فیاض الحسن چوہان کی تقرری: میاں اسلم اقبال کیا کہتے ہیں؟

میاں اسلم اقبال نے انڈپینڈنٹ اردوسے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب چند ماہ قبل صمصام بخاری کو ہٹا کر انہیں وزارت اطلاعات کا اضافی چارج دیا گیا تھا تو انہوں نے اسی وقت وزیر اعلی پنجاب کو تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا کہ وہ اتنی زیادہ ذمہ داری ادا نہیں کرسکتے۔

میاں اسلم اقبال نے کہا کہ ’وزیر اطلاعات کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ کامیاب ہوں۔ جو ذمہ داری انہیں سونپی گئی اسے بہتر انداز میں نبھائیں۔‘ (تصویر: سوشل میڈیا)

پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نے ڈیڑھ سال میں نہ صرف بڑے پیمانے پر بیوروکریسی میں اکھاڑپچھاڑ کی ہے بلکہ وزارت اطلاعات کے عہدے پر بھی کسی ایک وزیر کی تعیناتی مستقل نہیں ہو پا رہی۔

یہی وجہ ہے کہ صوبائی وزارت اطلاعات کے عہدے پر فیاض الحسن چوہان کو دوسری بار تعینات کردیا گیا جب کہ صمصام بخاری اور میاں اسلم اقبال کو بھی مختلف اوقات میں حکومت کا دفاع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ان کے علاوہ شہبازگل کو بھی وزیر اعلی پنجاب کا ترجمان بنایا گیا تھا۔

میاں اسلم اقبال وزارت اطلاعات سے کیوں علیحدہ ہوئے؟

صوبائی وزیر کامرس اینڈ انڈسٹری میاں اسلم اقبال نے انڈپینڈنٹ اردوسے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب چند ماہ قبل صمصام بخاری کو ہٹا کر انہیں وزارت اطلاعات کا اضافی چارج دیا گیا تھا تو انہوں نے اسی وقت وزیر اعلی پنجاب کو تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا کہ وہ اتنی زیادہ ذمہ داری ادا نہیں کرسکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں وزارت اطلاعات عارضی طور پر دی گئی تھی۔ اب انہوں نے نے دوبارہ پارٹی قیادت سے درخواست کی تھی کہ ان کی مصروفیات کی وجہ سے ان کا انتخابی حلقہ متاثر ہو رہا ہے کیوں کہ وہ اپنے ووٹر سپورٹرز کو وقت نہیں دے پا رہے لہذا یہ اضافی چارج کسی اور وزیر کو سونپ دیا جائے، جس پر وزیر اعلی پنجاب نے یہ ذمہ داری دوبارہ فیاض الحسن چوہان کے سپرد کر دیں۔ ان کی دوبارہ تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

میاں اسلم اقبال نے کہا کہ ’وزیر اطلاعات کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ کامیاب ہوں۔ جو ذمہ داری انہیں سونپی گئی اسے بہتر انداز میں نبھائیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ان سے پوچھا گیا کہ حالیہ دورہ لاہور میں وزیر اعظم عمران خان نے انہیں میڈیا انڈسٹری سے صحافیوں کی جبری برطرفیوں کی تحقیقات کی جو ذمہ داری تفویض کی تھی، اس کا کیا بنےگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ذمہ داری بطور وزیر اطلاعات دی گئی تھی جو اب نئے مقرر ہونے والے وزیر کی ذمہ داری ہوگی۔

فیاض الحسن چوہان کو پہلے ہٹانے اور دوبارہ تعینات کرنے کی وجہ کیا ہے؟

سیاسی حلقوں میں فیاض الحسن چوہان جو صوبائی وزیر کالونیز بھی ہیں ان کے دوبارہ اطلاعات کے شعبہ میں لائے جانے پر چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ حکمران جماعت نے اقتدار سنبھالتے ہی پنجاب میں فیاض الحسن کو وزیر اطلاعات بنایا تھا لیکن ان کی بے جا تنقید اور مخالفین کے خلاف سخت بیان بازی پر اپوزیشن تو کیا حکومتی اراکین نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

وزارت اطلاعات کے عہدے پر آتے ہی ابتدا میں فیاض الحسن چوہان نے اپوزیشن پر تو لفظی حملے کیے ہی لیکن ساتھ ہی دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف بھی بیان بازی جاری رکھی۔ سب سے پہلے انہوں نے اداکارہ نرگس کے خلاف بیان دیا تو ان کے ردعمل پر معافی مانگنا پڑی، اس کے بعد صحافی برداری سے بدتہذیبی پر ان کا بائیکاٹ جاری رہا تو ان سے بھی معذرت کرنا پڑی۔

لاہور میں اقلیتوں سے متعلق نازیبا بیان بازی پر ہندوبرادری نے شدید ردعمل کا اظہار کیا نیز پی ٹی آئی پنجاب کے کئی وزرا اور رہنماؤں نے بھی ان کی غیر محتاط بیان بازی پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں اس وزارت سے الگ ہونا پڑا تھا۔ 

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے فیاض چوہان کو دوبارہ وزارت اطلاعات کے عہدے پر تعینات کرنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسرا وہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی پالیسیوں کی تشہیر اور دفاع کرنے کے لیے ایسا وزیر چاہیے تھا جو سیاسی بیان بازی میں سخت موقف رکھتا ہو۔

اس کے علاوہ فیاض الحسن چوہان بھی وفاقی وزیر فواد چودھری کی طرح وزارت اطلاعات کو پہلی ترجیح سمجھتے ہیں اسی لیے وزارت کالونیز ملنے کے باوجود انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب سمیت کئی پارٹی رہنماؤں سے متعدد بارخود درخواست کی کہ انہیں وزارت اطلاعات کا پورٹ فولیو دلوایا جائے اور بالآخر وہ اپنی خواہش کے مطابق وزارت دوبارہ واپس لینے میں کامیاب ہوگئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان