‎71کی جنگ میں فائر کیا گیا بھارتی میزائل 49 سال بعد ناکارہ

ضلع قصور کے نواحی علاقے کنگن پور میں یہ میزائل زمین سے اس وقت برآمد ہوا، جب چند نوجوان کرکٹ کھیلنے کے لیے پچ بنانا چاہتے تھے۔

میزائل کو 15 فٹ گہرے گڑھے میں دبا کر بم ڈسپوزل سکواڈ کی مدد سے ناکارہ بنایا گیا۔(تصویر: اکرم شرقی)

1971 کی جنگ کے دوران بھارت کی جانب سے پاکستان میں فائر کیا جانے والا ایک میزائل پنجاب میں ضلع قصور کے نواحی علاقے کنگن پور سے زمین سے برآمد ہوا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔

نہر کے قریب سے ملنے والے اس میزائل کے مار کرنے کی صلاحیت تین کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، اس لیے ناکارہ کرنے سے پہلے قریب کے سات گاؤں خالی کرا لیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ میزائل زمین سے اس وقت برآمد ہوا، جب جمعرات کو چند نوجوان کرکٹ کھیلنے کے لیے پچ بنانا چاہتے تھے تو کھدائی کے دوران میزائل نکل آیا، جس پر انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔

میزائل کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج اور رینجرز نے مذکورہ مقام کو سیل کرکے بم ڈسپوزل سکواڈ (بی ڈی ایس) سے علاقہ کلیئر کروایا اور میزائل کو ناکارہ بنانے کے اقدامات شروع کیے گئے۔

تھانہ کنگن پور کے ایس ایچ او ذوالفقار احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ میزائل کو 15 فٹ گہرے گڑھے میں دبا کر بم ڈسپوزل سکواڈ کی مدد سے ناکارہ بنایا گیا۔

طویل عرصہ بعد میزائل کیسے ملا؟

کنگن پور کے مقامی صحافی اکرم شرقی کے مطابق: ’نوجوانوں نے کھدائی کی تو نیچے لوہے کی چیز دکھائی دی، جیسے جیسے کھدائی ہوتی رہی میزائل زیادہ نمایاں ہوتا رہا جس پر وہ خوف زدہ ہوکر ایک طرف ہوگئے اور پولیس کو اطلاع دے دی۔‘

اکرم شرقی نے انڈپینڈنٹ سے گفتگو میں بتایا کہ یہ علاقہ دریائے ستلج کے کنارے واقع ہے اور یہاں سے سرحد تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق 1971 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران اس آبادی پر کئی بھارتی میزائل مارے گئے، جن سے کافی نقصان بھی ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ میزائل بھی اسی دوران یہاں پھینکا گیا ہوگا جہاں سے یہ ملا ہے۔ یہ زمین بنجر تھی اس لیے یہاں فصلیں نہیں لگائی جاتیں اور اب لڑکوں نے پچ بنانے کی کوشش کی تو یہاں سے میزائل برآمد ہوا۔

موقع پر پہنچنے والے سپیشل برانچ کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایاکہ اس علاقے کو مکمل سیل کر دیا گیا تھا اور مشاورت سے فیصلہ ہوا کہ یہ میزائل ابھی ناکارہ نہیں ہوا لہذا اسے زیر زمین ناکارہ بنا دیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ماہرین کی رائے کے مطابق اس میزائل کے چلنے کی صورت میں جن علاقوں میں نقصان کا خطرہ تھا وہاں آبادیاں خالی کرالی گئی تھیں، جن میں کانگڑیاں قصبہ کل،کوٹھاکلاں، بستی گھون، بستی موکن، پل گھارا و دیگر شامل ہیں۔

مذکورہ اہلکار نے مزید بتایا کہ اس میزائل کی لمبائی آٹھ فٹ اور موٹائی 40 انچ تھی، جس پر 66 - N لکھا تھا جو اس کا نام ہے۔ یہ میزائل روسی ساخت کا بتایا جا رہا ہے اور اسے مارٹر گولہ بھی کہا جا رہا ہے۔

تھانہ کنگن پور کے ایس ایچ او ذوالفقار احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آس پاس کے علاقوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس قسم کا کوئی اور میزائل موجود نہ ہو، خاص طور پر نہر کے اردگرد بے آباد زمین میں ہل چلاکر چیک کیا جا رہا ہے جو عرصہ دراز سے بے آباد پڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کافی عرصہ قبل نہر کشادہ تھی، لہذا ہوسکتا ہے کہ یہ میزائل پانی میں گرا ہو اور نیچے دب گیا اور جب یہ زمین نہر سے علیحدہ ہوئی تو یہ زیر زمین ہی پڑا رہا جو اب برآمد ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان