کیا نارڈک ممالک امریکہ سے ٹکر لینے کے قابل ہیں؟

امریکہ نے جب افریقی، ایشیائی اور مسلمان ممالک میں طاقت کے بدمست ہاتھی کی طرح تباہی کی تو سارا یورپ تالیاں بجانے یا مذمت کرنے تک محدود رہا۔

15 اگست، 2023 کی اس تصویر میں گرین لینڈ کے علاقے خلیج فیورڈ میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث پگھلنے والا ایک گلیشیئر دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی، چمکتی چھری اب بکرے کی ماں کی آنکھوں سامنے لہرا رہی ہے۔ امریکہ نے جب افریقی، ایشیائی اور مسلمان ممالک میں طاقت کے بدمست ہاتھی کی طرح تباہی کی تو سارا یورپ تالیاں بجانے یا مذمت کرنے تک محدود رہا۔ پھر یوں ہوا کہ امریکی صدر ٹرمپ دوسری بار صدر بن گئے۔

ٹرمپ کے حلف لینے کی دیر تھی کہ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ گرین لینڈ پر قبضہ کر لے گا۔ پھر  تالیاں بجانے والے  یورپی ہاتھ امریکہ پہ انگلیاں اٹھانے لگے، جن میں کچھ تھوڑی بہت طاقت ہے وہ فی الحال آنکھیں دکھارہے  ہیں اور باقی وہ  جنہیں  امریکہ کو ہمیشہ یس سر کہنے کی عادت ہے وہ بڑے نپے تلے انداز میں امریکہ کے خلاف مذمتی بیان دے رہے ہیں۔ لیکن پھر وہی بات کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟

دنیا کے انتہائی شمال میں موجود خوش حال اور امیر ترین ممالک کا اکٹھ نارڈک کہلاتا ہے جس میں ناروے، سوئیڈن، ڈنمارک، فن لینڈ  اور آئس لینڈ آتے ہیں۔ اسی نارڈک ممالک میں شامل ڈنمارک کا ایک ٹکڑا گرین لینڈ ہے جس پہ فی الوقت امریکہ کی نظر ہے۔

اپنے حجم میں یورپ کے نصف درجن ممالک سے بھی بڑا گرین لینڈ 60000 سے بھی کم آبادی رکھتا ہے ان 60000 افراد میں بھی اکثر لوگ گرین لینڈ کے مرکز نیوک میں رہتے ہیں۔ یعنی یہاں کی آبادی بھی اپنا دفاع خود کرنے کے لیے کافی نہیں۔ یہاں کے لوگ ڈنمارک کے شہری کہلاتے ہیں۔

بنیادی طور پہ فشنگ انڈسٹری سے کماتے ہیں لیکن بجٹ کا بڑا حصہ ڈنمارک ہی چلاتا ہے۔

گرین لینڈ جمے ہوئے آرکٹک سمندر سے گھرا ہوا ہے جس کی گہرائی میں تیل و گیس کے ذخائر ہیں جبکہ زیر زمین دنیا کی قیمتی ترین معدنیات چھپی ہیں۔ یہ تو ہوگئی ایک وجہ لیکن گرین لینڈ پہ امریکہ کی نظر کرم کی دوسری وجہ اس کی لوکیشن ہے۔

سیٹیلائٹ سے دیکھیں تو گرین لینڈ امریکہ کے پڑوس میں کینیڈا کی شمالی سرحد  کے بالکل ساتھ نظر آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرین لینڈ کا ڈنمارک اور امریکہ سے فاصلہ لگ بھگ ایک ہی جتنا یعنی تین سے چار ہزار کلو میٹر بنتا ہے۔

امریکہ گرین لینڈ لینا چاہتا ہے اور عالمی نشریاتی ادارے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ امریکہ گرین لینڈ لینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر امریکہ بزور طاقت گرین لینڈ لینا چاہے تو ڈنمارک یا یورپ سے مزاحمت کا چانس نہ ہونے کے برابر ہے۔

تیل، گیس اور معدنی ذخائر کے اس جنگلی شکار کا ڈر صرف ڈنمارک کو نہیں، تیل کے بڑے ذخائر ہونے کی وجہ سے کل کو ناروے بھی امریکہ کی ہٹ لسٹ میں شامل ہوسکتا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ امریکہ سے دوستی کا دعویٰ کرنے والے یہ مال دار سکینڈینیوین ممالک اس وقت شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ اس اچانک افتاد کا جواب کیسے دیں۔

ویسے تو سکیورٹی ماہرین یہاں یورپ میں تھوک کے حساب سے ملیں گے لیکن کمال بات یہ ہے کہ جنگ عظیم دوئم سے امریکہ کا ایک فوجی اڈہ گرین لینڈ کے دور افتادہ ساحل پہ موجود ہے لیکن ہر وقت چین کے قبضے کے خوف میں مبتلا یورپ کو یہ خوف کبھی نہیں ستایا کہ امریکہ ان کی جڑوں میں اترا ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناروے کی یونیورسٹی میں ہمارے پروفیسر سٹیگ یارلے ہانسن نے آج سے دو برس قبل کہا تھا کہ پورے یورپ میں اگر کوئی روایتی فوجی طاقت ہے تو وہ ترکی ہے اور ہم سوچ میں پڑ گئے کہ وہ اکڑ دکھانے والا جرمنی کا کیا ہوا؟ وہ فرانس کے طیارے کہاں گئے؟ سوئیڈن ڈنمارک کے پاس اتنا مال ہے وہ کب کام آئے گا؟

بڑے سوال ہوئے تو پروفیسر صاحب نے ہمیں یورپ کے امیر ترین ممالک کی دفاعی پالیسی، جنگی صلاحیت اور یہاں کی فوجوں کی سوالیہ کن پروفیشنلزم کے بارے میں وہ حقائق بتائے جو بہت سوں کے لیے چشم کشا تھے۔

ایک طرف امریکہ ہے جس کی ملٹری طاقت پہ کوئی سوال نہیں کرسکتا تو دوسری طرف ڈنمارک ہے جس کا ملٹری یونٹ  گرین لینڈ کی منفی پچاس کی سردی میں کتوں کو کاٹھی سے باندھ کر قدیمی انداز میں پٹرولنگ کرتا ہے۔ آگے آپ خود فیصلہ کرلیں۔

اس وقت دنیا میں امریکہ کی غنڈہ گردی یا دادگیری کا یہ عالم ہے کہ مغربی سکیورٹی ماہرین ان دنوں روزانہ کی بنیاد پہ تجزیے کر رہے ہیں کہ گرین لینڈ کی چوٹی سر کرنے میں امریکہ کو وینزویلا جتنا وقت لگے گا یا اس سے بھی کم۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر