ڈونرو ڈاکٹرائن، امریکہ کا نیا نوآبادیاتی منصوبہ؟

ایسے لگتا ہے کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یورپ اور افریقہ کے سامنے کے جتنے ممالک شمالی اور جنوبی امریکہ کے براعظموں کا حصہ ہیں وہ یا تو امریکہ کا حصہ بن جائیں یا پھر بطور ایک نوآبادی کے وائٹ ہاؤس کی دسترس میں آ جائیں۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چھ جنوری، 2026 کو واشنگٹن ڈی سی کے کینیڈی سینٹر میں ہاؤس رپبلکن پارٹی (جی او پی) کے ارکان کے سالانہ ریٹریٹ کے دوران خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

وینزویلا پر حملے کے بعد دنیا ابھی سنبھلی نہیں تھی کہ گذشتہ منگل کو وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے متعدد آپشنز پر غور کر رہے ہیں جن میں فوج کا استعمال شامل ہے۔ 

امریکہ نے گرین لینڈ کے حصول کو قومی سلامتی کی ترجیح قرار دیا ہے۔ 

یورپی یونین کی شدید مخالفت کے باوجود ٹرمپ کے ذہن میں جو کچھ ہے وہ اسی طرح کر گزرنا چاہتے ہیں جس کی ایک جھلک دنیا وینزویلا میں دیکھ چکی ہے۔ 

ٹرمپ انتظامیہ شمالی اور جنوبی امریکہ کے دونوں براعظموں پر اپنا مکمل کنٹرول چاہتی ہے، جسے ایک نیا نو آبادیاتی منصوبہ ڈونروڈاکٹرائن قرار دیا جا رہا ہے۔ 

ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بننے کی پیشکش بھی کر دی تھی۔ 

گذشتہ سال نومبر میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاناما کینال پر قبضہ کریں گے، گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لیں گے اور گلف آف میکسیکو کا نام بدل کر گلف آف امریکہ رکھ دیں گے تو دنیا نے اس پر شدید حیرانی کا اظہار کیا تھا۔ 

لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ گذشتہ سال کے اختتام پر جنوبی امریکہ کے ممالک کی کشتیوں پر بمباری کر رہے تھے، دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز کو جزائر غرب الہند میں تعینات کر رہے تھے اور وینزیلا کے صدر کے خلاف جن اقدامات کی دھمکیاں دے رہے تھے ان کو وہ کر گزرے تھے۔ 

ڈونرو ڈاکٹرائن کا پس منظر کیا ہے اور ٹرمپ اس کو کیوں ناگزیر سمجھتے ہیں؟

مونرو ڈاکٹرائن سے ڈونرو ڈاکٹرائن تک کا سفر

جمیز مونرو امریکہ کے پانچویں صدر تھے جو1817 سے 1825 کے درمیان برسر اقتدار رہے۔ 

آج ریاست ہائے متحدہ امریکہ 50 ریاستوں پر مشتمل ہے لیکن جیمز مونرو کے دور صدارت تک ان ریاستوں کی تعداد 24 تھی جبکہ باقی ریاستوں کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ 

جمیز مونرو نے 1823 میں اپنے سالانہ صدارتی خطاب میں کہا تھا کہ ’امریکہ یورپی ممالک کے داخلی تنازعات یا ان کی باقی نوآبادیات میں مداخلت نہیں کرے گا لیکن اگر کوئی یورپی طاقت امریکہ کے دونوں براعظموں میں توسیع کرنے یا نئی آزاد ہونے والی قوموں پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کرے گی تو اسے ہمارے امن اور سلامتی کے لیے خطرناک اور امریکہ کے خلاف دشمنی سمجھا جائے گا۔‘

جیمز مونرو  کے دور صدارت میں لاطینی امریکہ کے کئی ممالک آزادی حاصل کر چکے تھے۔ تاہم کچھ ممالک اور جزائر پر سپین، برطانیہ، فرانس، نیدرلینڈ، ڈنمارک اور سویڈن کی نوآبادیاں قائم تھیں۔ 

20ویں صدی کے آغاز پر جب تھیوڈر روزویلٹ صدر بنے تو انہوں نے زیادہ جارحانہ طور پر کہا کہ لاطینی امریکہ کو اگر کسی نے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ 

اس کے بعد سے مونروڈاکٹرائن کو لاطینی امریکہ میں مداخلت کے لیے بنیاد کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ 1898 سے 1994 کے دوران امریکہ نے لاطینی امریکہ میں فوجی اور حکومتیں تبدیل کرنے کے کل41 آپریشن کیے۔ 

باراک اوباما وہ پہلے امریکی صدر تھے جنہوں نے 2013 میں کہا تھا کہ مونروڈاکٹرائن ختم ہو چکا ہے۔ 

تاہم جب ٹرمپ برسر اقتدار آئے تو انہوں نے گذشتہ سال نومبر میں 33 صفحات پر مشتمل قومی سلامتی کی حکمت عملی جاری کی جس میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ اس حتمی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ مونروڈاکٹرائن کو اختیار کریں۔ 

اس کے بعد میڈیا نے اسے ڈونروڈاکٹرائن کہنا شروع کر رکھا ہے۔ 

ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں امریکہ کے سیکریٹری آف سٹیٹ ریکس ٹیلرسن نے روس اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے مونروڈکٹرائن کو اپنانے کی تجویز دی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے ذہن میں یہ منصوبہ موجود تھا۔

ان کے رفقا جے ڈی وینس اور سٹیو بینن بھی اس کے ناصرف بڑے حامی سمجھے جاتے ہیں بلکہ اسے امریکی مفادات کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

کیا واقعی روس اور چین لاطینی امریکہ پر اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتے ہیں؟

دنیا کے 146 ممالک چین کے عظیم منصوبے بی آر آئی کا حصہ بن چکے ہیں جس میں براعظم افریقہ کے 53 ممالک کے ساتھ لاطینی امریکہ اور ملحقہ جزائر کے کل 33 میں سے 22 ممالک شامل ہیں۔  

کیوبا، وینزویلا اور نکارا گوا خطے میں روس کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں جنہیں روس نے اسلحہ دے رکھا ہے۔ 

پاناما کینال، جس پر ٹرمپ قبضہ کرنے کا کہہ رہے ہیں، وہاں سے سالانہ 270 ارب ڈالر کا تجارتی سامان گزرتا ہے جس میں سے امریکہ کے بعد سب سے زیادہ سامان چین کا ہوتا ہے۔ 

امریکہ سمجھتا ہے کہ پاناما اس کینال کو چینی کمپنیوں کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے اکنامک کمیشن برائے لاطینی امریکہ (ECLA) کی 17 جولائی، 2025 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکہ کے ممالک میں 2024 کے دوران 188.962 ارب ڈالر کی  بیرونی سرمایہ کاری ہوئی۔

اس میں سے پہلے نمبر پر امریکی سرمایہ کاری ہے جو 38 فیصد ہے، دوسرے نمبر پر یورپی یونین کی 15 فیصد جبکہ چین کی سرمایہ کاری صرف دو فیصد ہے۔ 

تاہم لاطینی امریکی ممالک میں نایاب دھاتوں کے شعبوں میں 2005سے 2024 کے دوران 230.065 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کی گئی جن میں کینیڈا اور برطانیہ 20-20  فیصد حصے کے ساتھ پہلے اور چین 14 فیصد حصے کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ 

شاید یہی وہ شعبہ ہے جہاں پر امریکہ کو تشویش ہے کیونکہ اب دنیا میں جنگ معدنی وسائل کی ہے جس میں کم یاب دھاتیں سب سے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ 

ٹرمپ اب کیا کرنے جا رہے ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے لاطینی امریکہ کے ممالک کو صرف فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں ہی نہیں دیں بلکہ ان پر باہمی تجارت کے لیے سخت محصولات بھی نافذ کیے ہیں۔ 

بظاہر ان اقدامات کو منشیات اور مہاجرین کے تناظر میں بیان کیا جا رہا ہے لیکن درحقیقت ان اقدامات کا مقصد پورے  جنوبی امریکہ پر امریکی بالادستی کو قائم کرنا ہے۔ 

صدر ٹرمپ  کے سابق خصوصی ایلچی برائے لاطینی امریکہ موریسیو کلاور نے، جو اب بھی ان کے حلقہ مشاورت میں شامل ہیں، اپنے دور مشیری میں کہا تھا ’یہ ہمارا محلہ ہے۔ آپ اس وقت تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت نہیں بن سکتے جب تک آپ اپنے خطے میں سب سے بڑی طاقت نہ ہوں۔‘

ماضی میں امریکہ نے لاطینی امریکی ممالک میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لیے کئی امدادی پروگرام شروع کر رکھے تھے۔ 

کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے 1946 سے 2022 کے دوران  لاطینی امریکی ممالک کو 228.3 ارب ڈالر کی امداد دی۔ 

تاہم ٹرمپ نے آتے ہی یہ تمام پروگرام ختم کر دیے اور انہوں نے اپنی توجہ صرف اپنی فرمانبردار حکومتوں پر مرکوز کر رکھی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے ہیں ’جو ان کی بات نہیں مانیں گے انہیں سزا دی جائے گی۔‘

اسی پس منظر میں ارجنٹینا کے صدر جویئر میلی کی حکومت جب وسط مدتی انتخابات میں جا رہی تھی تو ارجنٹینا شدید معاشی دباؤ میں تھا۔ 

ٹرمپ نے اس دوران ارجنٹینا کو 20 ارب ڈالر کا امدادی پیکج دیا تو وہ واضح اکثریت سے انتخابات جیت گئے جس کا کریڈٹ لیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم جنوبی امریکہ پر واقعی اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔ 

صدر میلی نے کامیابی کے بعد امریکہ سے ارجنٹینا کے اہم معدنی وسائل تک رسائی کا معاہدہ کر لیا۔ 

بولیویا میں گذشتہ سال بائیں بازو کی حکومت کو ختم کردیا گیا، جو دو دہائیوں سے برسر اقتدار تھی، اسے امریکی حکام نے اپنی فتح کے طور پر دیکھا۔ 

چلی میں تین ہفتے قبل دائیں بازو کے جوز انٹینیو کو صدر منتخب کر لیا گیا ہے جو ٹرمپ کے بندے سمجھے جاتے ہیں۔ 

جبکہ امریکہ نے اپنے مخالف سمجھے جانے والے نکارا گوا پر سو فیصد محصولات لاگو کر رکھے ہیں۔ کیوبا  اور کولمبیا پر حملے کی دھمکی دی رکھی ہے۔ 

ویزویلا کے صدر کو فوجی آپریشن کے ذریعے گرفتار کر لیا ہے اور میکسیکو کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ امریکہ کا ساتھ  نہ دینے کی کیا قیمت چکانی پڑے گی۔ 

گرین لینڈ پر وینزویلا سے کچھ زیادہ ہونے جا رہا ہے۔

ایسے لگتا ہے کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یورپ اور افریقہ کے سامنے کے جتنے ممالک شمالی اور جنوبی امریکہ کے براعظموں کا حصہ ہیں وہ یا تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا حصہ بن جائیں یا پھر بطور ایک نوآبادی کے وائٹ ہاؤس کی دسترس میں آ جائیں۔ 

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ