جنسی ہراسانی کیس: ’علی ظفر کو دکھ پہنچانے پر ملال ہے‘

معروف بلاگر مہوش اعجاز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ان کی وجہ سے علی ظفر اور ان کے خاندان کو پہنچے درد پر شدید غم اور ملال ہے۔

(مہوش اعجاز/انسٹاگرام)

معروف بلاگر مہوش اعجاز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ان کی وجہ سے علی ظفر اور ان کے خاندان کو پہنچے درد پر شدید غم اور ملال ہے۔

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ کچھ واقعات اور حقائق کے منظر عام پر آنے اور عدالتی کارروائی کے بعد لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں۔

مہوش اعجاز ایک بلاگر ہیں اور جب میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا تو اس وقت مہوش اعجاز نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹویٹس اور بلاگز لکھے تھے۔

انہوں نے علی ظفر کی فلم اور ان کی ایوارڈ تقاریب میں شرکت کے بائیکاٹ کا بھی کہا تھا۔

علی ظفر پر الزام لگنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد بلاگرز اور ’انفلوئنسرز‘ (با اثر بلاگرز/وی لاگرز) نے علی ظفر کی فلموں کے بائیکاٹ اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

علی ظفر نے الزام کے خلاف میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔ عدالت میں میشا شفیع نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ ’علی نے انہیں کئی بار دانستہ طور پر چھوا اور جنسی ہراساں کیا تھا۔‘

مہوش اعجاز نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ وہ یہ سب درد اور تکلیف کے ساتھ کہہ رہی ہیں اور انہیں ان لوگوں سے مایوسی ہوئی ہے جو اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے لڑنے کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ علی ظفر کے بارے میں اپنی وہ ٹویٹس واپس لے رہی ہیں جس میں علی ظفر پر الزامات لگائے گئے تھے۔

جب انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار فاطمہ علی نے مہوش اعجاز سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتیں۔

مہوش اعجاز نے بعد ازاں ٹوئٹر پر تفصیلی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’مجھے ٹویٹ کرنے کے لیے کسی نے پیسے نہیں دیے اور نہ ہی میں نے کبھی ٹویٹ کرنے کے کبھی کسی سے پیسے لیے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’نہ میں عدالت ہوں اور نہ ہی منصف۔ میں فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کون مجرم ہے، یہ عدالت کا کام ہے۔‘

مہوش اعجاز نے وضاحت کی کہ وہ یہ سب اب اس لیے کہہ رہی ہیں کیونکہ انہوں نے کچھ ’حقائق‘ دیکھے ہیں اور ایسی معلومات سامنے آئی ہیں جو پہلے ان سے ’چھپائی‘ گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت جاننے کے لیے عدالت میں جاری کیس کو دیکھا جائے اور انہیں اس حوالے سے تنگ نہ کیا جائے۔

مہوش اعجاز کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مہوش اعجاز کو تنقید کا بھی سامنا ہے۔

اظہر عثمانی نے ان کی ٹویٹ کے جواب میں سوال کیا کہ انہوں نے مہوش کے اس معاملے پر دو مضمون پڑھے تھے جن میں سخت تنقید کی گئی تھی اور آپ نے جو لکھا وہ ہم نے تقریباً مان لیا تھا۔

فلم ساز جامی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ وہ فلم انڈسٹری کے مردوں کو جانتے ہیں کیوں کہ وہ خود اس کا حصہ ہیں اور ان کی تمام تر حمایت متاثرین کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں گے مگر وہ دل ہی دل میں جانتے ہیں کہ متاثرین صحیح کہہ رہے ہیں۔

ٹوئٹر صارف امل نے مہوش اعجاز کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور مہوش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’امید ہے آپ کو پتہ ہوگا کہ آپ کا بیان جنسی ہراسانی کے شکار افراد کے لیے کتنا اذیت ناک ہے۔‘ امل نے مہوش سے مطالبہ کیا گہ اگر مہوش کے پاس کوئی نئی معلومات ہیں تو انہیں وہ سب کے سامنے لانی چاہییں۔

عافیہ قاضی نے مہوش اعجاز کی حمایت میں لکھا کہ وہ نہیں جانتیں کہ نئے واقعات کون سے ہیں مگر وہ عوامی فورم پر معافی مانگنے پر مہوش کی قدر کرتی ہیں کیوں کہ اپنی غلطی کی معافی مانگنا بظاہر آسان لگتا ہے مگر ہوتا نہیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل