وزیرِ اعظم ہاؤس کے اخراجات کم ہوئے ہیں یا زیادہ؟

میڈیا اور حزبِ اختلاف کے مطابق گذشتہ برس وزیرِ اعظم ہاؤس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے لیکن سرکاری دستاویزات کے مطابق دراصل اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

(کری ایٹو کامنز)

حکومت کے دعووں کے باوجود ماہرین اور عوام وزیر اعظم آفس/ہاؤس کے اخراجات میں کمی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں، لیکن انڈپینڈنٹ اردو کی تحقیق کے مطابق اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔  

میڈیا کی طرف سے بھی متضاد رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بعض رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس کے بجٹ میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ رپورٹیں بعض حکام کے بیانات کے برعکس ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ موجودہ حکومت نے وزیر اعظم ہاؤس کا خرچہ 32 فیصد کم کر دیا ہے۔ اس حوالے سے وزارت خزانہ نے پچھلے سال جون میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کی تھی، تاہم حزبِ اختلاف اس سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی، اور ان کے اختلافی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس الجھن کو ختم کرنے کے لیے بعض مستند دستاویزات تک رسائی حاصل کی۔ ان رپورٹوں اور بیانات کے برعکس سرکاری دستاویزات جن میں اصل اخراجات درج ہیں، بالکل مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں، اور ان سے واضح ہے اخراجات دراصل کم ہوئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 2019 میں جولائی سے دسمبر تک وزیر اعظم ہاؤس/ آفس کے اخراجات 31 کروڑ 94 لاکھ اور جون 2018 سے جون 2019 تک 63 کروڑ 98 لاکھ روپے رہے۔ پچھلی حکومت کے پہلے سال میں وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات 70 کروڑ 26 لاکھ روپے تھے۔

جون 2019 سے جون 2020 تک اس مد کے اخراجات کے لیے کل 84 کروڑ 58 لاکھ روپے مختص کیے گئے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق وزیر اعظم آفس نے پچھلے ڈیڑھ سال (جون 2018 سے دسمبر 2019 تک) میں 95 کروڑ 52 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دستاویزات کے علاوہ وزیر اعظم ہاؤس کے انڈپینڈنٹ اردو کو فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر اگر ہم پچھلی حکومت کے پہلے سال وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات کا موازنہ موجودہ حکومت کے پہلے سال سے کریں تو یہ اخراجات 9.5 فیصد کم ہوئے ہیں۔ پچھلی حکومت کے پہلے سال وزیر اعظم ہاؤس/آفس کا یومیہ خرچہ تقریباً دو کروڑ روپے رہا جبکہ موجودہ حکومت نے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے۔

اگر گذشتہ برس ہونے والی مہنگائی کو سامنے رکھا جائے تو پھر فرق اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے یعنی تحریک انصاف کی حکومت کے وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات اس وقت کی نسبت اور بھی کم ہیں۔

تاہم سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کی رائے مختلف ہے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’وزیر اعظم ہاؤس کے لیے 19-2018 میں 98 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے لیکن پھر یہ رقم بڑھا کر ایک ارب نو کروڑ روپے کر دی گئی۔ اگلے سال ایک ارب سات کروڑ روپے مختص کیے گئے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ خرچ بڑھ رہا ہے۔‘

لیکن انڈپینڈنٹ اردو کو موصول دستاویزات سے اخراجات کا اس طرح بڑھنا ثابت نہیں ہوتا۔

سابق مشیر خزانہ ثاقب شیرانی کے مطابق اگر سرکاری دستاویزات میں ماہانہ اخراجات کا حساب موجود ہے تو پھر اعداد و شمار سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہی اصل اخراجات ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم ہاؤس کے موقف کے لیے جب ایک ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پرائم منسٹر آفس/ہاؤس ( پبلک) کو مالی سال 19-2018 کے لیے 51 کروڑ 40 لاکھ روپے دیے گئے تھے جن میں سے 40 فیصد رقم بچا لی گئی تھی۔ ’رواں سال کے لیے 47 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے اور جنوری تک اس میں سے صرف 39.87 فیصد رقم خرچ کی گئی ہے۔ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچت کی جائے۔‘

ترجمان کے مطابق مالی سال 19-2018 میں وزیر اعظم آفس (انٹرنل) کے لیے 47 کروڑ 20 روپے مختص کیے گئے تھے اور بچت 22 فیصد رہی۔ جبکہ اس مد میں سال 20-2019 کے لیے 38 کروڑ 88 لاکھ روپے مختص کیے گئے جن میں 17 کروڑ 87 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے وزارت خزانہ کے ترجمان عمر حمید سے سرکاری موقف جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ٹیلی فون پر جواب دینا مناسب سمجھا اور نہ ہی اس حوالے سے موبائل پیغامات کا جواب دیا۔

تاہم وزارت کے ایک سینیئر عہدیدار سے جب سرکاری دستاویزات میں موجود اعداد و شمار کے حوالے سے بات کی گئی تو نام نہ بتانے کی شرط پر انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار وہی ہوتے ہیں جو سرکاری ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ’یہی حتمی ہوتے ہیں اور اس وقت (جو اعداد و شمار آپ بتا رہے ہیں) وہی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔‘

مالی سال 20-2019 میں وزیر اعظم ہاؤس کے عملے کے لیے 21 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ہاؤس ہولڈ ملازمین کے لیے سات کروڑ 95 لاکھ روپے علیحدہ رکھے گئے ہیں۔ گاڑیوں اور مہمانوں کے اخراجات کے علاوہ تنخواہیں بھی وزیر اعظم ہاؤس کے بجٹ میں شامل ہوتی ہیں۔

وزیرِ اعظم کے چند چیدہ خرچ
الاؤنس بجٹ خرچ

ملبوسات

50 ہزار 0
دھوبی 70 ہزار 26 ہزار
تفریح دو لاکھ 99 ہزار
رسالے/کتابیں 16 لاکھ پانچ لاکھ 91 ہزار

دستاویزات کے مطابق عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس کی مد میں صوابدیدی فنڈ نہیں رکھا۔ ماضی میں حکومتیں دس یا 15 لاکھ روپے صوابدیدی فنڈ میں رکھتی تھیں جسے وزیر اعظم اپنی منشا کے مطابق خرچ کر سکتے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت نے ریفریشمنٹ فنڈ و ملازمین کے خرچے میں کمی اور ہاؤس کے ساز و سامان کی خریداری کے اخراجات کو کم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

ان اقدامات سے کتنا اثر پڑے گا؟

وزیر اعظم کے اخراجات کے حوالے سے موقف لیتے وقت جب اعداد و شمار پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کی انفارمیشن سیکریٹری نفیسہ شاہ کو بتائے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کا اثر ملکی معاشی حالت پر بھی ہونا چاہیے۔ ’اگر عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا تو پھر ایسے اقدامات بےمعنی رہ جاتے ہیں۔ صوابدیدی فنڈ ختم کرنا کوئی اچھی بات نہیں کیونکہ کوئی ضرورت مند بھی تو وزیر اعظم سے رابطہ کر سکتا ہے۔‘

تاہم ماہر معاشیات اور نسٹ یونیورسٹی میں سکول آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے وزیر اعظم کے اخراجات میں کمی کو خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ان اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کو اپنے بجٹ پوزیشن اور کمزوریوں کا احساس ہے۔‘

گورننس اور جمہوریت سے متعلق تھنک ٹینک کے سربراہ احمد بلال کے مطابق صوابدیدی فنڈ کو ختم کرنے کی بجائے شفافیت سے خرچ کرنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے آخر کار گورننس اور جمہوریت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت