گل پری کی داستان: ’میں وہ بن گئی ہوں، جو نہیں بننا چاہتی تھی‘

’مرد ہی خواتین کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنا حق ان سے تعلق استوار کرکے حاصل کریں، مجھے اب بس وردی اور بندوق چاہیے۔‘

ضلع مردان کے پشتون مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی گل پری کے مطابق  کھیل کی دنیا ہی ان کا سب کچھ ہے۔ فوٹو: انڈیپنڈنٹ اردو

’مرد ہی خواتین کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنا حق ان سے تعلق استوار کرکے حاصل کریں، مجھے اب بس وردی اور بندوق چاہیے۔‘

نہ ہاتھ میں کنگن، نہ کان میں بالی اور نہ ہی چہرے پر کسی قسم کا میک اپ، ضلع مردان کے پشتون مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی گل پری مردانہ سٹائل میں بات کرتی ہیں۔ بقول ان کے انہیں ایسے ہی رہنے میں مزہ آتا ہے اور کھیل کی دنیا ہی ان کا سب کچھ ہے۔

ہم نے آغاز ہلکی پھلکی بات چیت سے کیا۔ گل پری ہنستے ہنستے بتا رہی تھیں کہ کیسے علاقے اور یونیورسٹی کے لڑکے ان سے دس گز دور رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا، ’یونیورسٹی میں سب مجھے انسپکٹر کہتے ہیں۔ میں کسی سے ڈرتی نہیں ہوں، کوئی بھی بات ہو، مجھے منہ پر کہنے کی عادت ہے۔‘

بات کرتے کرتے اچانک انہیں کچھ یاد آیا اور کہنے لگیں ’ارے میڈم! کل آٹھ مارچ یعنی خواتین کے حقوق کا عالمی دن بھی تو ہے۔ میرا ایک مسئلہ بھی اُس دن چھاپ دیں ناں! چھپ جائے گا؟‘

میں نے جواب دیا، ’ہاں شاید، لیکن دیکھو، کسی بھی خاتون کی زندگی کی کہانی کسی ایک خاص دن کی محتاج نہیں ہوتی اور پہلے تو آپ مجھے میرے نام سے پکاریں۔‘

گل پری نے پھر کہا، ’اوکے میڈم‘ اور پھر ہم دونوں ہنسنے لگے۔

گل پری نے سات سال قبل فزیکل ایجوکیشن میں گریجویشن کرنے کے فوراًً بعد علاقے کی ایک معروف یونیورسٹی میں نوکری کی درخواست جمع کرادی۔ اگرچہ زمانہ طالبعلمی سے ہی انہیں کھیل کے میدان میں کچھ کر دکھانے کا شوق تھا، لیکن گھر کے خراب معاشی حالات نے انہیں تعلیم اور شوق دونوں چھوڑ کر نوکری کرنے پر مجبور کردیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں کلرک کے عہدے کی پیشکش کی لیکن جب گل پری نے ملازمت شروع کی تو انہیں خواتین کے سپورٹس کوچ کی ڈیوٹی دے دی گئی۔

انہوں نے بتایا، ’میں دراصل طالبعلمی کے دور میں ہاکی کھیلتی تھی۔ میں نے صوبائی اور قومی سطح پر کافی ٹرافیاں اور سرٹیفیکیٹس حاصل کر رکھے ہیں۔ بس گھر کے حالات ایسے تھے کہ مجھے نوکری کی ضرورت  تھی، لیکن میری قسمت اچھی تھی کہ مجھے کوچ کی نوکری مل گئی۔‘

یونیورسٹی میں سپورٹس کوچ کا عہدہ مل جانے کے بعد گل پری نے اپنی ادھوری خواہش کو دوسری کھلاڑیوں میں دیکھنا شروع کیا۔ انہوں نے دل لگا کر لڑکیوں کی تربیت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سات برس کا عرصہ بیت گیا اور ان کی تنخواہ بھی 11سے 30 ہزار تک جا پہنچی۔

گل پری نے بتایا، ’اس دوران میں نے ایم اے (پرائیویٹ) کا امتحان بھی پاس کیا اور ساتھ ساتھ اپنی جاب پر بھی توجہ دیتی رہی۔  میں نے ان سات سالوں میں بہت ساری خواتین کو بحیثیت کوچ صوبائی اور قومی سطح پر کھلایا۔ ان پر اپنی پوری توانائی خرچ کی اور جہاں کہیں ضرورت پڑی تو اپنے پیسے بھی خرچ کِیے۔ لیکن سب بے سود۔‘

’کیوں بے سود؟‘ میں نے پوچھا۔

’اس لیے کہ جب یونیورسٹی میں سپورٹس کے لیے دو خالی آسامیوں پر بھرتیاں کرنے کا وقت آیا تو میرے علاوہ کون اس کا بہترین حقدار ہو سکتا تھا؟ لیکن مجھے ترجیح نہیں دی گئی، میں انتظامیہ کے پاس گئی لیکن وہاں ایک موصوف نے کہا  کہ ہاں آسامی خالی ہے لیکن آپ کو اس پر نہیں لے رہے ہیں اور جب میں نے وجہ پوچھی تو مجھے کہا گیا کہ آپ کے پاس کوئی تگڑی سفارش نہیں ہے۔‘

گل پری نے جذباتی انداز میں کہا، ’ہاں نہیں ہے میرے پاس کوئی سفارش، ہوں میں غریب گھرانے سے اور مجھے کسی مرد سے تعلق قائم کرکے اپنے لیے سیٹ حاصل نہیں کرنی۔‘

میں نے سوال کیا، ’تو پھر کیا بنا آپ کی نوکری کا؟‘

گل پری نے بتایا، ’پھر یہ ہوا کہ یونیورسٹی کے بااثر افراد نے اپنے خاندان کی خواتین کو ان عہدوں پر بھرتی کیا اور مجھے نکال کر یونیورسٹی کی سیکیورٹی پر رکھ دیا ہے۔  اب میری ڈیوٹی خواتین کی تلاشی لینا ہے۔  میں نہ اس کام کے لیے موزوں ہوں اور نہ میری طبیعت اس طرح کی ہے۔ لہذا میں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے  کہہ دیا ہے کہ اگر سکیورٹی کے عہدے پر ہی مامور کرنا ہے تو مجھے وردی دیں اور بندوق بھی، تاکہ میں کچھ ڈھنگ کا کام تو کروں۔ میں سنجیدہ ہوں  لیکن اس بات کا اب سب نے مذاق بنا لیا ہے اور مجھے کہا جاتا ہے کہ سدھر جاؤ۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’خواتین کھلاڑیوں کو میرے اچھے اخلاق کا پتہ ہے۔ بس مجھ سے غلط بات پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ میں اگر مردوں سے اکھڑے لہجے میں بات کرتی ہوں، ہر وقت ان کے سامنے پیشانی پر بل ڈالے رکھتی ہوں تو اس کی وجہ بھی یہی لوگ ہیں، کیونکہ اس معاشرے میں اگر عورت، مرد سے نرم لہجے میں بات کرتی ہے تو اس پر بھی لوگ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ بلآخر میں وہ بن گئی ہوں جو میں نہیں بننا چاہتی تھی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین