خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا

چھ سال تک چلنے والے سنگین غداری کیس میں اسلام آباد میں قائم خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو دو ایک کی اکثریت سے سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

(اے ایف پی)

سنگین غداری کا مقدمہ سننے والی خصوصی عدالت نے منگل کے روز سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو تین نومبر 2007 کو ملک کا آئین توڑنے کی پاداش میں سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا۔

اسلام آباد میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 کے تحت یہ فیصلہ دیا۔

چار سطروں پر مشتمل مختصر فیصلہ خصوصی عدالت کے سربراہ جج جسٹس سیٹھ وقار نے پڑھ کر سنایا۔ عدالت کے دوسرے اراکین میں جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم شامل ہیں۔

تین رکنی خصوصی عدالت میں شامل دو ججوں نے جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو موت کی سزا کی حمایت کی جبکہ ایک جج نے اس کی مخالفت میں فیصلہ دیا۔

سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 میں آئین کو معطل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی تھی۔ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو بھی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت توڑتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ اور اس موقعے پر انہوں نے سپریم کورٹ کے ججوں کو ان کی رہائش گاہوں پر نظر بند بھی کر دیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے بعد میں جنرل مشرف کے 1999 کے عمل کی توثیق کر دی تھی۔ اور انہیں بحیثیت چیف ایگزیکٹیو 1973 کے آئین میں ترمیم کی اجازت بھی دے دی تھی۔

 پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران قائم کیا گیا تھا اور 20 نومبر 2013 کو تین رکنی خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی۔

خصوصی عدالت نے 31 مارچ 2014 کو مشرف پر آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کا فرد جرم عائد کیا تھا۔

اس وقت کی حکومت نے معروف وکیل اکرم شیخ کی سربراہی میں پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دی تھی۔

پرویز مشرف کبھی بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ اور اسی لیے 19 جون 2016 کو خصوصی عدالت نے انہیں مفرور قرار دے دیا۔

خصوصی عدالت نے اس سال 24 نومبر کو حتمی فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے پانچ دسمبر کو سنانے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل ہی وفاقی حکومت نے اکرم شیخ کی سربراہی میں پراسیکیوشین ٹیم ڈی نوٹیفائی کر تے ہوئے اس مقصد کے لیے علی ضیا باجوہ اور منیر حسین بھٹی پر مشتمل نئی ٹیم کی تعیناتی کا حکم جاری کیا۔

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور پرویز مشرف کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست کے ذریعے خصوصی عدالت کو سنگین غداری کیس میں فیصلہ سنانے سے روکنے کی استدعا کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 نومبر کو خصوصی عدالت کو حتمی فیصلے کے اعلان سے روکتے ہوئے ملزم کو فئیر ٹرائل کا موقع فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

خصوصی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر تحفظات کے باوجود پانچ دسمبر کو فیصلہ نہیں سنایا اور نئی پراسیکیوشن ٹیم کو دو ہفتوں میں اپنے دلائل پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے 17 دسمبر کو فیصلہ سنانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق صدر جنرل پرویز مشرف اس وقت عرب امارات میں مقیم ہیں اور وہ عدالت کے بار بار بلانے پر بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ان کا موقف ہے کہ وہ ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہیں اور صحت یاب ہونے کے بعد ہی سے عدالت میں پیش ہو کر اپنا دفاع کر سکیں گے۔  

ان کی جانب سے فیصلے پر ابھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن چند ہفتے قبل ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام عمر پاکستان کے لیے لڑے ہیں اور انہیں انصاف ملنا چاہیے۔

دبئی کے ہسپتال کے بستر پر بنائی گئی اس ویڈیو میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے لیے جنگیں لڑی ہیں اور اپنے ملک کی دس سال خدمت کی ہے۔ انہوں نے عدالت سے ان کا ہسپتال میں بیان لینے کی اپیل بھی کی تھی۔

چند ہفتے قبل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی کہا تھا کہ ایک فوجی آمر کے خلاف فیصلہ آنے والا ہے۔ 

سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے بارے میں تند و تیز بحث شروع ہو گئی ہے۔ ایمان زینب حاضر نے ٹوئٹر پر سوال کیا ہے کہ کیا اب مشرف واپس آ رہے ہیں؟ انہوں نے مزید سوال کیا کہ دہائیوں تک سویلین قیادت کو غدار کہا جاتا رہا ہے مگر کیا اب جس جنرل کو سنگین غداری کا مرتکب پایا گیا ہے کیا وہ واپس آئیں گے؟

 

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ آتے ہی بھارتی میڈیا پر بھی بریکنگ نیوز کے فلیش آنا شروع ہو گئے۔ بھارتی صحافی شیکھر گپتا نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ بہت مشکل ہے کہ مشرف کو آخر کار پھانسی ہو مگر پاکستان کی تاریخ میں ایک سابق آمر اور آرمی چیف کو پھانسی کی سزا سنانا تاریخی فیصلہ ہے۔

منوج سکسینا نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اس فیصلے سے مشرف کے متحدہ عرب امارات سے باہر سفر پر فرق پڑے گا۔ اس کے علاوہ، ان کے مطابق، بہت مشکل ہے کہ مشرف کو سزا ملے کیوں کہ ایک تو مشرف پاکستان میں موجود نہیں ہیں اور ساتھ ہی ان کا پاکستان اور پاکستان سے باہر گہرا اثر و رسوخ ہے۔

آج عدالتی کارروائی میں کیا کچھ ہوا؟

منگل کی صبح خصوصی عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو سینئیر پراسیکیوٹر علی ضیا باجوہ نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان عبدالحمید ڈوگر کو بھی سنگین غداری کیس میں ملزم بنانے کی درخواست دی۔

جس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ ساڑھے تین سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔

انہوں نے کہا آج مقدمہ حتمی دلائل کے لیے مقرر تھا اور آپ نئی درخواستیں لے آئین ہیں۔

جسٹس نذر اکبر نے اس موقعے پر پراسیکیوشن سے سوال کیا کہ جن لوگوں کو حکومت ملزم بنانا چاہتی ہے ان کے خلاف کیا شواہد ہیں؟ اور کیا شریک ملزمان کے خلاف نئی تحقیقات ہوئی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ تحقیقات اور شواہد کا مرحلہ گزر چکا ہے۔

اس پر پراسیکیوشن کی طرف سے کہا گیا کہ شکایت درج ہونے کے بعد ہی تحقیقات ہو سکتی ہیں۔

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ ان تین افراد کو ملزم بنایا تو حکومت سابق کابینہ اور کور کمانڈرز کو بھی ملزمان کی فہرست میں ڈالنے کی درخواست لے آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کی اجازت کے بغیر فرد جرم میں ترمیم نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی نئی درخواست آ سکتی ہے اور جو درخواست باضابطہ دائر نہیں ہوئی اس پر دلائل نہیں سنیں گے۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ چارج شیٹ میں ترمیم کے لیے کوئی باضابطہ درخواست ہی نہیں ملی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ استغاثہ کو یہ بھی علم نہیں کہ عدالت میں درخواست کیسے دائر کی جاتی ہے۔ جس پر پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت سے معذرت طلب کی گئی۔ 

پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ستمبر 2014 کی درخواست کے مطابق شوکت عزیز نے مشرف کو ایمرجنسی لگانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ جس درخواست کا حوالہ دے رہے ہیں اس پر فیصلہ ہو چکا ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مشرف کے شریک ملزمان کی درخواست پر سپریم کورٹ بھی فیصلہ دے چکی ہے۔ 

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ ترمیم شدہ چارج شیٹ جمع کروانے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی گئی تھی۔

پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ قانون کے مطابق فرد جرم میں ترمیم فیصلے سے پہلے کسی بھی وقت ہو سکتی ہے، جس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ نے مزید کسی کو ملزم بنانا ہے تو نیا مقدمہ دائر کر دیں۔

انہوں نے استغاثہ سے سوال کیا کہ کیا حکومت مشرف ٹرائل کو تاخیر کا شکار کرنا چاہتی ہے؟

  انہوں نے دوسرا سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ کابینہ کی منظوری کے بغیر کیسے چارج شیٹ ترمیم کر سکتے ہیں؟ وفاقی حکومت اور کابینہ کی منظوری کہاں ہے؟  

انہوں نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت کا مطلب کابینہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت سے متعلق سپریم کورٹ مصطفی ایمپیکس کیس میں ہدایات جاری کر چکی ہے۔اور سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد سیکرٹری داخلہ نہیں وفاقی کابینہ فیصلے کر سکتی ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کارروائی میں تاخیر نہیں چاہتی تو شریک ملزمان کے خلاف نئی درخواست دے سکتی ہے۔

وکیل استغاثہ منیر بھٹی نے کہا کہ سابق پراسیکیوٹرز نے عدالت سے حقائق کو چھپایا تھا۔

جس پر جسٹس نذر اکبر نے پوچھا کہ حکومت نے سابق پراسیکیوٹر کے خلاف کیا کاروائی کی۔

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت کے پاس درخواستیں دائر کرنے کے لیے  15 دن کا وقت تھا۔

  عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے پراسیکیوشن سے پوچھا کہ کیا آپ مرکزی کیس پر دلائل دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟ جس پر سینئیر پراسیکیوٹر علی ضیا باجوہ نے کہا کہ وہ تیار نہیں ہیں اور دلائل نہیں دینا چاہتے۔

اس پر جسٹس نذر اکبر نے پروسیکیوشن کو بیٹھ جانے کا کہا اور وکیل صفائی کو بولنے کا موقع دیا۔

اس پر علی ضیا باجوہ نے کہا کہ ان اور بھی درخواستیں ہیں وہ تو سن لی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق بھی درخواست موجود ہے۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ خصوصی عدالت کے سامنے صرف سپریم کورٹ کا حکم ہے اس کے تحت کارروائی چلانی ہے۔

اس کے بعد جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آئے، تاہم جسٹس شاہد کریم نے انہیں بیٹھ جانے کو کہا۔

اس پر سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت نہ استغاثہ کو سن رہی ہے اور نہ ہی دفاع کو۔

اس کے جواب میں جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ اگر آپ سپریم کورٹ کے کیس پر نظر ثانی درخواست دائر کرنا چاہتے ہیں تو وہ کریں۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ مفرور ملزم کے وکیل کو عدالت میں بولنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

جسٹس نذر اکبر نے سلمان صفدر کو بیٹھ جانے اور ضد نہ کرنے کا کہا۔

جسٹس اقار احمد سیٹھ نے استغاثہ کو اپنے حتمی دلائل شروع کرنے کو کہا۔

وکیل استغاثہ علی ضیا باجوہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مشرف کے خلاف تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان کے بیانات ریکارڈ نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا عدالت میں ایک درخواست تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کی طلبی کی بھی ہے، جبکہ ملزم کا بیان بھی رکارڈ نہیں ہو سکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ٹرائل پر دلائل کیسے دوں جو آگے چل کر ختم ہو جائے؟ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت حکومت کو درخواستیں دائر کرنے کا وقت دے۔  

اس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ وہ بات کر رہے ہیں جو ملزم کے دلائل ہونے چاہییں۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ اگر آپ حتمی دلائل نہیں دے سکتے تو روسٹرم سے ہٹ جائیں۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ یہ خصوصی عدالت صرف سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند ہے، نہ کہ اسلام آباد ہائین کورٹ کے فیصلوں کی۔

 پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ قانون کی دفعہ 342 کے تحت ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست جمع کروائی گئی ہے۔ جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ پرویز مشرف بیان رکارڈ کروانے کے چھ مواقع ضائع کر چکے ہیں۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ استغاثہ اور وکیل دفاع دونوں ہی پرویز مشرف کا دفاع کر رہے ہیں۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ جب چاہے، پرویز مشرف کو پیش کر دیں، جس پر پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کی صحت انہیں عدالت میں پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان