کیا بلوچستان واقعی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے؟

بلوچستان میں دہشت گردی میں کمی کا کریڈٹ حکومت کو نہیں دیا جا سکتا یا کم از کم فی الحال ایسا کرنا قبل ازوقت ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ بدامنی دارصل اپنے آپ میں ایک مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ محض ان سیاسی مسائل کا نتیجہ ہے جو کئی دہائیوں سے توجہ طلب رہے ہیں۔

جب تک بااختیار قوتیں وزیر اعلی جام کمال کی حمایت جاری رکھیں گی تب تک وہ وزیر اعلیٰ رہیں گے(بلوچستان انفارمیشن ڈپارٹمنٹ)

حکومت بلوچستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سال صوبے میں پرتشدد کارروائیوں میں 33 فیصد کمی آئی ہے اور شورش زدہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال میں کئی سالوں کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔

بہرحال یہ ہرگز نہیں بھولنا چایئے کہ بہتری کا دعوی کرتے وقت خود صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے عوام کو یہ ’خوشخبری‘ دیتے ہوئے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ اس سال صوبہ میں دہشت گردی کے 190 واقعات پیش آئے جن میں 145 افراد بشمول 75 قانون نافذ کرنےو الے اہلکار ہلاک اور 528 زخمی ہوئے۔ جان دینے والوں میں اکثریت بدقسمتی سے عام شہریوں ہی کی تھی جب کہ ان میں فرنٹیر کور کے43، پولیس کے 21 اور لیویز فورس کے11 اہلکار بھی شامل تھے۔

یہ اعداد و شمار اب بھی افسردہ کر دینے کے لیے کافی ہیں کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کاسب سے چھوٹا صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان میں اب بھی پرتشدد واقعات میں انسانی جانوں کا ضیاع بدستور جاری ہے۔ خوشی محض اس وقت ہوتی ہے جب تازہ ترین اعدادو شمار کا موازنہ گذشتہ کئی سالوں سے کیا جاتا ہے۔

گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں بلوچستان بدامنی کے جس دور سے گزار ہےاس نے صوبے کاسماجی ڈھانچہ یکسر بدل کر رکھ دیا ہےاور ایک موقع پر انسانی جان محض اعداد و شمار بن کر رہ گئے تھے۔ لوگوں نے اس تلخ حقیقت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا کہ یہ پرتشدد زندگی ان کا مقدر ہے اور اگر بلوچستان میں رہنا ہے تو اس ناگزیر امر کو بھی روزمرہ کی زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کرنا ہوگا۔

قبل از وقت کریڈٹ؟

اگرچہ نئے اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرتشدد واقعات بنیادی طور پر کسی علاقے کا مقدر نہیں ہوتے بلکہ ان کے پس پردہ کئی عوامل ہوتے ہیں جن کا ازالہ بہتر حکومتی منصوبہ بندی اور دور اندیش پالیسی کے ذریعہ ممکن ہے۔ تاہم بلوچستان کے تناظر میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی کا کریڈٹ حکومت کو نہیں دیا جاسکتا یا کم از کم فی الحال ایسا کرنا قبل ازوقت ہوگا۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صوبہ میں بدامنی دارصل اپنے آپ میں ایک مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ محض ان سیاسی مسائل کا نتیجہ ہے جو کہ کئی دہائیوں سے توجہ طلب رہے ہیں۔ حکومت نے ان مسائل  کے حل کے لیے سنجیدگی سے کوشش کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیا ہے۔ یہ مسائل ہنوز جوں کا توں بالکل اسی طرح حل طلب ہیں جیسے وہ ایک دہائی پہلےسنجیدگی توجہ کے متقاضی تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب تک حکومت ان مسائل کے حل کے لیے آئینی اور انتظامی اقدامات نہیں اٹھاتی، مسائل کا لاوا مستقبل قریب میں ایک بار پھر کسی بھی وقت پھوٹ سکتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب سیاسی مسائل کا جمہوری انداز میں حل تلاش نہیں کیا جاتا تو جو طبقات سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا یا ان کے موقف کی شنوئی نہیں ہو رہی تو وہ بیشتر اوقات پرتشدد طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔ بلوچستان اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں کل تک جو قوتیں صوبائی حقوق و خودمختاری کا مطالبہ کر رہی تھیں وہ اب آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

سیاسی مذاکرات

دوسری بات یہ ہے کہ پرتشدد واقعات میں کمی کا سہرا حکومت بلوچستان کی بجائے ان قوتوں کے سر جاتا ہے جو کئی سالوں سے صوبے میں بدامنی پھیلانے میں سرگرم رہی ہیں اور خود حکومت ان کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ اب یہ بات واضح نہیں کہ ان قوتوں نے اپنی کارروائیوں میں اس سال کیوں کمی کی ہے۔ کیا ان کے وسائل ختم ہوگئے ہیں یا انھوں نے اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لائی ہے؟ ہمیں اس بارے میں تو کچھ معلوم نہیں البتہ ایک بات تو واضح ہے کہ اس بڑی تبدیلی کے پیچھے حکومت کا کوئی بڑا ہاتھ نہیں ہے۔

حکومت نے ایک سال قبل اقتدار میں آنے کے بعد بھی بلوچ مسلح تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کا کوئی عمل شروع کیا ہے اور نا ہی بیرون ملک مقیم علحیدگی پسند رہنماؤں کے ساتھ کوئی خاطرخواہ بات چیت کی ہے جس کو لے کر صوبہ میں سرگرم عمل مسلح گروہوں کو غیرمسلح کرنے اور انھیں قومی دھارے میں لانے کی راہ ہموار کی جائے۔ اسی طرح ہمارے سامنے ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جن کو دیکھ کر یقین سے کہا جائے کہ حکومت نے کئی سالوں سے بلوچستان میں سرگرم فرقہ وارانہ تنظیموں کا قلع قمع کیا ہے اور جو نیٹ ورک شیعہ اور ہزارہ برادری کے قتل عام میں ملوث رہی ہے اب مستقبل میں مزید حملے نہیں کرے گی۔

حکومت بلوچستان یہ یقین دہانی بھی نہیں کراسکتی کہ طالبان اور داعش نے صوبے سے اپنے مورچے خالی کئے ہیں اور اب وہ مزید شہریوں کا خون نہیں بہائیں گے۔

جزوقتی حل

اگر حکومت بلوچ مسلح گروہوں، فرقہ وارانہ تنظیموں اور طالبان و داعش کی طرف سے ہونے والے پرتشدد واقعات کے سدباب کے لیے کئے گئے اقدامات سے متعلق عوام کو آگاہ نہیں کر سکتی تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ بدامنی کا خطرہ صرف وقتی طور پر تو ٹل گیا ہے لیکن اس کا دیرپا حل اب تک تلاش نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت اور عوام اب بھی ان ہی قوتوں کے رحم و کرم پر ہیں جنھوں نے ایک دہائی سے زائد عرصے سے بلوچستان کی امن کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

بلوچستان میں 2019 میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی پر جشن منانے سے پہلے لازمی ہے کہ ہم اس سچ کو نظرانداز نہ کریں کہ اس سال بھی پاکستان بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے بدترین واقعات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان میں سے بیشتر بلوچستان ہی میں پیش آئے۔ اس سے بڑھ کر تشویشناک بات یہ ہے کہ بلوچستان میں بدامنی کے جو تین سر چشمے ہیں (یعنی علحیدگی پسند، فرقہ وارانہ اور طالبان)، سب نے اپنی اپنی قوت کا بےدریغ استعمال کیا۔

مثلاً اس سال کے آغاز میں ہی 29 جنوری کو تحریک طالبان نےضلع لورالائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر خود کش حملہ کر کے نو افراد کو ہلاک کیا جب کہ بلوچ علحیدگی پسند قوتوں نے تو اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑی حد تک بڑھا دیا۔ 15 فروری کو بلوچ لبریشن فرنٹ نے ضلع کیچ کے علاقہ بلیدہ میں سات مزدوروں کو قتل کیا جب کہ 18 اپریل کو مکران کوسٹل ہائی پر ایک بس پر سفر کرنے والے 14 افراد بشمول پاکستان نیوی کے اہلکاروں کو قتل کیا۔

بارہ مئی کو ایک اور واقعے میں بلوچ علحیدگی پسندوں نے گوادر کے پی سی ہوٹل پر حملہ کر کے پانچ افراد بشول ایک نیوی اہلکار کو ہلاک کیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس واقعے کا اصل ہدف گوادر میں موجود چینی شہری تھے لیکن وہ حملے کے وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

اسی طرح فرقہ وارنہ تنظیم لشکر جھنگوی نے بھی اس سال بلوچستان میں اپنی دہشت کے نقوش چھوڑے۔ اس نے 12 اپریل کو کوئٹہ کی ایک سبزی منڈی میں بم دھماکہ کر کے 20 افراد کو ہلاک اور 48 کو زخمی کیا۔ اس واقعہ میں ہلاک شدگان کی اکثریت کا تعلق کوئٹہ کے ہزارہ قبیلے سے تھا۔

محض اتفاق 

پچھلے سال عام انتخابات کے بعد جب بلوچستان میں نئی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی حکومت قائم ہوئی تو کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ یہ جماعت کافی دیر تک قائم رہ سکے گی کیونکہ اس میں اکثریت سیاست دانوں کی بجائے قبائلی معتبرین کی تھی جو اپنے اپنے علاقوں میں قبائلی بنیاد پر انتخابات جیتے کے اہل تھے اور ان کا جھکاو اسٹبلشمنٹ کی طرف تھا۔ وزیر اعلی جام کمال کی قیادت میں نہ صرف بلوچستان عوامی پارٹی قائم ودائم رہی ہے بلکہ صوبائی مخلوط حکومت نے وزارتوں، ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی تقسیم پر لڑے بغیر خود کو برقرار رکھ کر سب کو حیران کر دیا ہے۔

پچھلے ایک ہفتے سے سابق وزیر اعلی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے بانیوں میں سے ایک قدوس بزنجو کھل کر جام صاحب کی کارکردگی پر تنقید کرنے میں سرگرم رہے ہیں جس سے حکمران جماعت میں نا اتفاقی کی بو ضرور آ رہی ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ قدوس کے اختلافات اور خدشات سے انھیں اکھٹا کرنے والی ذات زیادہ طاقتور ہے۔ اور جب تک بااختیار قوتیں جام صاحب کی حمایت جاری رکھیں گی تب تک وہ وزیر اعلیٰ رہیں گے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اتحاد مزید کتنی دیر تک چلے گا لیکن یہ کہنا لازمی ہے کہ جام کمال اس موقع کا فائدہ اٹھائیں اور بلوچستان کے مسائل بالخصوص امن وامان کے حوالے سے مستقل حل کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ وہ یہ واضح کریں کہ اس سال بدامنی کے واقعات میں جو کمی آئی ہے وہ محض اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی مسلح تنظیموں کا صوبے کے عوام پر کوئی احسان بلکہ یہ سب کچھ خود حکومت کی جدوجہد سے ممکن  ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ