وہ دیکھ کبیرا رویا

جن کے دل خان صاحب کے لیے اب بھی نہیں پسیجے وہ حویلیاں میں ہزارہ موٹر وے کی افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم کا خطاب سن لیں، وہ ایک دبی ہوئی چیخ تھی۔

یہ کالم تو خان صاحب کیا ہی پڑھیں گے، انہیں کوئی خواجہ آصف کا وہ ویڈیو کلپ بھیج دے جس میں خواجہ صاحب نے بڑی خوبصورتی سے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جو اقتدار میں ہوتا ہے وہ حالات سے آگاہ سب سے کم ہوتا ہے (اے ایف پی فائل)

ریاست میں سب سے تنہا، سب سے اکیلا  حاکم وقت ہوتا ہے، وہ کسی کے کان میں سرگوشی بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ ہر صدا پہ کان لگے ہیں۔ حاکم  چاہے بھی تو کسی پہ اندھا بھروسہ نہیں کرسکتا، وہ کسی کو اپنا یار دوست جگر کہہ بھی دے مگر اسے خوب پتہ ہوتا ہے کہ اس کے وزیروں، مشیروں، جرنیلوں اور محافظوں میں کون اپنا ہے کون پرایا، یہ تو موئی مصلحت ہی ہے جو اسے کھائے جاتی ہے۔

یہ حاکم جسے کہنے کو بادشاہ بھی کہہ لیجیے بڑا ہی بیچارہ ہوتا ہے، وہ  وزیروں کی سنتا ہے، مشیروں کی سنتا ہے، جوتشیوں عاملوں نجومیوں پیروں فقیروں کی سنتا ہے، دنیا بھر کے حکمرانوں کی سنتا ہے اس کے چاروں طرف کہنے والے اتنے منہ ہوتے ہیں اور سننے کے لیے اتنا شور ہوتا ہے کہ اس کے دو عدد کانوں کے درمیان موجود مغز شاذ و نادر ہی استعمال ہو پاتا ہے۔

میرے خیال میں اگر تسلی سے کھنگالا جائے تو دنیا کے اکثر حکمران کٹھ پتلی ہی ہوتے ہیں کہیں ڈوریں گنجلک سسٹم کے ہاتھ میں ہوتی ہیں کہیں سیاسی و فوجی اشرافیہ کے ہاتھ میں۔ یہ ڈوریں اتنی عمدگی سے الجھائی گئی ہوتی ہیں کہ سمجھنا مشکل ہوتا کہ اب ڈور کس نے ہلائی اب رسی کس نے کھینچی۔ یہ کٹھ  پتلیوں جیسے حاکم دراصل ان دیکھی قوتوں کے وہم عنکبوت سے بُنے ہوتے ہیں، یہ تعریفوں کے کھمبے پہ چڑھائے ہوئے وہ بیچارے ہوتے ہیں جنہیں خود بھی علم نہیں ہوتا کہ ان کی گڈی اتنی اونچی کیوں اڑ رہی ہے، پکے تختوں پہ بیٹھے کچے کان والے بادشاہ اتنا کچھ سن چکے ہوتے ہیں کہ یہ اپنی سی کہنے اور اپنی سی کرنے کی صلاحیت ہی کھو دیتے ہیں۔

حاکم وقت اپنے وقت کے ارسطوؤں میں گھرا ہوتا  ہے مگر اسے منطق سجھائی نہیں دیتی، اسے اپنے زمانے کے بہترین لکھاری ادیب شاعر بھی میسر ہوتے ہیں مگر وہ  خود کو ادب و تہذیب سے عاری پاتا ہے۔ وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتا کہ وہ ہارنا چاہتا ہے کیونکہ وہ بادشاہ تب ہی کہلائے گا اگر جیت اس کی باندی بنی رہے۔ وہ  یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس کے رفقا اسے دھوکہ دیتے ہیں کیونکہ دنیا کے سامنے بادشاہ وہی ہے جو عقل کل ہوتا ہے، وہی جو ظل الٰہی ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سچ  پوچھیں تو ہمیں بھی اپنے حاکم وقت یعنی خان صاحب پر غیض و غضب کے تیر و نشتر برسانے سے گریز کرنا چاہیے۔ بلکہ انہیں سسٹم کا مارا بیچارہ سمجھ کر اگر آپ اور ہم ان سے ہمدردی کریں تو ثواب بھی ملے گا اور سکون بھی۔ میں آج بھی ان لوگوں سے اتفاق کرتی ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کا طریقہ بے شک ناکام سہی مگر اس ملک کے لیے ان کی نیت اچھی ہے۔

کتنا دشوار ہے وزیراعظم کو ایک مشورہ دینا، اس پر عمل کروانا، اور جب تدبیر الٹی پڑ جائے تو کابینہ کے اجلاس میں منہ لٹکائے، گال پُھلائے، اور سر جھکائے دو چار باتین سن لینا۔ سو حاکم کے حواری آج کل یہی سب کررہے ہیں۔

جن کے دل  خان صاحب کے لیے اب بھی نہیں  پسیجے     وہ حویلیاں میں ہزارہ  موٹر وے کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کا خطاب سن لیں،   وہ ایک دبی ہوئی چیخ تھی ، وہ اک جھنجلائے ہوئے بادشاہ کی تقریر تھی  جو اپنے وزرا اور مشیروں کے شور سے بہرہ ہوا جاتا ہے، جس کی ڈوریں کھینچ کھینچ کر سسٹم نے اسے ادھ موا کردیا ہے، جسے الجھی گتھیوں کے سرے ڈھونڈنے میں شدید ناکامی کا سامنا ہے۔

جب  وزیراعظم صاحب بلاول بھٹو کے لہجے کی نقل اتار رہے تھے تو ان کی حکمرانی کے  ڈیڑھ سال کے بعد ایسا لگا کہ آج  کبیرا بڑے ضبط کے بعد  ٹوٹ گیا ہے، کبیرا چھلک گیا ہے، آج کبیرا رو دیا ہے۔ خان صاحب کو دھیرے دھیرے سمجھ آرہی ہے کہ سیاست ریاست اور حکومت میں سارے فتنے ’کیوں‘، ’کیا‘ اور ’نہیں‘ کے بوئے ہوئے ہوتے ہیں۔

یہ کالم تو خان صاحب کیا ہی پڑھیں گے، انہیں کوئی خواجہ آصف کا وہ ویڈیو کلپ بھیج دے جس میں خواجہ صاحب نے بڑی خوبصورتی سے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جو اقتدار میں ہوتا ہے وہ حالات سے آگاہ سب سے کم ہوتا ہے، ان کو تب پتہ لگے گا جن ان کے اوپر چھت گرے گی۔

 پانامہ کیس کے فیصلے، ملک بھر میں کامیاب جلسے اور ڈی چوک کے دھرنے سے جس یقین کا راستہ خان صاحب نے طے کیا تھا اس سے وہ بہت تیزی سے واپس آرہے ہیں۔ ذرا سوچیں موٹر وے کا سب سے بڑا نقاد نجانے کس دل سے ہزارہ موٹر وے کا فیتہ کاٹ رہا ہوگا، این آر او کے خلاف بے دھڑک  بیان دینے والا کس نظر سے قطر ائیر لائن کے وی آئی پی جہاز کو اڑتا دیکھ رہا ہوگا، آئی ایم ایف کو قرضوں کا دلدل کہنے والا کیسے جبڑے اکڑا کر آئی ایم ایف کی سرابراہ سے ملتا ہوگا، کنٹینر کی اونچائی سے سیاست کا عروج پانے والا کس حوصلے سے مولانا کے کنٹینر جھیلتا ہوگا۔ 

خان صاحب دیکھتے رہے شہباز شریف کسی شہباز کی طرح شکاری کے پنجے سے اس کا شکار چھین کے لے اڑے، خان صاحب موٹر وے کا فیتہ کاٹتے رہ گئے اور نواز شریف  اپنے ساتھ احتساب کے حساب کی کتاب لے گئے۔  خان صاحب کے عزم کے دہکتے ہوئے انگاروں پہ مایوسی کے چھینٹے آہستہ آہستہ مارے جارہے ہیں، مایوسی میں جو کچھ نہ ہوسکے تو روٹھنا اپنے بس میں ہے۔ سو شام ہوتی ہے تو وہ بس روٹھ لیا کرتے ہیں۔

گئے وقتوں میں سنا ہے تان سین کے سُربادشاہ کا موڈ بدل دیتے تھے آج روٹھے روٹھے سے خان صاحب وزیر اعظم کی کرسی پہ بیٹھے ہیں، انہیں فردوس عاشق صاحبہ کی دھواں دھار پریس کانفرنسوں، شیخ رشید کے چٹکلوں، مراد سعید کی بھبکیوں، وزرا کی ٹویٹوں اور چند ملاقاتوں میں لگنے والے سیلوٹوں سے بہلانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ خیر ان ملاقاتوں پر خان صاحب کے لیے استاد جون ایلیا اک شعر لکھ گئے ہیں۔

اب تو تم شہرکے آداب سمجھ لو جانی

جو ملا ہی نہیں کرتے وہ ملا کرتے ہیں

فی الحال خان صاحب کے لیے اقبال کے فلسفہ خودی سے سرشار اشعار  بھول کر جون ایلیا کے فلسفہ خود  شناسی و خود تباہی کو سمجھنا ذرا مشکل ہے، وقت  بڑا استاد ہے، یہ خان صاحب کی پہلی بار سرکار ہے، وقت گزرے گا تو  انہیں جون ایلیا کی شاعری بھی سمجھ آنے لگے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ