آرمی چیف کی توسیع: توہین عدالت کی درخواست واپس

پشاور ہائی کورٹ میں آرمی چیف کی توسیع کے فیصلے کے پر تبصرہ کرنے والے وفاقی مشیر اطلاعات اور وزیر قانون کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی (تصویر: پشاور ہائی کورٹ)

پشاور ہائی کورٹ میں آرمی چیف کی توسیع کے فیصلے کے پر تبصرہ کرنے والے وفاقی مشیر اطلاعات اور وزیر قانون کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

یہ استدعا درخواست گزار کی جانب سے ہی کی گئی ہے جس پر عدالت نے اس سے پوچھا ہے کہ کیا انہیں کسی کی جانب سے ڈرایا یا دھمکایا گیا ہے؟

یہ درخواست پشاور ہائی کورٹ کے وکیل شبیر گگیانی کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ  وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور مشیر برائے قانون فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ درخواست میں ان کا موقف تھا کہ ان شخصیات نے  آرمی چیف کی توسیع کے حوالے سے فیصلے کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی۔

درخواست میں اٹارنی جنرل انور منصور اور مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو بھی فریق بنایا گیا تھا اور ان کے خلاف بھی کارروائی کی درخوست کی گئی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار شبیر احمد گگیانی کے کلرک نے عدالت کو بتایا کہ ان کے سینیئر درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔

جس پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس روح الامین نے کہا کہ اپنے سینیئر کو بتائیں کو وہ عدالت میں پیش ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ ’کیوں درخواست واپس لینا چاہتے ہیں کیا کسی نے ڈرایا دھمکایا ہے۔‘

اس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کسی نے ڈرایا نہیں، وہ اداروں کے درمیان ٹکراؤ نہیں چاہتے، جس پر جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا: ’ہم یہاں اداروں کے درمیان ٹکراؤ کے لیے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے بیٹھے ہیں۔‘

عدالت نے درخواست گزار کی درخواست واپس لینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس خارج کر دیا۔

عدالت میں اسی نوعیت کی ایک اور درخواست ملک اجمل نے بھی دائر کر رکھی ہے۔

اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل پیش نہ ہوئے اور وکیل کے اسسٹنٹ نے عدالت سے وقت مانگ لیا۔ عدالت نے اسی کیس کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان