کینیڈا سمیت پانچ ممالک کا ایران کے خلاف قانونی کارروائی پرغور

یوکرینی طیارہ مار گرانے کے اعتراف کے بعد ایران میں مظاہروں کا سلسلہ پیر کو تیسرے روز بھی جاری رہا اور مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کی بھی رپورٹس ہیں۔

11جنوری کو لی گئی اس تصویر میں ایک خاتون امیر کبیر یونیورسٹی کے باہر ایک مظاہرے میں پولیس کے سامنے پوسٹر لیے کھڑی ہیں جس پر فارسی میں لکھا ہے ’آپ کی غلطی غیر ارادی تھی پر آپ کا جھوٹ ارادی تھا۔‘ (اے ایف پی)

ایران کی جانب سے یوکرینی مسافر طیارے کو مار گرائے جانے کے اعتراف کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ پیر کو تیسرے روز بھی جاری رہا جبکہ پانچ ایسے ممالک جن کے شہری اس حادثے میں ہلاک ہوئے ایران کے اس اقدام کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے جمعرات کو لائحہ عمل پر غور کریں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو بھی ایران بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا جن میں مظاہرین طیارے کے واقعے میں ملوث اعلیٰ حکام کی برطرفی اور ان کے احتساب کا مطالبہ کر رہے تھے۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ ملک میں آزاد میڈیا پر پابندی کے باعث مظاہروں کی درست منظر کشی کرنا مشکل کام ہے تاہم سوشل میڈیا پر جاری تصویروں اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درالحکومت تہران اور جنوبی شہر اصفہان کی جامعات کے سینکڑوں طلبہ اور دیگر شہری مختلف مقامات پر حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ہیں۔ احتجاج کے دوران ’مولویوں یہاں سے دفع ہو جاؤ‘ جیسے نعرے بھی سنائی دیے جبکہ تہران اور اصفہان کی جامعات کے باہر انسداد شورش پولیس کو سڑکوں پر پوزیشن لیے دیکھا جا سکتا ہے۔

گذشتہ دو روز کے دوران مظاہروں کے دوران لی گئی تصاویر میں خون میں لت پت زخمی افراد کو زمین سے اٹھا کر کہیں منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز میں بھی گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں تاہم پولیس کی جانب سے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے کسی بھی واقعے کی تردید کی گئی ہے۔

تین جنوری کو امریکی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں ایران نے آٹھ جنوری کو عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے سے اڑنے والے ایک یوکرینی طیارے کو ’غلطی‘ سے مار گرایا تھا، جس میں عملے کے ارکان سمیت تمام 176 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔

ایرانی حکام پہلے پہل واقعے کو حادثہ قرار دیتے رہے تاہم عالمی دباؤ پر تسلیم کیا کہ انھوں نے غیر ارادی طور پرغلطی سے طیارے کو امریکی کروز میزائل سمجھ کر نشانہ بنایا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی حکومت کے اعتراف کے بعد ملک میں ہزاروں مظاہرین اعلیٰ عہدے داروں کی برطرفی اور ان کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے سٹرکوں پر نکل آئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور مظاہرین کے علاوہ برطانوی سفیر کو بھی گرفتار کر لیا تھا تاہم انھیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

ایران کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی

یوکرین کے وزیر خارجہ نے روئٹرز کو بتایا کہ پانچ ممالک، جن کے شہری یوکرینی طیارے واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے، جمعرات کو لندن میں اہم اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں ایران کی جانب سے مسافر طیارے کو نشانہ بنانے پر اس کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیا جائے گا۔

ان پانچ ممالک میں کینیڈا بھی شامل ہے جس کے کم سے کم 57 شہری ہلاک ہوئے، جن میں طلبہ اور ماہرین تعلیم شامل تھے، جو چھٹیوں کے بعد واپس کینیڈا جا رہے تھے۔

’گلوبل نیوز ٹی وی‘ کے مطابق کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کو کہا کہ اگر خطے میں کوئی کشیدگی نہ ہوتی تو  طیارےمیں سوار افراد اب زندہ اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھروں میں ہوتے۔

کینیڈا کے ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے کہا ہے کہ ایران نے ایجنسی کو تحقیق میں سرگرم کردار ادا کرنے کی اجازت دی ہے جس کے بعد کینیڈا کے دو ماہرین طیارے کے کاک پٹ میں نصب بلیک باکس میں ریکارڈ آوازوں اور ڈیٹا ریکارڈرز کے تجزیے کے لیے تہران جا رہے ہیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا