نئے انتخابات کا فائدہ کیا؟

سیاسی پارٹیاں 70 سال سے اپنی ناکامیاں اس بات کے پیچھے چھپاتی رہیں کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

لاہور میں ایک ووٹر 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنےکے بعد (اے ایف پی)

پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پی پی پی اور جے یو آئی ف پچھلے کئی ماہ سے نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت نااہل بھی ہے اور دھاندلی زدہ الیکشن کی پیداوار بھی۔ آج اگر عمران خان بھی حکومت میں نہ ہوتے تو شاید نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہوتے۔

سوال لیکن یہ ہے کہ کیا نئے الیکشن سے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے؟ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ نئے الیکشن صاف اور شفاف ہوں گے؟ اگر الیکشن ہی مسائل کا حل ہے تو 2002 سے اب تک تین الیکشن ہو چکے ہیں مگر ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے تو اب ایسا کیا تبدیل ہوا کہ نئے الیکشن سے مسائل حل ہو جائیں گے؟ 

سیاسی پارٹیاں 70 سال سے اپنی ناکامیاں اس بات کے پیچھے چھپاتی رہیں کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 1947 سے 1956 تک سیاستدانوں کو نو سال ملے لیکن وہ قوم کو کچھ نہ دے سکے اور مارشل لاء لگ گیا۔ 1988 سے 1999 تک سیاستدانوں کو 11 سال کا وقت ملا مگر وہ صرف ایک دوسرے کی ٹانگیں کھیچتے رہے اور عوام کو کچھ نہ دے سکے۔ اب 2002 سے 2020 تک 18 سال گزر چکے جس میں تقریباً ہر پارٹی کسی نہ کسی وقت اقتدار کے مزے لے چکی ہے مگر کارکردگی صفر بٹا صفر۔ نہ یہ نیب قوانین میں اصلاحات کر سکے، نہ یہ ادارے بنا سکے، نہ پارلیمان کو فعال بنا سکے، نہ صاف اور شفاف الیکشن کرا سکے، نہ معیشت سنبھال سکے، نہ کشمیر بچا سکے اور نہ خارجہ امور میں ملک کی عزت اور مقام بنا سکے۔ ان کا شکوہ یہ ہے کہ کام نہیں کرنے دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے ان کے سر پر بندوق رکھی تھی کے اقتدار لینا ہی لینا ہے اگر کوئی کام نہیں کرنے دے رہا تھا تو اس سے الگ ہو کر اس پر احتجاج کرتے۔

ان 18 سالوں میں پاکستان کرپشن کے نئے ریکارڈ بھی بناتا رہا جس کا الزام صرف سیاستدانوں پر نہیں ہے بلکہ معاشرے کے تمام بااثر لوگ اس میں شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پی پی پی دونوں یہ مانتے ہیں کہ بیرون ملک سے ٹی ٹیاں آئیں مگر ان کی منطق یہ ہے کہ یہ قانونی تھیں اور اس میں کوئی غیرقانونی کام نہیں ہوا۔

سوال یہ بھی ہے کہ وہ قوانین کس نے بنائے جن سے یہ ٹی ٹیاں جائز قرار دی گئیں۔ اٹھارویں ترمیم میں بہت سے اچھی باتیں تھیں مگر ساتھ ہی یہ کوشش بھی تھی کہ موجودہ نااہل پارٹیاں اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھیں۔ عمران خان کا کھوکھلا پن سب کے سامنے ہے اور پچھلے دنوں جو این آر او انہوں نے نیب آرڈیننس کے ذریعہ اپنے دوستوں کو دیا وہ بھی سب نے دیکھا۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے میں جب پی ٹی آئی میں تھا اسی وقت آپ کو بتا دیا تھا عمران خان سنجیدہ نہیں ہیں۔اس کی بڑی وجہ ان کا خیبر پختونخوا کے احتساب کے ادارے کو بند کرنا تھا۔

سیاسی پارٹیوں کا یہ بھی شکوہ رہا کہ عدالتیں نظریہ ضرورت کو استعمال کر کے فوجی حکمرانوں کے مارشل لا کو قانونی قرار دے دیتی ہیں۔ لیکن پچھلے دنوں یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا جب ایک خصوصی عدالت نے آئین توڑنے پر جنرل مشرف کو سزائے موت سنائی۔ اس فیصلے پر سیاسی پارٹیوں کا کیا ردعمل رہا؟ مکمل خاموشی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ووٹ کو عزت دو کا انقلابی نعرہ لگانے والے چھٹیوں پر ہیں اور ان کے پارٹی کے سربراہ کہتے ہیں کہ ابھی انہیں عدالتی فیصلہ پڑھنے کا وقت نہیں ملا۔ قوم کی لیڈر بننے کی خواہش رکھنے والی بیٹی بھی چپ کے روزے رکھے ہوئے ہے جب کہ اپنے آپ کو جمہوری پاکستان کا باپ کہنے والی پارٹی بھی کہیں گم سم ہے۔

ان سیاسی پارٹیوں کی حقیقت یہ ہے کہ ان کی سیاست صرف طاقت کے حصول کے لیے ہے اور اس کھیل میں یہ سب شامل ہیں۔ آزادی مارچ لے کر آنے والے مولانا فضل الرحمان موجودہ دور کے شیخ رشید ہیں اور قربانی سے پہلے قربانی کے لیے ہر دوسری روز ایک نئی تاریخ کا اعلان کر دیتے ہیں۔

ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضع ہے کہ نہ نیا الیکشن نہ نیا وزیر اعظم مسائل کا حل ہے۔ اب واحد حل یہ ہے کہ ایک نئی عوامی جمہوریہ کی تعمیر کے لیے مذاکرات شروع کیے جائیں۔ سٹیٹس کو پارٹیوں کو بھی ان مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے مگر ان کے ماضی کے غلط فیصلے دیکھ کر یہ عمل مکمل طور پر ان کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے کسی بھی مذاکراتی عمل کو قبول نہیں کیا جائے گا جس میں ہم شامل نہ ہوں۔

سوڈان، لیبیا، الجزائر اور عراق ان تمام ممالک میں عوامی رائے نئی جمہوریہ کی تعمیر میں شامل ہے اور پاکستان کی حکمران اشرافیہ کو بھی اب یہ قبول کرنا پڑے گا ورنہ سخت عوامی ردعمل کے لیے تیار رہیں۔ ریٹائرڈ جرنیل، اقتصادی ماہر، بیوروکریٹ، اور سیاسی کارکنان جو مجھ سے رابطے میں ہیں ان سب سے میری یہ درخواست ہے کے نئی جمہوریہ کی تعمیر کے لیے اپنی تیاری بھرپور طریقے سے جاری رکھیں۔ اب اس ملک کو استحصالی قوتوں سے آزاد کرنے کا وقت قریب ہے۔ اگر یہ موقع اس قوم نے گنوا دیا تو شاید کئی دھائیوں تک یہ ملک نہ سنبھل سکے۔

میں آپ سب کو نئے سال کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آپ کی صحت، خوش حالی اور ترقی کے لیے دعا گو ہوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ