گاڑیاں پہنچ اور سوچ سے دور

اب صورت حال یہ ہے کہ جو شخص آٹھ سے دس لاکھ میں گاڑی خریدنا چاہتا ہے اس کے پاس لے دے کر مقامی سطح پر بننے والی ایک چھوٹی سی گاڑی ہی رہ جاتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سے نیب کیسز، عدالتی فیصلے اور وزرا کے بیانات تو اپنی جگہ جاری ہی ہیں، مگر مہنگائی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ایسی چیزیں ہیں جو عام آدمی کو براہ راست متاثر کر رہی ہیں۔

جن چیزوں کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی پریشان ہے، اس میں گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں جب سے نئی حکومت آئی ہے گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہی دیکھا جا رہا ہے۔

مقامی سطح پر بنائی جانے والی گاڑیاں تو اپنی جگہ، درآمد کی جانے والی گاڑیاں بھی اب عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور جا چکی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک سال پہلے جو گاڑی آپ دس لاکھ میں خرید سکتے تھے، اس کے بارے میں اب آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔

گذشتہ سال یعنی 2019 گاڑیوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے انتہائی مایوس کن سال رہا ہے۔

اندازے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً 43 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم نومبر کے مقابلے میں دسمبر 2019 کو دیکھا جائے تو اس دوران گاڑیوں کی فروخت میں قدرے بہتری آئی۔ 

قیمتوں میں اس اضافے کی مختلف وجوہات ہیں جن میں ایک ڈالر کی پرواز بھی ہے۔ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تھی تو ڈالر تقریباً 127 روپے پر تھا، لیکن پھر اس نے اس طرح فراٹے بھرے، جیسے خالی سڑک پر گاڑی چوتھے گیئر میں دوڑتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ایک سال میں ڈالر 160 تک جانے کے بعد آج کل 155 کے آس پاس ہے۔

اس کے علاوہ دیگر وجوہات میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی ہے۔ جو کمپنیاں پاکستان میں گاڑیاں بناتی ہیں انہوں نے پیداوار تو کم کر دی ہے لیکن قیمتیں کم نہیں کیں۔

دوسری جانب پاکستان میں بننے والی گاڑیوں کا کچھ حصہ پاکستان میں ہی تیار ہوتا ہے جب کہ کچھ حصہ درآمد کیا جاتا ہے مگر ڈیوٹی پوری گاڑی کی قیمت میں ہی شامل کر دی جاتی ہے۔ اصولاً جو حصہ درآمد کیا گیا ہے ڈیوٹی صرف اس پر ہی لگائی جانی چاہیے۔

صارفین کیا کہتے ہیں؟

ایک صارف جو اپنے لیے گاڑی خریدنا چاہتا ہے اسے مارکیٹ میں اس وقت کیا دستیاب ہے؟

یہی سوال ہم نے جب ایک صارف ملک آصف سے کیا جو اپنے لیے گاڑی کی تلاش میں مختلف شورومز کا دورہ کر چکے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کا حال دیکھ کر وہ پریشان ہو گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا بجٹ 15 لاکھ ہے لیکن ان پیسوں میں انہیں کوئی گاڑی نہیں مل رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش تو تھی کہ اتنے پیسوں میں کوئی 1300 سی سی آٹومیٹک گاڑی مل جائے لیکن مختلف شورومز گھومنے کے بعد انہیں ایسی کوئی گاڑی نہیں ملی۔

ان کی ذاتی خواہش تو یہ تھی کہ وہ پاکستان میں ہی بننے والی کوئی گاڑی خریدیں لیکن اب انہیں کوئی جاپانی گاڑی بھی نہیں مل رہی اور جو دستیاب ہیں وہ ان کی ضروریات کو پورا نہیں کرتی۔

ڈیلر کیا کہتے ہیں؟

گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے اور گاہکوں کی صورت حال کے بارے میں جاننے کے لیے ہم نے ایک کار ڈیلر رانا عمیر سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔

اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی حیران ہیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔

رانا عمیر نے بتایا: ’پہلے بھی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا تھا لیکن ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ کب کتنا اضافہ متوقع ہے۔ اب تو ہر ہفتے ہی قیمتیں بڑھنے کا نوٹس آجاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اب صورت حال یہ ہے کہ جو شخص آٹھ سے دس لاکھ میں گاڑی خریدنا چاہتا ہے اس کے پاس لے دے کر مقامی سطح پر بننے والی ایک چھوٹی سی گاڑی ہی رہ جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت