اسحٰق ڈار کے گھر میں بننے والی پناہ گاہ کے مکین کنٹینروں میں منتقل

بھلا کنٹینروں سے پارکوں میں بھی پناہ گاہیں بنتی ہیں؟ پتہ نہیں حکومت کو یہ مشورے کون دیتا ہے: علاقہ مکین

اسحٰق ڈار کے گھر میں   قائم کی گئی پناہ گاہ کو گھر کے سامنے واقع ڈی گراؤنڈ میں عارضی کنٹینروں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ (تصویر: ارشد چوہدری)

عدالتی احکامات کے بعد حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے مکان میں بنائی گئی پناہ گاہ تو ختم کردی گئی، لیکن اب اس پناہ گاہ کو گھر کے سامنے واقع ڈی گراؤنڈ میں عارضی کنٹینروں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

سرکاری عملے نے اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ کے اندر دو راتیں گزارنے والے بے گھر افراد کا سامان نکال کر کنٹینروں میں منتقل کردیا جبکہ پناہ گاہ کے بینرز بھی عمارت سے ہٹا کر کنٹینروں پر لگا دیے گئے ہیں۔

ان کنٹینروں میں 20 سے 25 افراد کے سونے کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ عارضی واش روم اور بجلی کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ آخر یہ عارضی پناہ گاہ ان کنٹینروں میں کب تک قائم رہے گی؟

اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے جب انڈپینڈنٹ اردو نے اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن ذیشان رانجھا سے رابطہ کیا تو انہوں نے اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ سے فوری پناہ گاہ کا سامان نکال کر کنٹینروں میں منتقل کرنے کو ایک ’چیلنج‘ قرار دیا۔

ذیشان رانجھا نے بتایا کہ راتوں رات کنٹینرز کا انتظام کیا گیا اور سامان منتقل کرکے وہاں بے گھر افراد کو ٹھہرایا گیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کنٹینرز کہاں سے آئے اور پارک میں کب تک پناہ گاہ قائم رہے گی تو انہوں نے جواب دیا کہ ’یہ دو ہفتوں کا عارضی بندوبست ہے، ہم کوئی سرکاری جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ آس پاس جہاں بھی کوئی مناسب جگہ ملے گی اس پناہ گاہ کو وہاں منتقل کردیا جائے گا کیوں کہ یہاں اہل علاقہ کے بھی تحفظات ہیں۔‘

کنٹینروں کے حوالے سے سوال پر اسسٹنٹ کمشنر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’فوری انتظام کے لیے جہاں سے ملے لے لیے، بعد میں ان کا کرایہ دینے کی کوشش کریں گے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹینٹ وغیرہ لگانے سے موسمی اثرات کے پیش نظر مشکلات پیش آسکتی تھیں۔ اس لیے کنٹینروں میں پناہ گاہ قائم کی گئی ہے۔

تاہم کنٹینر کے مکین اور اہلِ علاقہ اس حوالے سے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسحٰق ڈار کے گھر کی نیلامی روک کر اسے بند رکھنے کا حکم دیا تو حکومت نے اسے پناہ گاہ میں تبدیل کرکے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیوں کی اور بے گھر افراد کا مذاق کیوں بنایا گیا؟

ایک علاقہ مکین محمد فراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’بھلا کنٹینروں سے پارکوں میں بھی پناہ گاہیں بنتی ہیں؟ پتہ نہیں حکومت کو یہ مشورے کون دیتا ہے۔ اسحٰق ڈار کے گھر کی نیلامی روکے جانے کے بعد یہاں پناہ گاہ قائم کرنا بے گھر لوگوں سے مذاق ہے کیوں کہ جب عدالت نے گھر فروخت کرنے سے روک دیا تو اسے کسی اور طرح سے استعمال کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟‘

حکومت پنجاب احتساب عدالت کے حکم پر کچھ عرصہ قبل اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ کی نیلامی کرنا چاہتی تھی لیکن سابق وزیر خزانہ کی اہلیہ کی جانب سےاسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی کہ یہ گھر ان کے نام ہے لہذا حکومت نیلامی یا اس کا استعمال نہیں کر سکتی۔

جس پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے نیلامی روکنے کا حکم دیا۔

 تاہم حکومت نے کچھ دن بعد یہاں پناہ گاہ قائم کردی، جس پر اسحٰق ڈار کے وکلا کی جانب سے دوبارہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تو عدالت عالیہ نے ایک بار پھر حکومت کو اس گھر میں قائم عارضی پناہ گاہ ختم کرنے کا حکم دیا اور یوں دو دن بعد ہی یہ رہائش گاہ سرکاری اہلکاروں کی مدد سے خالی کرانا پڑی۔

پناہ گاہ کے لیے لگائے گئے بستر اور دیگر سامان اٹھا کر اسحٰق ڈار کے گھر کے سامنے ڈی پارک میں کنٹینر لگا کر وہاں منتقل کردیے گئے اور یوں بے گھر افراد صرف دو راتیں ہی اس عالی شان گھر میں گزار سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان