راولپنڈی ٹیسٹ کا پہلا دن: پاکستان کی حیرت انگیز پلاننگ 

سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے پہلے حیرت انگیز طور پر پاکستانی بولروں نے جارحانہ بولنگ کرنے پر رنز روکنے کو ترجیح دی۔

شاہین شاہ آفریدی نے پاکستان کو پہلی کامیابی دلوائی (پی سی بی)

دس سال کے طویل عرصہ کے بعد بالآخر پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی رونقیں دوبارہ بحال ہو گئیں۔

دسمبر کی سرد اور بادلوں میں گھری ہوئی سرمئی صبح میں راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں سری لنکن کپتان کرونارتنے نے ٹاس جیت کر جب پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کا فیصلہ موسم کے لحاظ سے غیر متوقع تھا۔

زیادہ تر کپتان گہرے بادلوں میں سرخ چیری کا پہلے سامنا کرنے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور مخالف ٹیم کو پہلے بیٹنگ کراتے ہیں۔

پاکستان نے آج عابد علی اور عثمان شنواری کو ٹیسٹ کیپ سے نوازا۔ پاکستانی کوچ مصباح الحق نے حیرت انگیز طور پر یاسر شاہ کو ڈراپ کر کے چار فاسٹ بولروں کو ٹیم میں شامل کیا لیکن چار فاسٹ بولر بھی کنڈیشنز کا زیادہ فائدہ اٹھا نہ سکے۔ خاص طور سے محمد عباس سے وابستہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سری لنکا نے کھانے کے وقفے تک بغیر کسی نقصان کے 89 رنز بنا کر پاکستان کی چار فاسٹ بولروں کی حکمت عملی غلط ثابت کر دی۔

تاہم لنچ کے بعد پاکستانی تیز گیند بازوں نے کچھ کارکردگی دکھائی۔ پہلے شاہین شاہ نے کرونارتنے کو 59 پر اور پھر نسیم شاہ نے فرنانڈو کو 40 رنز پر حارث سہیل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کر دیا۔ یہ نسیم شاہ کے کیرئیر کی پہلی وکٹ تھی۔ اس سے قبل وہ آسٹریلیا میں ڈیوڈ وارنر کی وکٹ حاصل کرنے کے بعد نو بال پر کھو چکے تھے۔

پاکستان کو جلدی دو کامیابیاں اور حاصل ہوئیں جب مینڈس 10 پر عثمان شنواری کا نشانہ بن گئے اور چندی مل عباس کی ایک لیگ کٹر پر 2 رنز پر بولڈ ہو گئے۔ تاہم اس کے بعد تجربہ کار میتھیوز اور ڈی سلوا نے 69 رنز کی پارٹنر شپ بنا کر سہارا دیا۔ 189 کے سکور پر نسیم شاہ کی گیند پر میتھیوز کاایک مشکل کیچ اسد شفیق نے سلپ میں لے کر یہ پارٹنر شپ توڑ دی۔

سکور جب پانچ وکٹوں کے نقصان پر 202 پر پہنچا تو روشنی کم ہونے کے باعث امپائروں نے کھیل روک دیا۔ اس وقت ڈی سلوا 38 اور ڈکویلا 11 پر کھیل رہے تھے۔

پاکستان کی طرف سے نسیم شاہ نے اچھی بولنگ کی اور دو کھلاڑی آؤٹ کیے جبکہ شاہین شاہ، عباس اور عثمان نے ایک ایک وکٹ لی۔

آج پاکستان کا اوور ریٹ سلو رہا اور اگر اسی طرح رہا تو یقینی طور پر کپتان اظہر علی جرمانے کی زد پر آئیں گے۔ 

میچ کے بعد پریس سے بات کرتے ہوئے نسیم شاہ نے انکشاف کیا کہ ہمیں ہدایت ملی تھی کہ اٹیک کے بجائے دفاعی بولنگ کی جائے اور بیٹسمینوں کو رنز نہ کرنے دیے جائیں۔

وقار یونس جیسے جارحانہ بولنگ کوچ کی موجودگی میں یہ حکمت عملی عقل سے بالاتر نظر آتی ہے جبکہ موسم بھی جارحانہ بولنگ کے لیے سازگار تھا۔

آج پاکستانی بولروں نے سری لنکن بیٹسمینوں کو شارٹ پچ بالیں کم کرائیں جس سے کھلاڑیوں کو سیٹ ہونے کا موقع مل گیا۔ راولپنڈی کی وکٹ پر گھاس بالکل صاف کردی گئی ہے مگر غیر متوازن باؤنس سے پاکستانی بولر فائدہ اٹھا سکتے تھے جو نہ ہو سکا۔

سری لنکن بیٹسمینوں نے بھی محتاط بیٹنگ کی تاکہ بڑا سکور کیا جا سکے۔ کل اگر سری لنکا مزید سو رنز کر لیتا ہے تو پاکستان دباؤ میں آ سکتا ہے کیوں کہ اسے آخری اننگز میں بیٹنگ کرنا ہو گی۔ 

پاکستان ٹیم شان مسعود، عابد علی، اظہر علی، بابر اعظم، اسد شفیق، حارث سہیل، محمد رضوان، محمد عباس، شاہین شاہ نسیم شاہ اور عثمان شنواری پر مشتمل ہے۔ 

سری لنکا کی ٹیم کونارتنے فرنانڈو مینڈس چندی مل میتھیوز ڈی سلوا ڈکویلا پریرا فرنانڈو راجیتھا اور کمارا پر مشتمل ہے 

آج کی ٹیسٹ میچ میں فوجی کیپ پہنے جاوید میاں داد اور سری لنکن سابق کپتان ورناپورا کو کرکٹ بورڈ نے مہمان خصوصی کا درجہ دیا تھا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ