خوشیاں بکھیرنے والی تصویریں

فوٹوگرافی ایپ اگورا کی جانب سے ’ہیپی نیس 2020‘ مہم کے تحت منتخب کی گئی 15 تصاویر، جو آپ کو مسکرانے پر مجبور کردیں گی۔

مقابلے کے  فاتح فوٹوگرافر کے نام کا اعلان دو جنوری 2020 کو کیا جائے گا۔ 

’سال کی 50 خوشیاں بکھیرنے والی تصاویر‘ کے مقابلے میں دنیا بھر سے ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں، جن میں خوشیوں کے لمحات کو قید کیا گیا ہے۔

فوٹوگرافی ایپ اگورا (Agora) کی جانب سے ہیپی نیس 2020 (#Happiness2020) کے نام سے ایک مہم شروع کی گئی تھی، جس کے تحت 16 ہزار 750 کے قریب تصاویر موصول ہوئیں۔ ان تصاویر میں خاندانوں کے مل بیٹھنے کے جذباتی لمحات سمیت دوستوں کی محفلوں میں بکھرنے والی ہنسی بھی جھلک رہی تھی، جب کہ کچھ تصاویر میں جانوروں کو انجوائے کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پانچ براعظموں کے 19 ممالک سے مقابلے میں بھیجی گئی ان تصاویر میں سے 50 کا انتخاب کیا گیا۔ تصاویر بھیجنے والوں میں نوآموز اور پیشہ ور فوٹوگرافرز بھی شامل ہیں۔

50 حتمی تصاویر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اگورا ایپ نے لکھا: ’ہیپی نیس 2020 وہ نہیں ہے جو آپ کے پاس ہے، بلکہ وہ ہے جو آپ کے اردگرد موجود ہے۔‘

اس مقابلے کے تحت اب ایپ استعمال کرنے والے صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ان 50 تصاویر میں سے حتمی تصویر کے انتخاب میں ججز کی مدد کریں، جسے ’ہیپی نیس 2020 ہیرو‘ کا نام دیا جائے گا۔ فاتح فوٹوگرافر کے نام کا اعلان دو جنوری 2020 کو کیا جائے گا۔

یہاں ہم ان 50 میں سے 15 تصاویر پیش کر رہے ہیں، جو یقیناً آپ کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھیر دیں گی۔

تصویر (@kkaung)


میانمار میں بچے ایک ویگن وہیل کے ساتھ تصویر کے لیے پوز دے رہے ہیں۔

(تصویر: @rafayat)


بنگلہ دیش میں دو بچے ہندوؤں کا تہوار ہولی منا رہے ہیں۔ فوٹوگرافر کے مطابق: ’ہولی رنگوں کا تہوار ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب دوست اکٹھے ہوتے ہیں اور اپنے تمام اختلافات کو رنگوں میں ڈبو دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت میں ہیں، لیکن وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر ہولی مناتے ہیں۔ یہی وقت ہے جب تمام تنازعات کو رنگین پاؤڈرز میں بھلا دیا جاتا ہے۔‘

تصویر (@nguyenvuphuoc)


ویتنام کے شہر ہوئی آن میں لی گئی اس تصویر میں ایک 95 سالہ جوڑا نظر آرہا ہے، جسے علاقے کا سب سے ’خوش باش جوڑا‘ کہا جاتا ہے۔ اس تصویر میں خاتون کو اپنے شوہر کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

تصویر: (@meloyphotography)


فلپائن میں لی گئی اس تصویر میں ایک نوعمر لڑکے کو خواتین جیسی ٹوپی اور چہرے پر فیس پینٹ کیے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

فوٹوگرافر کے مطابق تصویر میں نظر آنے والے لڑکے کو ’سیاہ فام اور ہم جنس پرست‘ ہونے کی بنا پر تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس نے اپنے حقوق کے حوالے سے جنگ جاری رکھی۔

فوٹوگرافر کا مزید کہنا تھا: ’چاہے زندگی کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو، دنیا آپ کے ساتھ چاہے کسی بھی طرح کا سلوک کرے، ہمیں خوش ہونے کے قابل ہونا چاہیے، کیونکہ خوشی ہمارے اپنے اندر سے آتی ہے۔‘

(تصویر: @kyawkyaw19)


میانمار کے علاقے کانپیلٹ کی ایک ٹیٹو آرٹسٹ۔ فوٹوگرافر کے مطابق: ’وہ یہاں کی ایک آئیکون ہیں۔ وہ تصاویر بنوانے کے لیے ہمیشہ ہنستی ہوئی اور خوش رہتی ہیں۔‘

(تصویر: @kothet_pyay)


میانمار میں ایک خاتون ہاتھی کو کیلا دے رہی ہیں۔

تصویر: (@bowen4545)


انڈونیشیا میں دو خوش باش کتے کھیلتے ہوئے۔

تصویر: (@indrawatyarifinyahhocoid)


اندونیشیا کے صوبے پاپوا میں بچے گھر سے باہر کھیل رہے ہیں، جب کہ ان کی والدہ کھانا لینے کے لیے گئی ہوئی ہیں۔

تصویر: (@dikyedarling)


ایک کیچڑ سے لت پت میدان میں فٹ بال کھیلتے ہوئے خوش باش بچے۔ فوٹوگرافر کے مطابق: ’خوشی مہنگی یا فینسی چیزوں سے نہیں بلکہ انتہائی سادہ چیزوں سے ملتی ہے، جیسے کہ ایک کیچڑ سے لت پت گراؤنڈ میں فٹ بال کھیلنا۔‘

تصویر: (@mohamedeldor)


مصر میں سیوا نخلستان میں سیاہا فیسٹیول کے دوران دو ہنستے مسکراتے بھائی

تصویر: (@quoclinhvinhnguyen)


ویتنام کے علاقے کون تم کا ایک 90 سالہ جوڑا ہاتھوں میں ہاتھ دیے بیٹھا ہے۔

تصویر: (@sandal_gunung)


انڈونیشیا کے شہر پروبولینگو کے قریب گاؤں کے رہائشی دو بھائی۔ فوٹوگرافر کے مطابق: ’کھیل کے دوران ان دونوں بچوں کے چہرے کے تاثرات نے میرا دل پگھلا دیا۔‘

تصویر: (@adeelchishti)


چھوٹی بچیوں کا ایک گروپ۔ فوٹوگرافر کے مطابق: ’مشرقی علاقوں کے کچھ لوگ چاہے مرد ہوں یا خواتین، بہت زیادہ شرمیلے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی فوٹوگرافر ان کے قریب آتا ہے تو وہ کیمرے میں براہ راست نہیں دیکھ سکتے۔‘

تصویر: (@letyliza)


انڈونیشیا میں ایک لڑکا ایک بوڑھی خاتون کو شاپنگ میں مدد کر رہا ہے۔

تصویر: (@hwilson8)


امریکی ریاست الینوائے میں دو بھائی گرمیوں کی دوپہر میں۔ فوٹوگرافر کے مطابق: ’ان کے چہروں سے ہنسی کے فوارے چھوٹ رہے تھے۔ یہ ان دونوں جڑواں بھائیوں کے درمیان ایک نہ ٹوٹنے والا بونڈ تھا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی