قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قائد حزب اختلاف کی تقرری کا آئینی عمل آئندہ پارلیمانی اجلاس میں شروع کر دیا جائے گا، جس کے بعد پارلیمان کے ایوان زیریں میں اس اہم آئینی عہدے کو باضابطہ طور پر پر کیا جا سکے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد میں پیر کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
تحریک انصاف کے ایک مرکزی رہنما عمر ایوب اس سے قبل قائد حزب اختلاف تھے لیکن نو مئی کے مقدمات میں انہیں سزا سنائی گئی جس کے بعد وہ نا اہل قرار پائے اور 5 اگست 2025 سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی ہے۔
تحریک انصاف نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف مقرر کرنے کے لیے قومی اسمبلی درخواست جمع کروا رکھی ہے اور سپیکر سے کہا گیا ہے کہ وہ قائدِ حزب اختلاف مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔
سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ ’اپوزیشن ارکان کے دستخطوں کی تصدیق کے بعد مزید کارروائی آگے بڑھے گی۔‘
قائد حزب اختلاف کا عہدہ پاکستان کے پارلیمانی نظام میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔ آئین کے مطابق حزب اختلاف کا انتخاب قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی اکثریتی حمایت سے کیا جاتا ہے، جس کے بعد سپیکر اس تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی بات کی تھی جسے اپوزیشن اتحاد نے قبول کیا ہے۔
تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے مذاکرات کی قیادت محمود خان اچکزئی کریں گے۔ محمود خان اچکزئی پوزیشن جماعتوں کا اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے بھی سربراہ ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اپوزیشن اتحاد نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل، سیاسی اور معاشی بحران، امن و امان اور گورننس کے فقدان سے نکالنے کے لیے ایک نئے میثاق کی اشد ضرورت ہے۔
حزب اختلاف کے اتحاد کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’نئے میثاق میں اپوزیشن مستقبل میں شفاف انتخابات، متفقہ نئے الیکشن کمشنر کے تقرر، پارلیمانی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کی پاسداری، آئینی اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔‘
اس بیان میں عمران خان کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اگر پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں 1973 کے آئین کی بحالی، پارلیمانی اور سویلین بالادستی، اور تمام اداروں کے آئینی حدود سے تجاوز نہ کرنے پر اتفاق کرتی ہیں تو عمران خان کے نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اٹھاتے ہیں۔
