’عمران خان چاچا کرکٹ کی طرف دھیان دیں‘

چاچا کرکٹ کی اہلیہ مسز عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ ان کے خاوند پہلے کرکٹ کھیلتے تھے، وہ قومی ٹیم میں تو نہ کھیل سکے البتہ انہوں نے ٹیم کے ساتھ سٹیڈیم میں موجود رہ کر ان کا حوصلہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

گذشتہ تین دہائیوں سے میچ کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کھلاڑیوں اور شائقین کا جوش بڑھانے والے عبدالجلیل چاچا کرکٹ کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ 

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے چاچا کرکٹ نے پاکستانی پرچم اور اسی رنگ کے لباس کو اپنا کر کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ پوری دنیا میں پہنچایا۔

لیکن جب ان کے آبائی شہر سیالکوٹ میں جا کر ان کے اہل خانہ کے حالات کا جائزہ لیا گیا تومعلوم ہوا کہ وہ چار مرلے کے چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں جو کرائے کا ہے۔ 

وہاں ان کی شریک حیات سمیت تین بیٹے بھی رہتے ہیں۔ بڑا بیٹا رکشہ چلا کر گزر بسر کرتا ہے جب کہ دو چھوٹے بیٹے بھی محنت مزدوری سے گزرا کرتے ہیں۔

مسز عبدالجلیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خاوند پہلے کرکٹ کھیلتے تھے، پھر وہ قومی ٹیم میں تو نہ کھیل سکے البتہ انہوں نے ٹیم کے ساتھ سٹیڈیم میں موجود رہ کر ان کا حوصلہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

گذشتہ تیس برس سے وہ ٹیم کے ساتھ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ہونے والے میچز دیکھنے اور شائقین کا جوش وجذبہ بڑھانے جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسز عبدالجلیل نے کہا: ’اس شوق میں انہوں نے گھر تک بیچ ڈالا اور جو جمع پونجی تھی خرچ کر ڈالی۔ یہاں تک کہ کئی بار ویزا لگوانے اور جہاز کا ٹکٹ لینے کے لیے زیورات تک فروخت کرنا پڑے۔‘

لیکن وہ پھر بھی اپنے خاوند کو ملنے والی عزت اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام بلند کرنے کی وجہ سے خوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خاوند کا شوق پورا کرنے پر کبھی غصہ نہیں ہوئیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کبھی خود کسی ملک جا کر میچ دیکھا تو انہوں نے کہا: ’نہیں، ایک بار صرف عمرہ ادا کرنے گئی ہوں، میچ دیکھنے کبھی سٹیڈیم نہیں گئی۔‘

انہوں نے کہا کہ جب میچ ٹی وی پر دیکھتے ہیں تو اس دوران چاچا کرکٹ کو پاکستانی پرچم لہراتے دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے اور محلے کے لوگ بھی خوش ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’بہت برے حالات دیکھے ہیں لیکن اب بچے بڑے ہوگئے ان کی جتنی بھی کمائی ہے ان سے دو وقت عزت کی روٹی مل رہی ہے ہم خوش ہیں۔‘

عبدالجلیل چاچا کرکٹ نے انڈپینڈنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل وقت سے ملک و قوم کی محبت میں اپنی کرکٹ ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور جب تک زندہ ہیں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان بھارت سے شکست کھائے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم اچھا کھیل کر بھی بھارت سے ہار جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام کھلاڑی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جب ہر سٹیڈیم میں شائقین ان کے نعروں کا جواب دیتے ہیں تو انہیں فخر محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے اتنی طویل خدمات کے باجود وظیفہ مستقل نہیں کیا تاہم کبھی کبھار ان کو بیرون ملک ٹیم کے ساتھ جانے کے لیے خرچ مل جاتا تھا لیکن کافی عرصہ سے وہ خرچ بھی بند کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پھر بھی مایوس نہیں ہیں اور پی ایس ایل کے میچز میں بھی تمام ٹیموں کے حوصلے بڑھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی پاکستانیوں کے لیے فخر کی بات ہے اور پاکستان کا عالمی سطح پر نام روشن کرنے میں کرکٹ ٹیم کا بڑا کردارہے۔

جب انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم چاچا کرکٹ کے گھر سیالکوٹ پہنچی تو وہ اس دن بھی پاکستانی پرچم اٹھائے، مخصوص لباس پہنے پانچ فروری کو یوم کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے دکھائی دیے۔

انہیں معمول کی زندگی میں ملنسار دیکھا گیا۔ ان کی شہرت اور عزت گھر کے آس پاس بازاروں میں بھی دکھائی دی۔ ہر چھوٹے بڑے اور خواتین سے بھی وہ محبت اور زندہ دلی سے پیش آتے ہیں۔

لوگوں کی اس محبت کو وہ اپنی زندگی کا اثاثہ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بے لوث محبت رکھنے والا اپنی نوعیت کا چاچا کرکٹ ایک ہی ہے اور ان کے بعد یہ جذبہ دکھائی نہیں دیتا کیوں کہ کمرشل ازم نے اس طرح کے جذبوں کو مات دے دی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ