سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو کون سی خطرناک بیماری لاحق ہے؟

پرویز مشرف کی پارٹی کے عہدے داروں کے مطابق سابق صدر کی بیماری نے ان کے اعصابی نظام کو بھی متاثر کیا ہے اور انہیں چلنے پھرنے میں دقت پیش آتی ہے۔

آل پاکستان مسلم لیگ کے ذرائع کے مطابق سابق صدر مشرف ایمائڈوسس نامی بیماری میں مبتلا ہیں (اے پی ایم ایل)

لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔ یہ درخواست اس خصوصی عدالت کے محفوظ کردہ فیصلے کے خلاف ہے جس میں ان پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔

76 سالہ جنرل مشرف کے وکلا کا موقف یہ ہے کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں اپنا موقف عدالت میں پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور وہ صحت یاب ہو کر ایسا ہی کریں گے۔

گذشتہ برس پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے اورسیز صدر افضال صدیقی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ سابق صدر کو ایک نادر بیماری لاحق ہے جس کا نام ایمالوئڈوسس (amyloidosis) ہے۔ یہ بیماری کتنی عام ہے اور اس کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

ایمالوئڈوسس ایسی بیماری ہے جس میں پروٹین کے مالیکیول درست طریقے سے تہہ نہیں ہوتے اس لیے اپنا کام نہیں کر پاتے۔

اسے یوں سمجھیے جیسے کسی ورق کو آپ مختلف طریقوں سے تہہ کر کے ان سے مختلف کام لے سکتے ہیں۔ اس سے جہاز بنا کر ہوا میں اڑا سکتے ہیں یا پھر کشتی بنا کر پانی میں چھوڑ سکتے ہیں۔ کاغذ وہی ہے لیکن اس کے تہہ کرنے کے طریقے سے اس کی شکل اور کام بدل جاتا ہے۔

پروٹین کے مالیکیول بھی کچھ اسی طریقے سے کام کرتے ہیں۔ وہ صرف اسی صورت میں اپنے مختلف افعال سرانجام دے سکتے ہیں اگر وہ درست طریقے سے فولڈ ہوئے ہوں، ورنہ وہ مقررہ کام ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

ایمالوئڈوسس میں بھی یہی ہوتا ہے کہ پروٹین کا مالیکیول بنتا تو درست طریقے سے ہے، لیکن فولڈنگ میں گڑبڑ ہو جاتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ناکارہ ثابت ہوتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پروٹین جسم میں کرتی کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے: سب کچھ۔ مختصراً یہ کہ جسم جو بھی کام کرتا ہے، اس میں پروٹین انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں، چاہے وہ دل کا دھڑکنا ہو، پھیپھڑوں کا سانس لینا ہو، گردوں کا خون صاف کرنا، یا دماغ کا سوچنا، کوئی بھی کام پروٹین کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

جیسا کہ اوپر آیا ہے، ایمالوئڈوسس وہ بیماری ہے جس میں پروٹین درست طریقے سے تہہ نہیں ہو پاتی۔ ایسی ناکارہ پروٹین چونکہ مقررہ کام نہیں کر سکتی اس لیے وہ اعضا میں جا کر جمع ہونے لگتی ہے۔ ایسے ہی جیسے لوہے کے کسی آلے پر زنگ چڑھتا جائے تو وہ خراب ہو جاتا ہے، جب کسی عضو میں فالتو پروٹین جمنے لگے تو وہ کام چھوڑ دیتا ہے۔

ایمالوئڈوسس میں یہ تہیں زیادہ تر گردوں اور دل پر جمتی ہیں جس سے وہ ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

جنرل مشرف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے دل میں ناکارہ پروٹین جمع ہو رہی ہے۔ اگر علاج نہ کیا جائے تو اس مرض کا مریض چند مہینوں سے لے کر ایک سال تک کا مہمان ہوتا ہے۔

لیکن ایمالوئڈوسس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ ایسا علاج تو نہیں کہ پروٹین کی تہہ درست طریقے سے بنے، لیکن یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اس سے قبل کہ ناکارہ پروٹین اعضا کو ’زنگ آلود‘ کرنا شروع کر دے، اسے جسم کے خارج کر دیا جائے۔

ایمالوئڈوسس کوئی ایک بیماری ہے۔ چونکہ جسم میں پروٹینز مختلف قسم کی ہوتی ہے، اس لیے ان کے اندر خرابی سے مختلف قسم کی ایمالوئڈوسس لاحق ہو سکتی ہے۔ فی الوقت ڈاکٹروں نے 30 اقسام کی ایمالوئڈوسس شناخت کر رکھی ہیں۔

چونکہ اس مرض کی بہت سی قسمیں ہیں، اس لیے اس کا علاج بھی قسم کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ کچھ مریضوں کا علاج سٹیم سیل تھیراپی سے بھی ہو سکتا ہے۔ جن مریضوں میں کیموتھیراپی ممکن نہ ہو، ان کی کیموتھیراپی کی جاتی ہے۔

افضال صدیقی نے اس سال کے شروع میں بتایا تھا کہ سابق صدر کی بیماری نے ان کے اعصابی نظام کو بھی متاثر کیا ہے اور انہیں چلنے پھرنے میں دقت پیش آتی ہے۔

پرویز مشرف کے وکلا کے مطابق ان کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ پاکستان آ کر مقدمات کا سامنا کریں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2007 میں پاکستان کا آئین معطل کیا تھا اور اس سلسلے میں ان پر 2014 میں فردِ جرم بھی عائد کی گئی تھی، تاہم وہ 2016 میں علاج کی غرض سے ملک سے باہر چلے گئے تھے اور تاحال واپس نہیں آئے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی صحت