طورخم بارڈر کی بندش کے خلاف لنڈی کوتل بازار میں سیاسی و سماجی شخصیات، تاجر برادری، کسٹم کلیئرنس ایجنٹس، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز، لنڈی کوتل بازار کے دکانداروں اور عوام نے اتوار کو احتجاج کیا۔
احتجاجی جلسے میں شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طورخم بارڈر کو تجارتی سرگرمیوں اور پیدل آمدورفت کے لیے فوری طور پر بحال کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
خیبر سیاسی اتحاد کے صدر اور جماعت اسلامی لنڈی کوتل کے امیر مراد حسین آفریدی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بارڈر نہ کھولا گیا تو باب خیبر، پشاور پریس کلب اور گورنر ہاؤس کے سامنے بھی احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔
احتجاجی جلسے میں شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طورخم بارڈر کھولنے کے حوالے سے افغانستان کے ساتھ واضح لائحہ عمل طے کیا جائے اور بارڈر کو تجارتی سرگرمیوں اور پیدل آمدورفت کے لیے بحال کیا جائے۔
لنڈی کوتل تحصیل کے چیئرمین شاہ خالد شینواری نے کہا کہ تین ماہ سے دیگر سرحدات کی طرح طورخم بارڈر پر بھی تجارت اور آمدورفت بند ہے، جس سے سرحد کے دونوں جانب مقامی لوگ بالخصوص اور پورا خطہ بالعموم شدید متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں جبکہ حکومت کو اس حوالے سے کوئی فکر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی افغانستان میں جاری جنگ کے دوران بھی یہ بارڈر اتنی طویل مدت کے لیے بند نہیں رہا، لیکن دونوں ممالک کی ہٹ دھرمی نے سرحد کے دونوں جانب عوام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک سے مذاکرات کے ذریعے بارڈر کھولنے کا مطالبہ کیا۔
طورخم بارڈر پر کسٹم کلیئرنس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری نے بتایا کہ اس پورے خطے کا دارومدار طورخم بارڈر پر ہے اور بارڈر بندش کی وجہ سے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ متاثر ہو چکے ہیں، جس کے باعث اب ہر مکتبہ فکر کے افراد احتجاج میں شریک ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مجیب شینواری کے مطابق طورخم بارڈر کی بندش کے باعث ایکسپورٹ کی مد میں قومی خزانے کو یومیہ 2.5 ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ امپورٹ کی مد میں 540 ملین روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، اور یہ اعدادوشمار مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والوں نے دونوں ممالک کے حکام سے اپیل کی کہ مذاکرات کے ذریعے بارڈر کھولا جائے تاکہ دونوں جانب ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ 11 اور 12 کی درمیانی شب سے دیگر بارڈرز کی طرح طورخم بارڈر بھی تجارت اور آمدورفت کے لیے بند ہے۔ تین ماہ پورے ہونے کو ہیں، لیکن تاحال بارڈر کھولنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
تاہم طورخم بارڈر پر افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔