مسیحی نوجوان کا قتل: ’جو دو افراد پکڑے تھے وہ بھی رہا‘

مقتول کے بھائی کے مطابق انہیں ہسپتال میں اطلاع ملی کہ ’پولیس نے موقعے سے جو دو افراد پکڑے تھے وہ بھی رہاکردیے۔‘ بعد ازاں لواحقین اور مسیحی برادری نے چونیاں میں احتجاج کیا تو پولیس نے ملزمان پکڑنے کی یقین دہانی کرائی لیکن تاحال کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔

قصور پولیس کے ترجمان محمد ساجد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ پولیس نے واقعے کے بعد مقدمہ درج کرلیاہے تاہم تمام ملزمان فرارہیں اور ابھی تک ان میں سے کوئی گرفتار نہیں ہو سکا۔ (ارشد چوہدری)

 

پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں مقامی زمینداروں کی جانب سے تشدد کے بعد قتل ہونے والے سلیم مسیح کی تدفین کر دی گئی جب کہ مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس ایک بھی نامزد ملزم کو گرفتار نہ کر سکی۔

مسیحی نوجوان کو تشدد کے بعد پولیس نے موقعے سے برآمد کیا جب کہ قصور اور لاہور کے ہسپتالوں میں زیر علاج ہونے کے دوران گزشتہ روز وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

مقتول کےلواحقین کاکہنا ہےکہ ’اس معاملے کو پہلے روایتی انداز میں نظر انداز کیا گیا۔ پھر اس واقعے کے خلاف جب احتجاج کیاگیا تو پولیس نے قانونی کارروائی شروع کی۔ جب کہ ہسپتالوں میں بھی ان کے علاج میں کوتاہی سے کام لیا گیا جس کے نتیجے میں ان کی جان نہیں بچائی جاسکی۔ لواحقین نے اعلی حکام سے انصاف دلانے کا مطالبہ کیاہے۔‘

واقعہ کیسے پیش آیا؟

مقتول سلیم مسیح کے بڑے بھائی ندیم مسیح نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سلیم مسیح توڑی کے ٹرک لوڈ کرنے کا کام کرتے تھے۔ ’جب وہ 25 فروری کی صبح توڑی کا ٹرک اتارنے کے بعد واپس آ رہا تھاتو راستے میں چونیاں کے گاوں بگھیانہ خورد سےگزرا۔ وہاں ٹیوب ویل چل رہا تھا۔ وہ وہاں نہانے لگ گیا جس پر اس رقبے کے مالکان شیر ڈوگر، اقبال، الطاف اور جبار نے دیگر ملازموں کی مدد سے اسے پکڑ لیا اور تشددکانشانہ بناتے رہے۔ اسے ماچس کی تیلیاں جلا کر جلانے کی کوشش بھی کی گئی اور پولیس کو خود ہی اطلاع کر دی کہ انہوں نے سلیم مسیح کو ڈیرے سے چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑاہے۔ ہمیں بھی اطلاع مل گئی۔ ہم جب وہاں پہنچے تو پولیس بھی آچکی تھی جو ان سے پوچھ رہی تھی کہ اگر یہ لڑکا یہاں پیشاب کرنے، نہانے یا چوری کرنے کی غرض سے بھی آیا تھا تو اس پر تشددکرکے قانون ہاتھ میں کیوں لیاگیا؟‘

ندیم مسیح نے مزید بتایا کہ ’پولیس نے وہاں سے دو ایسے افراد کو پکڑ لیا جن کے بھائیوں نے تشددکیاتھا کیوں کہ واقعے کے اصل ملزمان وہاں سے فرارتھے۔‘ جب کہ ندیم اپنے بھائی کو تشویش ناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور لے گئے جہاں سے ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈاکٹروں نے مریض کو گھر لے جانے کی اجازت دے دی۔ مقتول سلیم مسیح کی حالت اگلے دن ہی دوبارہ بگڑ گئی تو وہ انہیں لاہور کے جنرل ہسپتال میں لے آئے جہاں دو دن رکھنے کے بعد ان کا آپریشن کیاگیا اور کہا گیا کہ ان کی حالت ٹھیک ہے۔ لیکن جب سلیم مسیح کو آپریشن تھیٹر سے باہر لایاگیا تو وہ دم توڑچکے تھے۔ ندیم مسیح اپنے بھائی کی لاش لے کر گزشتہ روز ہفتہ کوواپس آئے اور تدفین کردی گئی۔

ملزمان کی گرفتاری اور قانونی کارروائی:

قصور پولیس کے ترجمان محمد ساجد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ پولیس نے واقعے کے بعد مقدمہ درج کرلیاہے تاہم تمام ملزمان فرارہیں اور ابھی تک ان میں سے کوئی گرفتار نہیں ہو سکا۔

’لیکن پولیس اپنے طریقے سے کیس قانون کے مطابق لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ ڈی ایس پی چونیاں اور متعلقہ ایس ایچ او کو معاملے کی مکمل چھان بین کرنے کے بعد رپورٹ ڈی پی او قصور کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پہلے سلیم مسیح کے زخمی ہونے کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی اب ان کے دم توڑ جانے کے بعد زیردفعہ 302 کیس درج کیا جائے گا۔

واقعے کی وجہ کیا تھی؟

ترجمان قصور پولیس نے مزید کہا کہ ’واقعہ کیوں پیش آیا اس بارے بھی ابھی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ مدعی کہتے ہیں کہ ٹیوب ویل میں نہانے یافصلوں میں پیشاب کرنے پر ان کے بیٹے کو قتل کیاگیا جب کہ ملزم پارٹی کی جانب سے بیان دیا گیا ہے کہ مقتول حویلی میں چوری کرتے پکڑاگیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چوری کرنے پر بھی قانون کسی پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔ ’مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، وجہ جو بھی ہو قتل کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضرور ہوگی۔‘

مقتول کے بھائی ندیم مسیح کے مطابق انہیں ہسپتال میں اطلاع ملی کہ ’پولیس نے موقعے سے جو دو افراد پکڑے تھے وہ بھی رہاکردیے۔‘ اس کے بعد مقتول کے لواحقین اور مسیحی برادری نے چونیاں میں احتجاجی مظاہرہ کیا تو پولیس نے ملزمان پکڑنے کی یقین دہانی کرائی لیکن ابھی تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔

انہوں نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ انہیں صرف انصاف فراہم کیاجائے جو ان کاحق ہے۔

یاد رہے اسی ضلع قصور میں 2014 میں کنوئیں سے پانی پینے پر حاملہ خاتون شمع مسیح اور ان کے شوہر شہزاد مسیح کو بھی اہل علاقہ نےزندہ جلا ڈالا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان