لوگ سمجھتے ہیں لڑکیاں کرکٹ نہیں جانتیں: روحا ندیم کرکٹ جرنلسٹ

’اس وقت میں چودہ سال کی تھی۔ میں ٹیم میں سب سے چھوٹی تھی۔ بہت کم عمر میں مجھے انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ مل گیا۔ کرکٹ میرا بچپن سے پیشن ہے۔ کرکٹ کے سوا کچھ نہیں زندگی میں۔‘

جذبہ موجود ہو تو انسان اپنا خواب پورا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی ذریعہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ یہی سوچ کر لاہور سے تعلق رکھنے والی روحا ندیم نے سوچا کہ تو کیا ہوا اگر انہیں پڑھائی کی وجہ سے کرکٹ کھیلنے کو نہیں ملی، وہ کرکٹ صحافی تو بن ہی سکتی ہیں۔

روحا کی پیدائش لاہور کی ہے لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا عرصہ کویت میں گزارا۔ وہیں سکول اور کالج کی تعلیم مکمل کی۔ جب وہ اولیولز کر رہی تھیں تو ان کے سکول میں پمفلٹ بٹ رہے تھے جن میں لڑکیوں کی کرکٹ کھیلنے کے لیے مفت تربیت کی دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے وہ تربیت حاصل کی۔ پھر کویت کی قومی ٹیم کے لیے ٹرائل کیا اور دو سو لڑکیوں میں سے ان کا سلیکشن ہو گیا۔ روحا کویت کی قومی انڈر19 ویمن کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئیں۔ انہوں نے 2010 سے 2012 تک کرکٹ کھیلی۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے روحا نے بتایا:

’اس وقت میں چودہ سال کی تھی۔ میں ٹیم میں سب سے چھوٹی تھی۔ بہت کم عمر میں مجھے انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ مل گیا۔ کرکٹ میرا بچپن سے پیشن ہے۔ کرکٹ کے سوا کچھ نہیں زندگی میں۔‘

لیکن پھر روحا کی پڑھائی مشکل ہوگئی تو ان کو کرکٹ چھوڑنی پڑی۔ انہوں نے مزید بتایا:

’کویت میں کرکٹ اتنی مشہور نہیں اس لیے وہاں نام بنانا مشکل تھا۔ وہاں فٹبال کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے میں اسلام آباد آئی اور ابلاغ عامہ میں تعلیم حاصل کی۔‘

روحا کو کرکٹ کے بغیر قرار نہ آیا۔ وہ پڑھائی کے ساتھ کرکٹ پر لکھتی رہیں۔ روحا کا پہلا آرٹیکل سولہ سال کی عمر میں شائع ہوا تھا۔ جب ان کا پہلا آرٹیکل چھپا تو پڑھنے والوں نے ان کو سراہا۔

پھر روحا نے محسوس کیا کہ پاکستان میں کرکٹ کی دنیا میں خواتین صحافیوں کی کافی کمی ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے لیے اس شعبے کا چناؤ کیا۔ ان کا کام ملک کے بڑے انگریزی اخباروں میں شائع ہوا اور پڑھنے والوں نے ان کے کام کو سراہا۔ پھر آہستہ ان کے لیے راستہ بنتا چلا گیا۔ ان کو آفرز آنا شروع ہوگئیں۔ پراجیکٹس آنا شروع ہوگئے۔ 2018 میں ان کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی طرف سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے لیے ایک پروگرام کرنے کی آفر آئی جہاں سے ان کے براڈکاسٹ کیریر کا آغاز ہوا۔

روحا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا:

’میری بہت اچھے لوگوں نے رہنمائی کی اور انہوں نے مجھے بتایا کہ کس طرح میں لکھنے کے علاوہ ڈیجیٹل اور براڈکاسٹ میڈیا میں اپنا نام بنا سکتی ہوں۔ میں نے کوشش کی اور میں نے اچھا کام کر کے دیا تو مجھے مواقع ملتے گئے۔ ابھی بھی میں سیکھ رہی ہوں۔ جتنے زیادہ میچز میں کور کرتی ہوں اتنا زیادہ مجھے سیکھنے کو ملتا ہے۔‘

’کافی مشکل ہوتا ہے ایک لڑکی کا کرکٹ کی فیلڈ میں نام بنانا کیونکہ اس میں مردوں کی اجاراداری ہے‘ 

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے ساتھ کبھی فیلڈ میں رپورٹنگ کرتے وقت ان کو کبھی جنسی طور پر ہراساں نہیں کیا گیا کیونکہ پس سی بی اس بارے میں سخت ہے۔ لیکن انہوں نے پریس گیلری میں ڈھکے چھپے الفاظ میں صنفی امتیاز ضرور محسوس کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روحا نے بتایا: ’اس شعبے میں لڑکیاں بہت کم ہیں اور آدمی بہت زیادہ ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ لڑکیوں کو کرکٹ کا علم نہیں ہے کیونکہ وہ کھیلتی نہیں ہے تو ان کو وہ معلومات نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ سوچ بدلنے کی بہت ضرورت ہے۔

اگر ایک لڑکی ہے اور پانچ آدمی بیٹھے ہیں اور ایک میچ چل رہا ہے۔ اگر لڑکی نے اپنی رائے دی تو وہ جو باقی پانچ مرد ہیں، وہ اس پر ایسے تنقید کریں گے کہ جیسے اسے کچھ معلوم ہی نہ ہو۔  اور یہ ہو سکتا ہے کہ وہ غلط کہہ رہی ہو لیکن ہر کسی کی رائے مختلف ہوتی ہے۔ پھر آپ باقیوں کے ساتھ بھی اسی طرح سلوک کیا کریں۔ یہ برابری ہوتی ہے۔‘

روحا نے مزید کہا: ’میں شروع شروع میں پریس باکس میں اپنی رائے دینے سے گھبراتی تھی۔ مجھے ڈر لگتا تھا کہ اگر میں کچھ کہوں گی تو اس کا کچھ اور مطلب نکال لیا جائے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میری رائے کو وہ اہمیت نہ ملے۔ لیکن اگر کسی آدمی نے وہی بات کہی تو اس کو زیادہ اہمیت دی جائے گی کیونکہ لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ آدمی نے کہا ہے تو ٹھیک ہی کہا ہوگا۔‘

اسی طرح، روحا نے بتایا کہ ٹی وی پر آنے کے لیے بھی لڑکیوں پر ایک مزید دباؤ ہوتا کہ وہ بنی سنوری نظر آئیں۔ ’ظاہر ہے کہ اگر آپ ٹی وہ پر آتے ہیں تو آپ کو پروفیشنل دکھنا چاہیے۔ یہ طرز عمل دونوں مرد اور خواتین کے لیے ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ لڑکیوں پر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ کیمرے پر پرکشش نہ آئیں۔‘

’جب میں نے اپنا پہلا لائیو کیا تھا تو مجھے کچھ صحافیوں نے کہا کہ میرے منہ پر چکناہٹ نظر آرہی تھی۔ تم پسینے میں کھڑی ہوئی ہو۔ ٹچ اپ نہیں کرایا۔ تھوڑی موٹی لگ رہی ہو۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آدمی کو بھی اتنا ہی پسینہ آئے گا جتنا مجھے۔ لیکن ہم خواتین کی شکل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں بہ نسبت ان کی بات کے، اس کے کام کے، ان کی معلومات کے۔‘

کرکٹ کوریج کے دوران سب سے یادگار لمحہ کیا تھا؟

’2019 کے ورلڈ کپ میں لاڑڈز سٹیڈیم جانا ہوا۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کا میچ تھا۔ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی کہ میں نے کتنا اچھا محسوس کیا۔ کسی بھی کرکٹ فین کے لیے لارڈز جانا بہت بڑی بات ہے۔ وہاں میرا یقین دوبالا ہو گیا کہ میں پیدا ہی یہ کام کرنے کے لیے ہوئی تھی۔ بس ایسا لگا کہ میں اپنے گھر آگئی ہوں۔ ‘

روحا نے حال ہی میں اسلام آباد کی نسٹ یونیورسٹی سے گریجوئیشن کیا ہے۔ اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے روحا نے کہا کہ وہ کرکٹ پر صحافت کرنا چاہتی ہیں اور اگر موقع ملے تو وہ فل ٹائم یہی کام کریں۔

’کرکٹ میری زندگی ہے۔ کرکٹ نہیں تو کچھ نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل