سیف گیمز گولڈ میڈلسٹ: ’میرا دل دھک دھک کر رہا تھا‘

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی کراٹے کی کھلاڑی شاہدہ عباسی نے سیف گیمز میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا جو ان مقابلوں میں پہلا گولڈ میڈل تھا۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی کراٹے کی کھلاڑی شاہدہ عباسی نے سیف گیمز میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا جو ان مقابلوں میں پہلا گولڈ میڈل تھا۔

ساؤتھ ایشین گیمز 2019 کے مقابلے رواں ماہ نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں ہوئے جہاں پاکستان نے کل 132 میڈل حاصل کیے جن میں 32 گولڈ میڈل تھے۔

کوئٹہ کے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی شاہدہ عباسی نہ صرف کم عمری میں قومی بلکہ عالمی سطح پر کراٹے میں اعزازات حاصل کرنے والی کھلاڑی ہیں۔   

شاہدہ کو بچپن سے کراٹے کا شوق نہیں تھا لیکن وہ اپنے بھائی کو کراٹے کلب میں داخل کرانے لے گئیں جہاں لڑکیاں بھی کھیل رہی تھیں۔ شاہدہ کے مطابق: ’جب میں نے دیکھا کہ یہ لڑکیاں کراٹے کا کھیل جسے سخت اور مار دھاڑ کا کھیل کہا جاتا ہے کھیل سکتی ہیں تو میں کیوں نہیں کھیل سکتی۔‘

انہوں نے 2005 میں کراٹے کھیلنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد ان کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کا اندازہ ان کے میڈلز سے دیکھ  کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ 

ہزارہ ٹاؤن کے استاد غلام علی سے ٹریننگ حاصل کرنے والی شاہدہ نے 2010 میں واپڈا کی طرف سے کھیلنے کا آغاز کیا اور وہاں ہمیشہ گولڈ میڈل حاصل کرنا ان کا اعزاز رہا۔

واضح رہے کہ شاہدہ عباسی واحد کھلاڑی ہیں جو نیشنل گیمز، ساؤتھ ایشین گیمز سمیت چھ مرتبہ بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں۔

شاہدہ کے مطابق وہ ساؤتھ ایشین گیمز کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھیں لیکن نیشنل گیمز کے دوران کوچ نے کہا کہ جو گولڈ میڈل یہاں لے گا اسے ساؤتھ ایشین گیمز میں موقع ملے گا۔

ان کے بقول: ’اس وقت ہمیں یہ بات مذاق لگی کہ شاید کوچ ہمیں بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے لالچ دے رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’جب میں نے اور دوسرے کھلاڑیوں نے گولڈ میڈل جیتا تو اس کے بعد ہم سے کہا گیا کہ اپنے پاسپورٹ اور وردی کا سائز بھیج دیں۔‘

ساؤتھ ایشین گیمز کے بارے میں شاہدہ بتاتی ہیں: ’جب ہم نیپال گئے تو وہاں مقامی کھلاڑی انتہائی پرجوش تھے اور ہمیں مرعوب کرنے کی کوشش کرتے رہے۔‘

شاہدہ کے مطابق ساؤتھ ایشین گیمز میں سخت صورت حال تھی اور ان پر پریشر بھی تھا لیکن انہوں نے ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے بھی ہمت نہیں ہاری۔

انہوں نے بتایا:’پہلے اعلان ہوا کہ لڑکوں کا مقابلہ ہوگا بعد میں لڑکیوں کا ہوا جس میں میرا مقابلہ پہلا تھا۔‘

شاہدہ پہلے مقابلے میں حریف کھلاڑی کو ہرا کر بارش کا پہلا قطرہ بنیں اور اس کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے کامیابی کے دروازے کھلتے گئے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’کسی بھی مقابلے میں ہمیشہ پہلا مقابلہ ہی فیصلہ کن ہوتا ہے اور یہی آغاز ہوتا ہے۔ میں اس مقابلے میں پورے ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ سکور کرنے والی کھلاڑی بھی ہوں۔‘

شاہدہ کے استاد اور تین بار ساؤتھ ایشین چیمپئن رہنے والے غلام علی 37 سالوں سے کراٹے کھیل رہے ہیں۔

غلام علی کے مطابق اس کراٹے کلب کی بنیاد 2004 میں رکھی گئی جہاں اب تک تین سو سے زائد شاگرد رہ چکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کلب کو اعزاز حاصل ہے کہ سب سے زیادہ گولڈ میڈل بھی یہاں کے کھلاڑیوں نے حاصل کیے۔

کلب کا اعزاز

غلام علی کے بقول یہ واحد کلب ہے جس میں عالمی اور پاکستان سطح پر گولڈ میڈل حاصل کرنے والے کراٹے کے کھلاڑی موجود ہیں۔

ان کے مطابق میں نے کلب کے قیام کے لیے نہ صرف اپنی انعامی رقم لگائی بلکہ اپنا گھر بھی بیچا تاکہ کھلاڑیوں کے لیے مستقل جگہ بن سکے۔

غلام علی نے بتایا کہ اس کلب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ نیشنل گیمز میں یہاں کے کھلاڑیوں نے 41 میڈلز حاصل کیے جو کسی اور کلب نے آج تک حاصل نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا: ’اس کلب سے ہی بلوچستان کی لڑکیوں اور لڑکوں کی ٹیم منتخب ہوتی ہے۔ واپڈا کی آدھی ٹیم، ریلوے کی ٹیم  بھی یہاں سے بنتی ہے جبکہ آرمی بھی ٹیم کے لیے رابطے میں ہیں۔‘

غلام علی نے بتایا کہ اس کے کلب میں اکثر متوسط طبقے کے کھلاڑی ہی آتے ہیں جن سے فیس بھی نہیں لی جاتی۔

انہوں نے کہا: ’اگر بعض کھلاڑیوں سے فیس میں رعایت نہ کرتے تو نرگس اور شاہدہ عباسی جیسی کھلاڑی سامنے نہیں آتیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ابھرتے ستارے