجمنٹ روبی سٹین نے ٹیک کرنچ سے گفتگو میں ریلز اور اس کے ٹک ٹاک سے ملتے جلتے فیچرز کا دفاع کیا۔

انہوں نے کہا ’دونوں پروڈکٹس بالکل ایک جیسی نہیں۔ آخرکار ویڈیو کو موسیقی کے ساتھ شیئر کرنا ایک آفاقی تصور ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہرکسی کو اسے استعمال کرنے میں دلچسپی ہے۔‘

انڈسٹری ماہرین کہتے ہیں کہ ریلز متعارف کروا کر انسٹاگرام پہلے سے اپنے پاس موجود بڑی تعداد میں صارفین کی بنیاد پر مالی فوائد حاصل کر سکتا ہے اور مالی فائدہ کے لیے فارمیٹ کو ایسی شکل دے سکتا ہے جو ٹک ٹاک کے لیے ممکن نہیں۔

سوشل میڈیا مارکیٹنگ فرم کے چیف ایگزیکٹیو افسر یووال بن اسحاق نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ’جہاں تک نوجوان صارفین کی ٹک ٹاک میں دلچسپی کا تعلق ہے تو اشتہارات سے ہونے والی آمدن کے اعتبار سے لاسو کے مقابلے میں انسٹاگرام ریلز ٹک ٹاک کی خواہشات کے لیے کہیں بڑا حقیقی خطرہ ہے۔‘

’انسٹاگرام کے پاس ٹک ٹاک کی نسبت موسیقی کے ساتھ مختصر ویڈیوزکی بدولت اشتہارات سے پیسے کمانے کے کہیں زیادہ مواقعے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی