سوات کی لڑکیوں میں ٹیلنٹ تو ہے مگر توجہ کون دے گا؟

سوات میں تائیکوانڈو کے ایک پرانے کھلاڑی ایاز نائیک اکیلے لڑکیوں کے لیے خود اکیڈمی کھول سکتے ہیں اور سینکڑوں کے حساب سے لڑکیوں کو تربیت دے کر ملکی اور بین الاقوامی کھلاڑی تیار کرسکتے ہیں تو حکومت کیوں نہیں کرسکتی؟

ایاز نائیک کے مطابق پختونوں کے معاشرے میں لڑکیوں کے کھیلوں کے حوالے سے مسائل موجود ہیں (تصویر: ایاز نائیک)

عائشہ جب ساڑھے تین سال کی تھیں تو وہ اپنے والد کے تائیکوانڈو کے تربیتی سیشنز دیکھتی تھیں۔ وہاں سے ان میں اس کھیل کا شوق پیدا ہوا۔ انہوں نے کھیلنا شروع کیا اور ضلعی، پھر صوبایی، ملکی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا اور صرف نو سال کی عمر میں گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

پاکستان کے سوئٹزرلیںڈ کہلائے جانے والے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والے محمد ایاز نائیک اپنی نو سالہ بیٹی عائشہ ایاز کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ساڑھے تین سال کی عمر سے تائیکوانڈو کا سفر ابھی شروع ہی ہوا ہے اور عائشہ نے متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے حالیہ تائیکوانڈو کے بین الاقوامی مقابلوں میں انڈر-ٹین کیٹیگری میں گولڈ میڈل حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔  

کھیلوں کے حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ جہاں تعلیم زیادہ ہو، کھیلوں کے حوالے سے مواقع، آگاہی اور سہولیات ہوں تو ہر جگہ ٹیلنٹ موجود ہے اور خیبرپختونخوا کے تمام علاقوں میں کھیل میں لڑکیوں میں اتنی قابلیت ہے کہ نہ صرف علاقائی، صوبائی اور ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام ہر میدان میں روشن کر سکتی ہیں۔

سپورٹس جرنلسٹ اعجاز احمد خان کہتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن میں تعلیم کی شرح زیادہ ہے لیکن وہیں لڑکیوں کو مواقع میسر نہیں ہیں کہ کھیلوں میں حصہ لیں جس کی وجہ سے وہ اس میدان میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔

لڑکیاں کھیل کے میدان میں کیوں پیچھے ہیں؟

اعجاز احمد خان کہتے ہیں کہ لڑکیوں کو توجہ نہیں دی جاتی ورنہ خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی والی بال کی فاتح ٹیم ملاکنڈ کی ہے۔ اسی طرح کھیلوں کے ہر میدان میں لڑکیاں نام کما سکتی ہیں۔ باالخصوص سوات میں ہر قسم کا ٹیلنٹ ہے، تعلیم اور آگاہی بھی ہے لیکن کھیلوں کے حوالے سے اتنی توجہ نہیں دی جاتی جتنی درکار ہے، کئی علاقوں میں کھیلوں کے میدان نہیں ہیں اور اس کے علاوہ بھی کئی مسائل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ہر لڑکی عائشہ ہے اگر ان کو سہولیات دی جائیں اور گھر والے سپورٹ کریں تو ان علاقوں کی لڑکیاں نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہر کھیل میں ملک کا نام روشن کرسکتی ہیں۔

انہوں نے عائشہ ایاز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ان کے والد نے ان کو تربیت دی اور موقع فراہم کیا تو اس نے کم عمر میں اتنا بڑا نام کمایا۔

لڑکیوں کے کھیل کو توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟

خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل برائے کھیل اسفند یار خٹک کہتے ہیں کہ کھیل کو پہلے لوگ اتنی توجہ نہیں دیتے تھے، والدین کوشش کرتے تھے کہ ان کے بچے تعلیم کے میدان میں اگے جائیں، کھیل کو پیشہ نہیں سمجھتے تھے۔ اب جب والدین خود بچیوں کو کھیل کے میدان میں لے آئے تو صوبائی حکومت ان کو ہر طرح کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

اسفندیار خٹک کے مطابق سکولوں کی سطح پر بچیوں کو کھیل کے مواقع اور سہولیات محکمہ تعلیم کی ذمہ داری ہے، تعلیمی ادارے محکمہ کھیل کے دائرہ کار میں نہیں آتے اور جب سکولوں سے بچیاں نہیں نکلیں گی تو سامنے کیسے آئیں گی۔

حکومت اب سپورٹس کمپلیکس بنا رہی ہے

اسفند یار خٹک کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ہر ڈویژن کی سطح پر سپورٹس کمپلیکس موجود ہے لیکن ان کے مطابق چونکہ سوات پہاڑی علاقہ ہے اور وہاں پر زمینوں کا بڑا مسئلہ ہے۔

’پچھلے دو سال سے محکمہ کھیل کوشش کر رہا ہے کہ وہاں ایک سپورٹس کمپلیکس بنایا جائے جس کے لیے 55 کروڑ روپے کی رقم منظو ہوچکی ہے جس میں 26 کروڑ روپے میں چار باغ میں زمین خرید لی گئی ہے، جس پر بہت جلد سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر شروع ہوجائے گی۔‘

ایاز نائیک کہتے ہیں کہ ان کی کم عمر بیٹی نے ملک کا نام روشن کیا لیکن جب وہ گولڈ میڈل لے کر گھر واپس آ رہی تھی تو اپنے ضلع کی ڈپٹی کمشنر، کھیلوں کے ضلعی افسر اور یہاں تک کے ایم پی اے فضل حکیم تک نے عائشہ کی حوصلہ افزائی نہیں کی، ان کو خوش آمدید تک نہیں کہا۔

ان کے شکوے پر سوات کے ضلعی افسر براے کھیل سکندر شاہ کا کہنا ہے کہ وہ عائشہ کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق پروگرام کا انعقاد کریں گے۔

اسی حوالے سے ایم پی اے فضل حکیم کے سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔

سکندر شاہ کے مطابق بچیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کو سکالرشپ دی جانی چاہیے لیکن ان کے بقول ضلعی سطح پر ان کے پاس کوئی فنڈ نہیں ہیں۔

ضلعی سطح پر کھیل کا ادارہ کس لیے؟

سکندر شاہ کہتے ہیں کہ یہ ادارہ صوبے کے لیے فوکل پرسن کا کام کرتا ہے اور کھیلوں کے فروغ کے لیے فزیبلٹی بناتا ہے۔

ان کے مطابق سوات میں ادارے کے پاس کوئی اکیڈمی ہے اور نہ ہی کوئی کھیل کا میدان۔

ایاز نائیک کے مطابق پختونوں کے معاشرے میں لڑکیوں کے کھیلوں کے حوالے سے مسائل موجود ہیں۔ والدین بچیوں کو کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے لیکن ان کی بنیادی وجہ اکیڈمیوں کا نہ ہونا ہے، اگر اکیڈمیاں ہوں گی تو لڑکیاں بڑی تعداد میں تیار بیٹھی ہیں اور شاید والدین بھی پھر بچیوں کو کھیلنے کی اجازت دے دیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ لڑکیوں میں ٹیلنٹ ہے لیکن سکول کے بعد ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے مواقعے نہیں ملتے۔

حکومت نے اب لڑکیوں کے کھیلوں پر توجہ دینا شروع کر دی ہے

اسفندیارخٹک کہتے ہیں کہ جب چارباغ کا سپورٹس کمپلیکس بن جائے گا تو اکیڈمیاں سپورٹس کمپلیکس کا حصہ ہوں گی۔ لڑکیوں کے کھیلوں کے لیے اب بہت کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے لیے صوبے کی سطح پر پہلے تین ایڈیشن ہوچکے ہیں اور اب لڑکیاں اس میں اگے آتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پھر قومی سطح پر کھیلوں کے جو مقابلے ہوئے جس میں ان کے مطابق 27 کھیل لڑکیوں کے لیے تھے اس میں خیبرپختونخوا کے تمام علاقوں سے لڑکیوں نے بھرپور حصہ لیا۔ 

اس کے علاوہ ایک نیا پروگرام شروع کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی صوبائی سطح پر یا قومی سطح پر یا بین الاقوامی سطح پرمیڈل جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے تو ان کو 18 مہینوں کے لیے وظیفہ دیا جائے گا، اس سے والدین اور بچیوں کو ترغیب ملے گی اور عائشہ ایاز اس کی زندہ مثال ہیں، کیونکہ پہلے جب انہوں نے سلور میڈل جیتا تھا تو صوبائی حکومت نے ان کو دو لاکھ روپے اور اب جب گولڈ میڈل جیتا تو ان کو تین لاکھ روپے نقد دیے گئے اور ایاز نائیک کی اکیڈمی کے لیے صوبائی حکومت نے تائیکوانڈو میٹ کا اعلان بھی کیا۔

سوات میں تائیکوانڈو کے ایک پرانے کھلاڑی ایاز نائیک اکیلے لڑکیوں کے لیے خود اکیڈمی کھول سکتے ہیں اور سینکڑوں کے حساب سے لڑکیوں کو تربیت دے کر ملکی اور بین الاقوامی کھلاڑی تیار کرسکتے ہیں تو حکومت کیوں نہیں کرسکتی؟

جب رول ماڈل ہوں گے تو۔۔۔

اسفندیار خٹک کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے عائشہ ایاز کو ایک رول ماڈل بنا دیا ہے اور اب جو انڈر 21 کے کھیلوں کے مقابلے ہوں گے تو وہ عائشہ ایاز کی بنیاد پر ہوں گے پھر جب باقی والدین دیکھیں گے کہ لڑکیاں ملک کے لیے میڈلز جیت سکتی ہیں اور ان کو مالی تعاون بھی ملتا ہے تو اس کی وجہ سے سوشل بیرئیرز بھی ختم ہوجائیں گے۔

ان کے مطابق سوات کے لیے خواتین کا ان ڈور جیمنیزیم بھی منظور ہوچکا ہے اور جلد اس پر کام شروع ہوگا۔ اس کے ساتھ دیگر اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔

بجٹ زیادہ ہے پر خرچ کس طرح ہوگا؟

اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے رواں سال بجٹ میں کھیلوں کے فروغ کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے جس میں خیبرپختونخوا میں شامل ہونے والے قبائلی اضلاع بھی شامل ہیں لیکن اس رقم کے خرچ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیے جاتے، اس کی نگرانی کس طریقے سے کی جائے؟

اس بارے میں اسفند یار خٹک کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے شامل قبائلی اضلاع کے ساتھ کھیلوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو 26 ارب روپے کر دیا ہے۔

اور یہ پیسے ڈائریکٹریٹ آف سپورٹس کی نگرانی میں خرچ کیے جائیں گے اور سی این ڈبلیو کھیلوں کے میدان بنائے گا۔ ان کے مطابق اس کے ساتھ قبائلی اضلاع میں آٹھ اعشاریہ پانچ ارب روپے کا ایک پروجیکٹ ہے جس میں 25 کروڑ روپے کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے مختص ہیں اور تین سالوں میں ایک ارب روپے کھیلوں پر خرچ ہوں گے، اس کے علاوہ سات اعشاریہ پانچ ارب روپے سے سپورٹس کمپلیکسز بنائے جائیں گے۔

سوشل بیرئیرز

خیبرپختونخوا میں باالخصوص لڑکیوں کو کلچرل مسائل کا سامنا رہتا ہے جیسا کہ گھر سے اجازت نہ ملنا۔ اس حوالے سے حکومت کے پاس آگاہی کا کوئی منصوبہ ہے؟

اس بارے میں اسفندیار خٹک کہتے ہیں کہ جب والدین کھیلوں کے حوالے سے لڑکیوں کے لیے میسر سہولیات اور ماحول دیکھیں گے تو وہ خود اپنی بچیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت دینے پر امادہ ہو جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین