جمہوریت، شفافیت اور معاشی ترقی کا سفر معکوس

اگر یہ عرصہ اقتدار معیشت، طرز حکمرانی، خارجہ پالیسی اور سیاسی بحرانوں سے نمٹتے گزر گیا تو عمران سرکار انتخابات میں عوام کے پاس کیا لے کر جائے گی؟

آثار نمایاں ہیں کہ اگر قبل از وقت انتخابات نہ ہوئے تو موجودہ حکمرانوں کی تبدیلی ناگزیر ہوجائے گی(اے ایف پی)

اگر وقت پر انتخابات ہوں تو تین سال اور کچھ ماہ رہتے ہیں۔ حکومت کا چالیس فیصد عرصہ حکمرانی گزر چکا لیکن حکمرانوں کا رویہ ایسا ہے کہ جیسے کل ہی وارد ہوئے ہوں اور ان کے پاس بہت وقت پڑا ہے۔ ہر روز کسی نئے تجربے کی تیاری لگتی ہے۔

وقت ہے کہ تیزی سے گزر رہا ہے، لیکن جن وعدوں کی تکمیل کے لیے یہ حکومت لائی گئی تھی وہ آج بھی کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر غیر معمولی دباؤ کے باوجود ہر طرف سے ٹوٹ پھوٹ کی خبریں آ رہی ہیں۔ آثار نمایاں ہیں کہ اگر قبل از وقت انتخابات نہ ہوئے تو موجودہ حکمرانوں کی تبدیلی ناگزیر ہوجائے گی۔

ابھی لوگ آٹے کو رو رہے تھے کہ چینی مہنگی ہونے کی خبریں گرم ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ اس کے علاوہ ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔

افراط زر، مہنگائی اور بے روزگاری کے گرداب میں پھنسے عوام کو بہتری کی کوئی شکل نظر نہیں آتی لیکن وزیر اعظم عمران خان آئے دن قوم کو کوئی نئی خوشخبری سناتے ہیں۔

ابھی وہ ورلڈ اکنامک فورم سے لوٹے ہیں۔ اعلان یہ ہوا ہے کہ ان کے سفری اخراجات اکرام سہگل نامی بزنس مین نے ادا کیے ہیں۔ مفادات کے ٹکراؤ کا درس دینے والے وزیر اعظم کی حکومت کے اگلے اقدامات پر نظر رکھنا ہوگی کہ سہگل صاحب اور ان کے تجارتی مفادات پر اس کے کیا اثرات پڑتے ہیں کیونکہ امریکی کہتے ہیں کہ کوئی فری لنچ نہیں ہوتا۔

لیکن ہم تو حال ہی میں دیکھ چکے ہیں کہ جہانگیر ترین جن کو سپریم کورٹ برطانیہ میں ان کی جائیدادوں کو ظاہر نہ کرنے پر تاحیات نا اہل قرار دے چکی ہے اور جو اس سے پہلے سیکورٹیز ایکسچینج کمیشن کی طرف سے بھی جرمانے ادا کرچکے ہیں، انھیں ان بحرانوں کو حل کرنے کا فریضہ سونپا گیا ہے، جن پر انھیں پیدا کرنے کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔

ان پر پہلے گندم برآمد کرنے اور اب درآمد کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ موجودہ بحران کی تحقیق عدالتی کمیشن کی بجائے ایف آئی کے حوالے کرنے کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ معیشت کے حوالے سے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے اداروں سے بھی خبریں منفی ہی مل رہی تھیں۔ رہی سہی کسر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ ہے جس کے تحت عمران سرکار آنے کے بعد پاکستان میں بدعنوانی اور بدعنوانی کا تاثر، دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ سب ایسے وقت ہوا ہے جب عمران خان سرکار ڈیووس میں دنیا بھر کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ پاکستان کا اصل مسئلہ بدعنوانی ہے جوکہ ان کے بقول پچھلی حکومتوں میں زیادہ تھی۔ رپورٹ آنے کے بعد کئی حکومتی نمائندے اب اسی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں، جس کے جھنڈے کو عمران خان پچھلی حکومتوں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں۔

اٹھارہ ماہ کی پکڑدھکڑ اب بغیر کسی نتیجے کے خاتمے کی طرف جا رہی ہے۔ آہستہ آہستہ اس مہم کے شکار پنچھی پنجروں سے باہر آ رہے ہیں۔ عمران سرکار نے آتے ہی سابق پرنسپل سکریٹری برائے وزیر اعظم فواد حسن فواد کو دھر لیا تھا۔

اٹھارہ ماہ قید میں رہنے کے بعد جب لاہور ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تو نیب پراسیکیوٹر کے پاس کسی سوال کا جواب نہ تھا۔ رانا ثنا اللہ اور مفتاح اسمعٰیل نے جو قصے باہر آکر بتائے ہیں، ان سے احتساب کے نام پر یک طرفہ انتقام کا سارا کچھہ چٹھہ باہر آچکا ہے۔

اب معاملہ یہ ہے کہ فوج کے سربراہان کی توسیع اور دوبارہ تقرری سے متعلق قانون سازی ختم ہوتے ہی پی ٹی آئی حکومتیں چاہے مرکز میں ہو یا صوبوں میں، طوفانی سمندر میں ٹوٹی ہوئی کشتیوں کی طرح ہچکولے کھا رہی ہیں۔ ابھی تک ایم کیو ایم تمام تر منت ترلے کے باوجود استعفیٰ واپس لینے کے لیے تیار نہیں۔ وفاق میں بی این پی مینگل کی بُڑ بُڑ اور ق لیگ کی کُڑکُڑ ابھی تک جاری ہے لیکن معاملہ اب صوبوں میں بھی گرم ہو رہا ہے۔

پنجاب، جہاں نومبر میں عمران خان نے نئے چیف سکریٹری اور آئی جی پولیس کے ذریعے عملی طور ایک گورنر راج لگا دیا تھا، بغاوت پھوٹ پڑی ہے۔ سیاست دان نوکرشاہی کے سامنے بے بس ہوکر ہاتھ باندھے کھڑے ہونے سے انکاری ہیں۔ اب عثمان بزدار کے دوست ارکان اسمبلی نے بھی 20 ارکان کا ایک گروپ بنا لیا ہے، جوعمران خان کی طرف سے چیف سکریٹری اور آئی جی کے غیرمعمولی اختیارات ماننے کو تیار نہیں۔

اس بغاوت میں ق لیگ نے بھی اپنا سُر ملایا ہے۔ گجرات کے چوہدری آئے دن اپنے اختلافات کھل کر سامنے لارہے ہیں۔ پنجاب میں بلند ہوتا ہوا درجہ حرارت تخت لاہور اور تخت اسلام آباد، دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

ایسے میں اب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی تبدیلی کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ عاطف خان کی طرف سے وزیر اعلیٰ محمود خان کے خلاف اعلان بغاوت اور ان پر بدعنوانی کے الزامات نے صوبے کے ٹھنڈے ماحول کو گرما دیا ہے۔ ادھر کوئٹہ میں سپیکرعبدالقدوس بزنجو کی طرف سے جام کمال کی حکومت گرانے کا اعلان بھی ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لوہا گرم تھا۔

جنوری کے یخ بستہ ماحول میں سیاسی درجہ حرارت ایسے وقت میں بلند ہو رہا ہے جب معیشت، طرز حکمرانی اور خارجہ پالیسی شدید بحران کا شکار ہیں۔ ہوسکتا ہے کچھ دے دلا کر سیاسی بحران کو ٹھنڈا کر لیا جائے لیکن یہ سیاسی جھٹکے اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک معیشت اور حکومتی کارکردگی میں بنیادی بہتری نہیں آتی۔

جب تک یہ نہیں ہوتا تو اگر موجودہ سیاسی بحران حل ہو بھی جائے تو نت نئے بحران پیدا ہوتے رہیں گے۔ اصل بات تو یہ ہے اگر یہ عرصہ اقتدار ان بحرانوں سے نمٹتے گزر گیا تو عمران سرکار انتخابات میں عوام کے پاس کیا لے کر جائے گی؟

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر