’پاکستان میں سیاسی انتقام کھلا راز ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے منشیات برآمدگی کیس میں مسلم لیگ ن کے رہنما کی ضمانت سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری، ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد رانا ثناء اللہ کو رہا کردیا گیا۔

رانا ثناء اللہ نے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کے بعد چار جنوری 2020 کو دوبارہ پیش ہونا تھا (اے ایف پی)

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرنے کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے جس میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ پاکستان میں ’سیاسی انتقام‘ کھلا راز ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کی جانب سے منگل کو منشیات برآمدگی کیس میں مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر رانا ثناء اللہ کی ضمانت دس، دس لاکھ کے مچلکوں کے عوض منظور کی گئی تھی، جس کے بعد رانا ثناء اللہ کو رہا کردیا گیا۔

واضح رہے کہ وزیر مملکت برائے اینٹی نارکوٹکس شہریار آفریدی نے منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثناء اللہ کے حوالے سے متعدد بار یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں، جنہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا، تاہم رانا ثنا کی ضمانت کے بعد گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں شہریار آفریدی نے اپنی ہی بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ویڈیو ثبوت نہیں، بلکہ فوٹیج کی بات کی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے سابق وزیر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کی نو صفحات پر مبنی تفصیل جاری کی، جس میں جج چوہدری مشتاق احمد نے لکھا  کہ ’اگرچہ وکیل صفائی نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ملزم حزب اختلاف کی جماعت کے رکن ہیں اور حکومتی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں اسے لیے انہیں سیاسی مقاصد کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم عدالت کا اصرار تھا کہ مقدمے کے اس موڑ پر اس الزام کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی لیکن اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارے ملک میں سیاسی انتقامی کارروائی کھلا راز ہے۔‘

جج نے لکھا کہ استغاثہ کے مقدمے میں پیش کیے گئے ریکارڈ میں کمزوریاں موجود ہیں جیسے کہ جائے وقوع (راوی ٹول پلازہ) پر ریکوری میموز تیار نہ کرنا اور ملزم کے منشیات کے نیٹ ورک کی تحقیقات نہ کرنا اور ضبط کی جانے والی ’ہیروئن‘ کا محض 20 گرام بھیجنا ظاہر کرتا ہے کہ ملزم کے خلاف مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ اس مقدمے میں شریک ملزمان کو گرفتاری کے بعد ضمانتیں دی گئیں جنہیں استغاثہ نے چیلنج نہیں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر کے مطابق ملزم فیصل آباد اور لاہور میں منشیات کا نیٹ ورک چلاتے ہیں لیکن گرفتاری کے دوسرے روز جب رانا ثناء اللہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کا جسمانی ریمانڈ مانگا ہی نہیں گیا جس سے بقول عدالت لگتا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی ان کے اس نیٹ ورک کے بارے میں تفتیش کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

فیصلے کے مطابق: ’تحقیقاتی افسر نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی۔ انہوں نے یہ راستہ کیوں اپنایا اس کی وجوہات صرف انہیں ہی معلوم ہو سکتی ہیں۔‘

عدالت نے مزید لکھا کہ ضروری کاغذی کارروائی وقوعہ پر نہیں کی گئی بلکہ انہیں پولیس سٹیشن لے جایا گیا جہاں یہ سب کچھ کیا گیا۔ اس کا جواز یہ دیا گیا کہ راوی ٹول پلازہ پر لوگوں کا ہجوم جمع ہونا شروع ہو گیا تھا۔ عدالت کا استفسار تھا کہ قانون نافذ کرنے والے 21 اہلکاروں کی موجودگی میں موقعے پر ایسا نہ کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ 

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب کے صوبائی صدر رانا ثناء اللہ نے ٹرائل کورٹ میں چھٹیوں کی وجہ سے ضمانتی مچلکے ہائی کورٹ میں جمع کرانے کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رانا ثناء اللہ کو رہا کردیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت کی سماعت کی تھی۔ اس دوران سابق وزیر قانون کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل حکومت کے خلاف سخت تنقید کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اس جھوٹے مقدمے کے ذریعے انتقامی سیاست کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

قبل ازیں انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کی تھی جس کے بعد رانا ثناء اللہ نے چار جنوری 2020 کو دوبارہ پیش ہونا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست