امریکہ نے برطانوی ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق معلومات لیک کر دیں

پینٹاگون نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ نے اپنے ایٹمی وار ہیڈز تبدیل کرنے کے لیے کئی ارب پاؤنڈز کے منصوبے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

فاس لین میں ایچ ایم نیول بیس پر موجود ایچ ایم ایس وجیلنٹ، جو برطانوی ٹرائنڈنٹ  ایٹمی ڈیٹرنٹ سے لیس ہے (اے ایف پی)

پینٹاگون نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ نے اپنے ایٹمی وار ہیڈز تبدیل کرنے کے لیے کئی ارب پاؤنڈز کے منصوبے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ پینٹاگون نے یہ انکشاف برطانوی وزرا کے اعلان یا پارلیمنٹ کو آگاہ کرنے سے پہلے کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق فروری کے آغاز میں ہونے والی کمیٹی کی سماعت کے دوران دو امریکی دفاعی حکام نے ٹرائنڈنٹ معاہدے سے متعلق معلومات کا انکشاف کیا۔ اس معاہدے میں امریکی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔

سٹریٹجک کمانڈ ایڈمرل چارلس رچرڈ نے گذشتہ ہفتے سینیٹ اجلاس کے دوران بتایا کہ وار ہیڈ جس کا نام ڈبلیو 93 یا ایم کے 7 ہے اس کی امریکہ کو ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کوششیں برطانیہ کے متوازی وار ہیڈ پروگرام کی بھی مددگار ہوں گی، جس کا جوہری پروگرام نیٹو کے دفاعی نظام میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔‘

ان بیانات کے سامنے آنے کے بعد وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان وار ہیڈز کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ مانا جا رہا ہے کہ برطانوی حکومت کو پارلیمنٹ کو مطلع کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ برطانوی پارلیمنٹ کے اجلاس کی کارروائی میں اس وقت وقفہ ہے لیکن ارکان پارلیمان کے ویسٹ منسٹر واپس آتے ہی سرکاری سطح پر اعلان کر دیا جائے گا۔

چارلس رچرڈ اس بارے میں برطانوی حکومت کے اعلان سے پہلے بات کرنے والے واحد امریکی عہدے دار نہیں۔

پینٹاگون کے ڈپٹی انڈر سیکرٹری دفاع ایلن شافر بھی رواں ماہ کے آغاز میں ایک پریس کانفرنس میں اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ ’یہ بہت اچھی بات ہے کہ برطانیہ ایک نئے وار ہیڈ پر کام کر رہا ہے اور ہم اس حوالے سے ٹیکنالوجی پر اور گفتگو کر سکتے ہیں۔‘ ان کا بیان تجارتی جریدے ڈیفنس ڈیلی میں رپورٹ کیا گیا تھا۔

 

برطانوی وزارت دفاع کے ایک ترجمان کے مطابق ’جیسا کہ 2015 میں بتایا گیا تھا ہم اس کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ہم جوہری وار ہیڈز کو تبدیل کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

’ہمارے امریکہ کے ساتھ مضبوط دفاعی تعلقات ہیں جو کہ امریکی ٹرائیڈنٹ میزائل کے ساتھ ہم آہنگ رہیں گے۔ برطانوی وار ہیڈز کی تبدیلی کے حوالے سے اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔‘

 کرسمس سے پہلے وزارت دفاع کی جانب سے پارلیمنٹ کے لیے جاری کی جانے والی سمری میں اس اپ گریڈ کے حوالے سے تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

سمری میں کہا گیا تھا کہ ’حکومت کے وار ہیڈ بدلنے کے فیصلے کو ممکن بنانے کے لیے کام جاری ہے۔‘

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن طویل عرصے سے یہ منصوبہ پیش کرتے آئے ہیں اور ان کی کنزرویٹو جماعت نے انتخابات سے قبل بھی وار ہیڈ کو بدلنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس منصوبےپر 31 ارب پاؤنڈز کی لاگت آئے گی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ