الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قائم مقام چیف کی تقرری متوقع

الیکشن کمیشن کے سربراہ اور دو دیگر اراکین کی تعیناتی پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے کی ناکامی کے باعث یہ آئینی تعیناتیاں آئندہ دو ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر اور اراکین الیکشن کمیشن کی تعیناتی آئین کی شق 213کے تحت حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کرتی ہے۔(تصویر: اے ایف پی)

الیکشن کمیشن کے سربراہ (چیف) اور دو دیگر اراکین کی تعیناتی پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے کی ناکامی کے باعث یہ آئینی تعیناتیاں آئندہ دو ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی ہیں۔

موجودہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) سردار رضا چھ دسمبر (جمعہ) کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ یعنی جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات بارہ بجے چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہو جائے گا۔

چیف الیکشن کمیشن کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی سربراہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے میڈیا کو بتایا کہ نئے چیف الیکشن کمیشن کی تعیناتی آئندہ دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

آئین پاکستان کی شق 218 کے تحت پارلیمان (قومی اسمبلی اور سینٹ)، صوبائی اسمبلیوں یا کسی بھی دوسرے پبلک آفس کے لیے انتخابات منعقد کرنے کی غرض سے ملک میں ایک الیکشن کمیشن قائم کیا جائے گا۔ جو اس کے سربراہ (چیف الیکشن کمشنر) کے علاوہ چار ( ہر صوبے سے ایک) اراکین پر مشتمل ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یعنی الیکشن کمیشن آف پاکستان مجموعی طور پر پانچ اراکین (بشمول چیف الیکشن کمشنر) پر مشتمل ہو گا۔

چیف الیکشن کمشنر اور اراکین الیکشن کمیشن کی تعیناتی آئین کی شق 213 کے تحت حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کرتی ہے۔

حکومت اور حزب اختلاف ہر عہدے کے لیے تین، تین نام تجویز کرتے ہیں۔ جن پر غور و غوض کے بعد کمیٹی حتمی فیصلے کا اختیار رکھتی ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف الیکشن کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی کے لیے پہلے ہی تین نام تجویز کر چکے ہیں جن میں ناصر محمود کھوسہ، اخلاق تارڑ اور جلیل عباس جیلانی شامل ہیں۔

جمعرات کو پاکستانی میڈیا میں تحریک انصاف حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے تین ناموں کا ذکر کیا گیا۔

اگرچہ تحریک انصاف یا حکومتی عہدیداروں نے اس متعلق تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا۔

حکومت کی جانب سے جو نام لیے جا رہے ہیں ان میں الیکشن کمیشن کے موجودہ سیکریٹری بابر یعقوب، اور دو سابق بیوروکریٹس عباس میکن اورعارف خان شامل ہیں۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے دو اراکین (سندھ سے عبدالغفور سومرو اور بلوچستان سے جسٹس ریٹائرڈ شکیل احمد بلوچ) اس سال جنوری میں ریٹائر ہو گئے تھے۔ اور تب سے یہ آئینی ادارہ تین اراکین پر مشتمل تھا۔ جن میں الیکشن کمیشن کے سربراہ کے علاوہ خیبر پختونخوا سے جسٹس (ریٹائرڈ) ارشاد قیصر اور پنجاب سے جسٹس (ریٹائرڈ) الطاف ابراہیم قریشی شامل ہیں۔

تاہم موجودہ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سبکدوشی اور نئے سربراہ کی تعیناتی نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن غیر فعال ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں پریکٹس کرنے والے وکیل اور آئینی ماہر عمران شفیق کے مطابق: جب الیکشن کمیشن کے اکثریتی اراکین نہیں رہتے تو یہ آئینی ادارہ اقلیت کے ساتھ کیسے کام کر سکے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت الیکشن کمیشن کے سربراہ اور اراکین کی تعیناتی کے عمل میں حکومت کو پہل کرنا ہوتی ہے۔

عمران شفیق کے خیال میں الیکشن کمیشن کے سربراہ اوراراکین کی تعیناتی کے سلسلے میں موجودہ ڈیڈ لاک کی ذمہ داری تحریک انصاف حکومت پر آتی ہے۔

عمران شفیق کے مطابق: جنوری میں دو اراکین کی سبکدوشی کے بعد حکومت کی ذمہ داری تھی کہ پارلیمانی کمیٹی بنانے اور اپنی طرف سے نام دیتی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ جس کے باعث آج اس ڈیڈلاک کا سامنا ہے۔

 حزب اختلاف کی جماعتیں الیکشن کمیشن کے اراکین اور سربراہ کی تعیناتی میں تاخیر کو حکومت کا دانستہ عمل قرار دیتے ہیں۔ جس کا مقصد قصدا الیکشن کمیشن کو غیر فعال بنانا تھا۔ تاکہ تحریک انصاف کے خلاف زیر سماعت اثاثوں کے مقدمے پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکے۔

تاہم تحریک انصاف اور حکومتی اہلکار اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے سابق صدر عارف چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور یہ غیر فعال نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ آئین پاکستان میں ایسی صورت حال کہ جس میں چیف الیکشن کمشنر نہ ہو کا حل موجود ہے۔

آئین کی شق 217 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں قائم مقام چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں نئے الیکشن کمشنر کا فیصلہ نہیں ہو سکا تو اس لیے آئین کی شق 218 کے تحت قائم مقام کی تعیناتی ہو گی۔

خیال رہے کہ بائیسویں آئینی ترمیم سے قبل یہ چیف جسٹس آف پاکستان کا اختیار تھا کہ اگر وہ چاہیں تو ادارے کو غیر فعال ہونے سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ کے کسی بھی حاضر سروس جج کو چیف الیکشن کمشنر کا اضافی چارج دے سکتے ہیں۔ 

لیکن 22ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا جج یا کوئی سینیئر جج قائم مقام چیف الیکشن کمشنر نہیں بن سکتا بلکہ الیکشن کمیشن کا سینیئر ممبر قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بننے کا اہل ہو گا۔ 

یاد رہے کہ پاکستان میں اس سے قبل بھی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر رہ چکے ہیں۔

سال 2013 میں جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم نے چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے استعفی دیا تھا۔ جس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار احمد چوہدری نے جسٹس تصدق حسین جیلانی کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر تعینات کیا تھا۔

تاہم ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی سبکدوشی کی تاریخ تک ان کے متبادل پر متفق نہ ہو سکی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان