سپین میں اپنی شناخت بنانے والے پاکستانی

سفیان یونس ایسے انسانیت پسند ہیں کہ امن و امان کی کوششوں میں حد سے گُزر جانے والے ہیں۔

(اے ایف پی)

بارسلونا سے 18 کلومیٹر پر واقع سابادل نامی شہر آباد ہے۔ پارک تاؤلی یہاں کا یونیورسٹی ہسپتال ہے جو اس شہر کی آٹھ ڈسپنسریوں اور ایک تحصیل ہسپتال کے ساتھ منسلک ہے۔ سابادل ان ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں تقسیم شہر ہے جس کا مرکز کاتالونیہ کے مہنگے اور جدید مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

اس شہر میں تارکین وطن کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے جن میں لاطینی امریکی سرِ فہرست ہیں۔ پاکستانی بھی یہاں آباد ہیں مگر وہی جن کو آفاتِ زمانہ سے دُور رہ کر کُچھ کرنے کا شوق ہے۔

فیاض ملک یہیں رہتے ہیں۔ ہسپانیہ میں جن لوگوں کو اردو شعر و ادب سے دلچسپی ہے وہ سابادل کو فیاض ملک کے واسطے سے جانتے ہیں۔ بہت عرصہ قبل جنوبی سابادل میں اکلوتا پاکستانی ڈونر کباب ریستوران ہوا کرتا تھا، صاف اور کھلا، تزئین و آرائش پرانے اندلس والی، بھورے رنگ کی تراشیدہ سیاہ حاشیے سے ڈھکی ٹائلیں جوفرش اور دیواروں پر سلیقے سے لگی تھیں۔ یہ ریستوران آج بھی ہے مگر اس کے مالک سفیان یُونس جو اشتہاری کم اخباری زیادہ ہیں، اب ٹیکسی سیکٹر سے وابستہ ہیں۔

سفیان کا تعلق لاہور سے ہے، ہسپانوی شہریت حاصل کر چُکے ہیں، یہیں رشتہ ازدواج میں مُنسلک ہوئے، تعلیم یافتہ ہیں، تُرش و شیریں مزاج کا امتزاج، مہمان نواز شخص ہیں۔ ناقد ہیں اور تنقید برداشت بھی کرتے ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ 15 سال میں زلزلےاور سیلاب جتنے بھی آئے، سفیان نے بڑھ چڑھ کر ہنگامی بنیادوں پر کاتالونیہ سے سامانِ ضرورت اور ادوئیہ پاکستان بھجوائیں۔ سماجیات اُن کی طبیعیت کا جُزِ لاینفک ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابادل جس علاقے میں واقع ہے اُسے جفرافیائی لحاظ سے بایَیس کہتے ہیں۔ بایَیس کی تارکین وطن کی فیڈیریشن (فائیو) متحرک پلیٹ فارم ہے اور اس کے بانیوں میں سے ایک سفیان یونس اب اس ادارے کے جنرل سیکریٹری ہیں۔ اس فیڈریشن میں لاطینی امریکن، افریقی اور پاکستانی غریب الوطن شامل ہیں اور یہ فیڈریشن ہر سال ایسے پروگرام منعقد کرتی ہے جن کا تعلق فلاحی بہبود، حقوق و فرائض، مہاجرین پالیسی اور تعلیم سے ہوتا ہے۔

سابادل اور کاتالونیہ کی سیاسی، سماجی اداریاتی شخصیات اس میں شرکت کرتی ہیں۔ سفیان یونس سیاسی اور سماجی دونوں سطحوں پر جتنے متحرک ہیں اُتنے مقبُول بھی ہیں۔ یہ اُن پاکستانی نژاد ہسپانوی شہریوں میں سے ہیں جو کماحقہ معاشرتی انضمام کے حق میں ہیں۔

2009 میں سوشلسٹ پارٹی کے صدر خوسے لوئس ساپاتیرو کی حکومت کے تارکین وطن کے حقوق کے خلاف قانون بنانے پر سبادیل شہر سے میڈرڈ تک 800 کلومیٹر اور 31 دن تک پیدل مارچ کاحصہ بنے۔ پودیموس، انیسیاتیوا جماعت میں کے قریب رہے جوہسپانیہ کی اُس وقت نوزائیدہ مزدور پسند، (عام طور پر گرین پارٹی کے نام سے سارے یورپ میں مقبول ہوتی جماعت سے مشابہ) جماعت تھی۔ آج ہسپانیہ کے نائب صدر جناب پابلو اگلیسیاس اسی سیاسی اتحاد کے سربراہ ہے جو سوشلسٹ جماعت کے ساتھ حکومت میں شامل ہے۔

انیسیاتیوا کی سینیٹر سارا ولا اِن کے ساتھ پاکستان یاترا بھی کر چُکی ہیں۔ سارا ولا وہ ہیں جنھوں نے کاتالان پارلیمنٹ میں سانحۂ اے پی ایس کے موقع پر پہلی پاکستان دوست قرار داد پیش کی اور پارلیمنٹ میں پاکستانی خاندانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے ساتھ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اب سفیان یونس کاتالونیہ کی آزادی پسند جماعت ای آر سی کے رکن ہیں۔

2013 میں سبادیل کے میئر سے بطور پاکستانی نژاد شہری بہترین سماجی کارکردگی کا ایوارڈ وصول کیا۔ سفیان یونس ایسے انسانیت پسند ہیں کہ امن و امان کی کوششوں میں حد سے گُزر جانے والے ہیں۔ ان کے ریستوران کی سامنے ایک بڑی لڑائی میں جب کوئی بھی خون میں لت پت جوان کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھا، یہ حالات اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر آتش میں کُود گئے اور اُس جوان کو ابتدائیطبی سہولت پہنچانے سے لے کر ہسپتال پہنچا کر دم لیا۔ اُن کی اِن بہادرانہ اور انسان دوست حرکات و سکنات پر سابادل پولیس نے 2019 میں انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔

سفیان بہت سے ان نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو معاشرتی انضمام اور انسان دوستی میں کُچھ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی شناخت بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ شناخت، جو محنت سے ملتی ہے، محنت جس کے ساتھ استقامت بھی ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ