العزیزیہ ریفرنس اپیل: ’ہائی کورٹ اپنا راستہ خود تلاش کرے‘

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس کے ’اپنے فیصلے میں ہم نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ معاملہ ہائی کورٹ، حکومت اور ایف آئی اے پر چھوڑ دیا تھا۔‘

 چیف جسٹس نے درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ ’اگر کسی نقصان کا احتمال ہے تو  ہم واضح کر دیتےہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اپنا راستہ خود تلاش کرے۔‘ (تصویر: سکرین گریب)

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی کورٹ، جج ارشد ملک ویڈیو کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر العزیزیہ کیس کے فیصلے کے خلاف نواز شریف کی اپیل اور دیگر دائر درخواستوں کا آزادانہ فیصلہ کرے۔ 

سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے رواں برس اکتوبر میں سپریم کورٹ میں ایک نظرثانی درخواست دائر کی گئی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ نے ویڈیو سکینڈل میں جو فیصلہ دیا اس سے ان کا حق متاثر ہوا۔

درخواست میں نواز شریف کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ ان کا مؤقف سن کر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں دی گئی اپنی آبزرویشنز پر بھی نظرثانی کرے۔

جج ارشد ملک کی متنازع ویڈیو کیس سے متعلق 23 اگست کو دیے گئے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے سوال اٹھائے تھے کہ ویڈیو کہاں سے حاصل ہوئی؟ یہ کیسے علم ہوا کہ یہ ویڈیو اصلی ہے یا جعلی؟ ویڈیو کو جج کے خلاف مستند ثبوت کیسے مانا جائے؟ اور یہ بھی کہا کہ ویڈیو ریکارڈ کرنے والے اور جج سے باتیں کرنے والے شخص کو بھی عدالت میں پیش کیا جائے یا ریکارڈنگ کرنے والا خود آ کر ویڈیو پیش کرے۔ مزید آبزرویشن دی گئی کہ ویڈیو کا فرانزک ٹیسٹ ہو جس سے ثابت ہو کہ آڈیو ان ہی افراد کی ہے اور یہ کہ ویڈیو کا ٹرانسکرپٹ کوئی غیر جانبدار شخص کرے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آج نواز شریف کی استدعا پر سماعت کی، جس میں سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کا جائزہ لینے کے حوالے سے بہت سے طریقہ کار اور قوانین موجود ہیں جو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح نہیں کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’تاثر یہ مل رہا ہے کہ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ کی دی گئی شرائط کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ اس لیے سپریم کورٹ یہ واضح کر دے کہ اعلیٰ عدالت کا فیصلہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو بلکہ ہائی کورٹ آزادانہ طور کیس سنے اور فیصلہ کرے۔‘

جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے: ’اپنے فیصلے میں ہم نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ معاملہ ہائی کورٹ، حکومت اورایف آئی اے پرچھوڑ دیا تھا۔ ہم نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہے، وہ جو چاہے فیصلہ کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’فیصلے میں لکھا تھا کہ ہماری دخل اور مداخلت کی گنجائش نہیں، قانون جانے اور اس کا کام۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا: ’فیصلہ ہم نے کچھ دیا اورتبصرے کچھ اور ہوگئے۔ تبصروں میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں۔ اگر آپ کہتے ہیں توہم دوبارہ ہائی کورٹ کو لکھ دیتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے میں آزاد ہیں۔‘

چیف جسٹس نے درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ ’اگر کسی نقصان کا احتمال ہے تو ہم واضح کر دیتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اپنا راستہ خود تلاش کرے۔ ججز کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتے، جو بھی فیصلہ ہوگا میرٹ پر ہوگا۔‘

رواں برس جولائی میں پاکستان مسلم لیگ ن نے ایک پریس کانفرنس میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا تھا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نوازشریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی تھی۔

جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کر دیا تھا۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں العزیزیہ ریفرنس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت 18 دسمبر کو ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان