فارن فنڈنگ:’فیصلہ الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ سےقبل ہوناچاہیے‘

فارن فنڈنگ کیس کے مدعی اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو ہی اس کیس کا فیصلہ کرنا چاہیے کیوں کہ وہ پانچ سال سے اس کیس کو دیکھ رہے ہیں، اگر ہمارے حق میں فیصلہ نہیں آتا تو ہم قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

فارن فنڈنگ کیس کے مدعی اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو ہی اس کیس کا فیصلہ کرنا چاہیے کیوں کہ وہ پانچ سال سے اس کیس کو دیکھ رہے ہیں، اگر ہمارے حق میں فیصلہ نہیں آتا تو ہم قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف فیصلہ دینے پر ہی جسٹس وجیہ کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ عمران خان مدینے کی ریاست کی بات کرتے ہیں لیکن خود کو جواب دہ نہیں سمجھتے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ ’ یہ کیس بنیاد ہے اس سوال کی کہ جب آپ خود ایماندار نہیں ہیں تو آپ باقیوں پر کس طرح سے تنقید کر سکتے ہیں۔ آپ کو حق نہیں کہ آپ خود بددیانت ہو کر باقی لوگوں پر تنقید کریں۔ جب آپ خود سے احتساب شروع نہیں کرتے تو باقیوں کے خلاف احتساب سے انتقام کی بو آتی ہے۔‘

فارن فنڈنگ کیس کے مدعی اکبر ایس بابر نے کہا کہ ’یہ صرف میرا مشن نہیں ہے بلکہ یہ پوری قوم کا مشن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد کی یہ شرط تھی کہ وہ تمام اصول جو ہم دوسروں پر لاگو کرنے کا کہتے ہیں سب سے پہلے خود پر لاگو کریں۔ دوسروں کی کردار کشی اور ان پر کیچڑ اچھالنا بہت آسان ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم نے تحریک انصاف ایک رول ماڈل جماعت کے طور پر بنائی تھی۔ ہمیں اقتدار حاصل کرنے کی جلدی نہیں تھی۔ عمران خان جنرل پروز مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کی لیکن ہم نے مخالفت کے باوجود عمران خان کو موقع دیا۔ بعد میں عمران خان نے خود اس پر ندامت کا اظہار کیا۔ مخالفت کرنے والوں میں میرے ساتھ معراج محمد خان اور حامد خان بھی شامل تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عمران خان خود میرے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ میں ’بروٹلی آنسٹ‘ انسان ہوں۔ میں انہیں کہتا تھا کہ عمران خان آپ سیاست کے لیے فٹ نہیں ہیں، آپ دو تین لوگوں کی ایک کونسل بنا لیں اور ان سے مشاورت کر کے فیصلے لیا کریں۔‘

اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ ’عمران خان خود کہتے ہیں کہ ان کی جماعت میڈیا کی مرہون منت ہے تو ان مشکل سالوں میں میڈیا کو میں ہینڈل کر رہا تھا۔ عمران خان خود چار چار ماہ باہر گھوم رہے ہوتے تھے ان کی غیر موجودگی میں ہم پارٹی چلاتے تھے۔‘

ان کے مطابق وہ اور عمران خان بہت قریب تھے، عمران خان کہا کرتے تھے اگر میں اپنے راستے سے ہٹ گیا تو اکبر تم میرے سامنے کھڑے ہو جانا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ ’پارٹی کی اعلیٰ قیادت ریئل سٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہے، ہنڈی کے ذریعے پیسہ آ رہا ہے، ملازمین کے نجی اکاؤنٹس میں پیسہ آ رہا ہے۔ میں نے یہ تمام باتیں عمران خان پر بھروسہ کر کے انہیں لکھ کر دیں۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ اختلاف صرف پارٹی معاملات پر تھے یا کوئی ذاتی اختلاف بھی تھا تو اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ میں عمران خان کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ میں صرف اپنی جماعت کو اس کے مقصد کی جانب واپس لے کر جانا چاہتا ہوں۔ حکومت کی ایک سال کی کارکردگی اس کے بالکل الٹ تھی جیسے ہم نے سوچا تھا۔ عمران خان 2011 سے اقتدار کے پیچھے لگ کر اپنے اصول چھوڑ چکے ہیں۔ عمران خان خود اپنے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ عمران خان کی کابینہ میں تحریک انصاف ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔‘

اکبر ایس بابر نے مزید کہا کہ فارن فنڈنگ کا معاملہ 2011 میں سامنے آنے کے بعد ہم نے کوشش کی کہ پارٹی کے اندر جسٹس وجیہ الدین احمد کی سربراہی میں ایک کمیٹی اس کی تحقیق کرے۔ ہمارا مطالبہ تھا کہ چیئرمین اس تحقیقات میں دخل اندازی نہیں کرے گا۔ 2013 میں انہوں نے اپنے جان پہچان والے لوگوں سے سپیشل آڈٹ کرایا جس میں میرا موقف ثابت ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے الزامات تھے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کرپشن میں ملوث ہے۔ لیکن اس سلسلے میں پارٹی کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا جس کے بعد میں نے نومبر 2014 میں یہ کیس دائر کیا۔ اس کیس میں مجھے چار سال لگے اور الیکشن کمیشن نے 24 حکم نامے جاری کیے جن میں تحریک انصاف کو مالی معاملات کی تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا۔‘

’مجھے پارٹی سے نکالنے کا بھی اسی لیے کہا گیا کہ میں ان مالی معاملات سے دور رہ سکوں۔ میں ابھی تک تحریک انصاف کا رکن ہوں اور میں پارٹی کو اپنی بنیاد کی جانب واپس لے کے جاؤں گا۔ ہم انہیں اصولوں پر کھڑے ہیں جن پر ہم نے پارٹی بنائی تھی جبکہ عمران خان ان اصولوں سے بغاوت کر چکے ہیں۔ ہم نے سیاست میں بادشاہتیں ختم کرنی تھیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان