مبینہ جنسی زیادتی کی شکار 14 سالہ لڑکی نے بچی کو جنم دے دیا

راولپنڈی میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی 14 سالہ لڑکی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بچی کو جنم دیا ہے۔

ایف آئی آر میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق پروین کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا پہلا واقعی گذشتہ برس جون میں پیش آیا تھا (پکسابے)

راولپنڈی میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی 14 سالہ لڑکی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بچی کو جنم دیا ہے۔

پروین (فرضی نام: بچی کی شناخت چھپانے کے لیے اس کا اصل نام ظاہر نہیں کیا جا رہا) نے 20 فروری 2020 کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راولپنڈی میں بچی کو جنم دیا۔

اطلاعات کے مطابق زیادتی کا نشانہ بننے والی پروین اور دیگر چار ملزمان کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے 19 فروری کو لاہور کی ایک نجی لیبارٹری بھیجا گیا تھا، جہاں چاروں ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے جن کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔ تاہم نوزائیدہ بچی کے ڈی این اے کے نمونے بھی جلد لاہور روانہ کر دیے جائیں گے۔

راولپنڈی کی عدالت نے چاروں ملزمان کو تین روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ ملزمان کی عدالت میں اگلی پیشی 24 فروری کو متوقع ہے۔

پروین کے والد نے 16 فروری کے روز راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال میں اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کی بنیاد پر ایک ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں چاروں ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف آئی آر میں بیان کی گئی تفصیل کے مطابق پروین کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا پہلا واقعی گذشتہ برس جون میں پیش آیا تھا۔ اسد علی نامی ہمسائے نے زبردستی گھر میں داخل ہو کر پروین کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور واقعے کا ذکر کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔

کچھ روز بعد ملزم اسد علی نے اپنے ایک اور دوست بہادر علی کے ساتھ مل کر گن پوائنٹ پر مبینہ طور پر دوبارہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں دیگر دو ہمسائے ملزم عابد اور ملزم یحییٰ بھی پروین کو وقتاً فوقتاً مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور واقعہ کا ذکر کرنے پر جان سے مارنے اور محلہ میں بدنام کرنے کی دھمکی بھی دیتے رہے۔

اپنی غیر موجودگی میں وہ اپنے ہمسائے عابد، جن سے ان کے دوستانہ مراسم ہیں، کو گھر کی دیکھ بھال کی درخواست کرتے تھے۔ واضح رہے کہ ہمسایہ عابد بھی جنسی زیادتی کے نامزد چار ملزمان میں سے ایک ہیں۔

پروین کے والد مطابق انہیں واقعے کا علم اس وقت ہوا جب وہ پروین کو معدہ کے علاج کے سلسلہ میں ہسپتال لے گئے جہاں الٹرا ساؤنڈ رپورٹ میں معلوم ہوا کہ پروین چھ ماہ کی حاملہ ہیں۔ پروین سے پوچھ گچھ کے بعد ملزمان کا علم ہوا اور وہ شرمندگی کے مارے گھر میں ہی قید ہو کر رہ گئے۔ بدنامی کے ڈر سے وہ ملزمان سے اس واقعے کی بابت باز پرس بھی نہ کر سکے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم ایک رضاکار گروپ نے واقعے کی خبر ہونے پر کیس میں مدد کا فیصلہ کیا۔

ابراہیم بٹ جو کہ ایک سماجی کارکن ہیں نے پروین کے والد کو ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر قائل کیا۔

سماجی کارکن ابراہیم بٹ کے مطابق اس سلسلہ میں تھانہ رتہ امرال پولیس کا تعاون قابل ستائش ہے جنہوں نے نہ صرف فوری طور پر واقعے کی ایف آئی آر درج کی بلکہ بروقت کارروائی کرتے ہوئے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں چاروں ملزمان اسد علی، بہادر، عابد عمر اور یحییٰ کو گرفتار کر لیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان