’نئے ایئرپورٹ کے اکاؤنٹ سے چوہدری شوگر ملز کو پیسے بھجوائے گئے‘

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے اکاؤنٹ سے چوہدری شوگر ملز کو پیسے بھجوائے جاتے رہے ہیں۔

شہزاد اکبر نے صحافیوں سے کہا کہ یہ خبر آپ کے لیے ’سرخی‘ ہے  (سوشل میڈیا)

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے اکاؤنٹ سے چوہدری شوگر ملز کو پیسے بھجوائے جاتے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران شہزاد اکبر نے صحافیوں کو بتایا کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹھیکے سے 56 کروڑ چوہدری شوگر ملز کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے۔

صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ ’یہ خبر آپ کے لیے سرخی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کا بڑا ٹھیکہ ٹینیکل ایسوسی ایٹ نامی کمپنی کو دیا گیا۔ ان کے مطابق: ’ٹینیکل ایسوسی ایٹ والوں کی نواز شریف اور مریم نواز سے رشتہ داری ہے۔‘

شہزاد اکبر نے بتایا کہ ایئر پورٹ کا ڈیزائن تبدیل کیا گیا جس سے اس کی لاگت میں اضافہ ہوا اور تاخیر ہوئی جس کا فائدہ کمپنی کو ہی ہوا۔

معاون خصوصی نے بریفنگ کے دوران پانچ کروڑ کا ایک چیک بھی دکھایا، جو ان کے مطابق 24 جون 2015 کا تھا اور محمد شجاعت عظیم کے نام پر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں محمد شجاعت عظیم ایوی ایشن کے وزیر تھے۔

انہوں نے کہا: ’کمپنی کے شیئرز بھی پہلے 45 فیصد نواز شریف کے نام ہوئے اور پھر مریم نواز کے نام ہوگئے اور جب پاناما جے آئی ٹی شروع ہوئی تو یوسف عباس کے نام پر ڈال دیے گئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہزاد اکبر نے مزید بتایا کہ ایک کمپنی پنجاب کارپٹ کے نام سے ظاہر کی گئی جس نے نواز شریف کے خاندان کو چوہدری شوگر ملز میں لگانے کے لیے چھ کڑور پانچ لاکھ کا قرض دیا۔

انہوں نے کہا: ’کمپنی ظاہر کر کے نواز شریف نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے قرض لیا اور وہ کبھی واپس ہی نہیں کیا اور جب دوبارہ وزیر اعظم بنے تو اس قرض کو ختم کر دیا گیا۔‘

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اسی طرح عمر شہریار نامی شخص نے بھی چوہدری شوگر ملز کو تین کروڑ 30 لاکھ  قرض دیا، اور تحقیقات کرنے پر معلوم ہوا کے ان کے اکاؤنٹ میں یہ پیسہ باہر سے آیا ہے جو انہوں نے سیدھا چوہدری شوگر ملز کو دے دیا۔

ریکوری کے عمل میں تاخیر کے سوال پر شہزاد اکبر نے کہا: ’نواز شریف لندن جا کر بیٹھے ہیں، یہاں تھے تو سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ ان صحت کے حوالے سے آگاہ کیا جاتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’اب اگر نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ملنے والی ضمانت میں توسیع ہوتی ہے یا نہیں ہوتی تو وہ پھر عدالت میں جائیں گے اور سلسلہ چلتا رہے گا۔ تو آپ سمجھیں کہ ہمیں اسی نظام میں رہ کر کام کرنا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست