خورشت قیمہ: ایرانی ڈش جس میں قیمہ ہی نہیں

ایران کے قومی دن کے موقع پر پشاور میں ایک فوڈ فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد دونوں ملکوں کی دوستی کو فروغ دینے کے علاوہ ایرانی پکوانوں کو پاکستان میں متعارف کرانا بھی تھا۔

پشاور میں ایرانی ثقافتی مرکز میں ایران کے قومی دن کے موقع پر ایک فوڈ فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا جس میں ایران کے مشہور کھانوں کی سات اقسام پیش کی گئی تھیں۔

ان روایتی کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی جس کا مقصد پاکستان ایران دوستی کو فروغ دینے کے علاوہ ایرانی پکوانوں کو پاکستان میں متعارف کرانا بھی تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ایک ایرانی خاتون کا کہنا تھا کہ ان کھانوں میں استعمال ہونے والی بعض اشیا پاکستان میں باآسانی دستیاب نہیں ہیں تاہم پشاور کی کارخانو مارکیٹ یا دیگر جگہوں میں یہ اجزا ڈھونڈنے سے مل بھی جاتے ہیں ورنہ پھر ایران یا افغانستان سے منگوائے جا سکتے ہیں۔

اس موقع پر جو ایرانی روایتی کھانے پیش کیے گئے ان کے نام زیرش زعفران چاول، کباب کوبیدہ، فسنجون، کشک بازنجان، خورشت قیمہ، آشپز اور سلاد الویہ تھے۔

واضح رہے کہ ایران کے روایتی کھانوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میں مرچ مصالحے شامل نہیں ہوتے، پھر بھی یہ ذائقے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ایرانی کھانوں کی یہی بات افغانستان، ازبکستان، تاجکستان اور پاکستانی پشتونوں کے کھانوں میں بھی نہ صرف مشترک ہے بلکہ ان کے اکثر روایتی کھانوں کی ترکیب کی جڑیں بنیادی طور پر ایران سے ملتی ہیں۔

ایران کے ثقافتی مرکز میں فوڈ فیسٹیول کے موقع پر ایرانی انقلاب کے 41 سال پورے ہونے پر پینٹنگز اور تصاویر کے ذریعے 1979 کے حالات و واقعات کو بھی دکھایا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا