مریم نواز کہاں ہیں اور کیوں خاموش ہیں؟

مریم نواز لندن جانے کے لیے کچھ ہی دنوں میں پاسپورٹ واپس لینے کی خاطر عدالت سے رجوع کریں گی: ن لیگی رہنما۔

مریم نواز کے ٹوئٹر پر53 لاکھ فالوورزہیں، ان کی آخری ٹویٹ اگست میں سامنے آئی تھی (اے ایف پی)

تقریباً ایک ہفتہ قبل جب سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کے غرض سے لندن جانے کے لیے لاہور میں اپنے گھر سے روانہ ہوئے تو ان کی بیٹی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا چہرہ آخری مرتبہ ٹی وی سکرینز پر نظر آیا۔

کبھی مریم سیاسی طور پر کافی سرگرم ہوا کرتی تھیں، وہ نہ صرف نیوز چینلز بلکہ ٹوئٹر پر بھی سرگرم تھیں۔

تقریباً روزانہ ہی ٹوئٹس کرنے والی مریم کی آخری ٹویٹ اگست میں دیکھی گئی۔

انہیں آٹھ اگست کو قومی احتساب بیورو ( نیب) نے چوہدری شوگر مل کیس میں گرفتار کیا۔ چار نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔

والد کی بیرون ملک روانگی کے بعد سے مریم سیاسی منظر نامے سے بالکل غائب ہیں۔

ن لیگ کے کارکنوں کا ردعمل

ن لیگ کے ایک  کارکن رمیز سندھونے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں خواہش ظاہر کی کہ اِس وقت پارٹی کی مرکزی قیادت ملک سے باہر ہے اور لیڈر شپ میں صرف مریم پاکستان میں موجود ہیں لہذا انہیں باہر نکلنا چاہیے۔

’ایک طرف ملک کے خراب معاشی حالات ہیں تو دوسری جانب آرمی چیف کی تعیناتی کا مسئلہ ہے۔ ملک کی بدنامی ہو رہی ہے، عوام بھی بدحال اور پریشان ہیں۔ ایسے میں مریم ہی امید کی ایک کرن نظر آتی ہیں۔ انہیں عوام کے سامنے آکر بات کرنی چاہیے۔‘

آخر مریم  کہاں ہیں اور کیوں خاموش ہیں؟

انڈپینڈنٹ اردونے یہی جاننے کے لیے کہ مریم  کہاں ہیں اور کیوں خاموش ہیں،  ن لیگی  رہنماؤں سے رابطے کیا۔

پارٹی کی سیکریٹری انفارمیشن پنجاب عظمیٰ بخاری نے بتایا مریم کہیں غائب نہیں، بس وہ والد اور چچا کی غیر موجودگی میں اپنی دادی کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔

’ان کی دادی بہت ضعیف ہیں اور نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ گذشتہ ڈیڑھ، دو سال سے جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے ان کی صحت دن بدن بگڑ رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ مریم کی اپنی بھی طبعیت ٹھیک نہیں، ان کو بلڈ پریشر اور گردن کے مہروں میں مسئلہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عظمی بخاری کہتی ہیں: ’ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ اِس وقت شدید ذہنی اذیت سے گذر رہی ہیں، انہیں شدید پچھتاوا ہے کہ وہ اپنی والدہ کو آخری وقت مل نہیں سکیں کیونکہ وہ جیل میں تھیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا مریم لندن میں جاری اپنے والد کے علاج کے معاملے پر اپنے بھائیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ مریم کی فی الحال ترجیح ہے کہ وہ عدالت سے اپنا پاسپورٹ واپس لیں اور لندن میں اپنے والد کی دیکھ بھال کریں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنا پاسپورٹ واپس لینے کے لیے اگلے چند روز میں عدالت سے رجوع کریں گی۔’ان کی اپنی صحت بھی ٹھیک نہیں۔ جیل میں والد کی بیماری کی وجہ سے انہوں نے بہت زیادہ ذہنی دباؤ لیا۔‘

 انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جیل میں مریم نواز کے کندھے پر کیڑے کے کاٹنے سے انفیکشن ہے اور وہ شدید تکلیف میں ہیں، شاید انہیں سرجری کی ضرورت پڑ جائے۔

نواز شریف کا لندن میں علاج کہاں تک پہنچا؟

عظمیٰ بخاری نے سابق وزیر اعظم کے لندن میں جاری علاج کے حوالے سے بتایا کہ ابھی ان کے ٹیسٹ چل رہے ہیں۔’سفر سے پہلے انہیں جو سٹیرائیڈز دی گئی تھیں ان کا اثر زائل نہیں ہوا، اسی لیے ڈاکٹر چاتے ہیں کہ ان کے جسم سے سٹیرائیڈز کے اثرات زائل ہونے کے بعد ٹیسٹ کیے جائیں۔‘

’میاں صاحب کی تین سے چار  ڈاکٹرز کے، جن میں دل اور پلیٹ لیٹس کے ڈاکٹرز شامل ہیں، ساتھ ملاقاتیں طے ہو چکی ہیں۔ تین، چار ڈاکٹرز انہیں دیکھ چکے ہیں اور ان کا ایک شیڈول بنایا گیا ہے۔ کل ان کاایک بلڈ ٹیسٹ ہوگا، جس سے ان کے دل کی حالت معلوم ہو گی۔ اس کے بعد ہی ڈاکٹر بتائیں گے کہ ان کا علاج لندن میں جاری رکھنا ہے یا کہیں اور شفٹ کرنا ہے۔‘

ن لیگ کے  سینیئر رہنما نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دوائیوں کی وجہ سے نواز شریف کا مزاج چڑ چڑا ہو گیا ہے اور وہ شدید نقاہت محسوس کرتے ہیں، اسی لیے ان کی لوگوں سے ملاقاتیں انتہائی محدود کر دی گئی ہیں۔

’ابھی ان کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں لیکن ان میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی۔ یہ جاننے کے لیے کہ ان کے پلیٹ لیٹس میں کمی کیوں واقع ہو رہی ہے مزید ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ کچھ ٹیسٹس کے نتائج آنے کے بعد معالج فیصلہ کریں گے کہ ان کا علاج لندن میں ہو گایا انہیں امریکہ بھیج دیا جائے۔ ‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست