مغوی دعا منگی گھر واپس آ گئیں

تیس نومبر کو اغوا ہونے والی دعا منگی کی گھر واپسی پر پولیس اور اہل خانہ کچھ بھی بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔

دعا کے اغوا کا واقعہ30 نومبر کی شب آٹھ بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے دوست حارث سومرو کے ساتھ پیدل جا رہی تھیں(تصویر ٹوئٹر

گذشتہ ہفتے کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی دعا منگی ہفتے کی صبح گھر واپس پہنچ گئیں۔
سندھ کے نامور صحافی، کالم نگار، شاعر اور دعا کے ماموں اعجاز منگی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اپنی بھانجی کی خیریت سے گھر واپسی کی تصدیق کی۔
دعا کے والد، والدہ اور خالہ نے آج صحافیوں سے گفتگو میں میڈیا اور سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے اس کیس کو رپورٹ کرنے اور سول سوسائٹی کی طرف سے اہل خانہ کے ساتھ احتجاج کرنے کے باعث ان کی بیٹی کی واپسی ممکن ہوئی۔
دعا کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی خیریت سے ہیں۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں اہل خانہ نے دعا کی واپسی کے لیے تاوان ادا کرنے کی قیاس آرئیوں کی سختی سے تردید بھی کی۔
درخشاں تھانے کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی سے متعلق حتمی تفصیلات سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈی آئی جی ساؤتھ زون کراچی شرجیل کھرل نے ایک بیان میں کہا: ’30 نومبر 2019 کو ڈیفنس خیابان بخاری سے اغوا ہونے والی دعا منگی آج سات دسمبر کو خیر خیریت سے اپنے گھر واپس پہنچ گئی ہے، مقدمے کی تفتیش جاری ہے، مزید تفصیلات سے جلد مطلع کیا جائے گا۔‘
پولیس حکام کے مطابق اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی سے ملتی جلتی ایک گاڑی شاہراہ فیصل کے قریب سے ملی ہے، جبکہ دو طالب علموں کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
دعا کے اغوا کا واقعہ درخشاں تھانے کی حدود میں سنیچر کی شب آٹھ بجے کے قریب خیابان بخاری پر اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے دوست حارث سومرو کے ساتھ پیدل جا رہی تھیں۔
درخشاں پولیس کے مطابق دونوں چائے کے ایک ڈھابے کے پاس سے گزر رہے تھے جب چار سے پانچ مسلح افراد نے انھیں زبردستی پکڑ کر گاڑی میں بٹھایا اور مزاحمت کرنے پر حارث کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا۔ 
درخشاں پولیس نے حارث کے والد عبدالفتح سومرو کی مدعیت میں اقدام قتل اور اغوا کا مقدمہ درج کیا تھا۔ 
واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے سندھ حکومت اور پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعا کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ 
ان کی بازیابی کے لیے کلفٹن میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا جس میں متعدد افراد نے شرکت کی۔ کئی دن سے ان کے نام کا ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کر رہا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان