بھارتی صحافیوں نے دہلی فسادات کے دوران کیا دیکھا؟

فسادات کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں پر حملوں اور فسادات کے بعد تنقیدی مواد کی سینسر شپ اس بات کا ثبوت ہے کہ نریندر مودی کے دور میں آزادانہ صحافت کے خلاف عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے، ماہرین

27 فروری کی اس تصویر میں ایک صحافی فسادات سے متاثرہ علاقے میں رپورٹ کرتے ہوئے (اے پی)

بھارت میں رپورٹنگ کرنا کبھی بھی خطروں سے خالی نہیں رہا لیکن صحافیوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے دارالحکومت دہلی میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے دوران میڈیا پر ہونے والے حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورت حال مزید خراب ہو رہی ہے۔

ایک رپورٹر گولی لگنے کے بعد زندہ بچ گئے، ایک اور صحافی کے دانت توڑ دیے گئے، جبکہ کئی اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ فسادات میں ملوث ہندو ہجوم نے ان سے مذہب کے ثبوت کا تقاضا کیا اور اور انہیں تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات کو عکس بند کرنے سے روکا جن میں لوگوں کو کلہاڑیوں، تلواروں، لوہے کے پائپ اور اسلحے سے نشانہ بنایا گیا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق حکام ابھی تک اس بارے میں معلومات فراہم نہیں کر سکے کہ تین دن جاری رہنے والے ان فسادات کی وجہ کیا تھی جن میں 48 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ تاہم ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شہریت کے متنازع بل کی منظوری کے بعد سے کشیدگی کئی ماہ سے جاری تھی۔ حکام نے صحافیوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے ان الزامات کہ انہیں فسادات میں ملوث ہندو ہجوم کی جانب سے نشانہ بنایا گیا کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

ماہرین اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ فسادات کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں پر حملوں اور فسادات کے بعد تنقیدی مواد کی سینسر شپ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں آزادانہ صحافت کے خلاف عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انندیا چٹوپادہے ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے فوٹوگرافر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ منگل کو فسادات کے شکار علاقے میں پہنچے تو ایک شخص ان کے پاس آئے اور انہیں پیش کش کی کہ وہ ماتھے پر تلک لگا لیں جو کہ ہندوؤں کی پہچان ہے۔

انندیا چٹوپارہے نے بتایا کہ اس شخص کا کہنا تھا کہ اس سے ان کا کام آسان ہو جائے گا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ جب وہ جلتی ہوئے ایک عمارت کی تصاویر لینے کے لیے پہنچے تو ایک گروہ نے انہیں گھیر لیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں بتائیں کہ وہ ہندو ہیں یا مسلمان۔ انہوں نے انندیا کو دھمکی دی کی وہ ان کی پتلون اتار کر دیکھیں گے تاکہ ختنے ہونے یا نہ ہونے سے معلوم کیا جا سکے۔ انندیا نے بتایا: ’میں نے ان سے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ مجھے جانے دیں۔ میں ایک عام فوٹوگرافر ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں صحافیوں کو اپنا کام کرنے پر ہمیشہ نشانہ بنایا گیا لیکن وزیر اعظم مودی کی حکومت میں ’یہ سب کھلے عام، دن دہاڑے اور دھڑے سے ہوتا ہے۔‘

مودی کے وزیر اعلیٰ ہونے کے دور میں بھارتی ریاست گجرات میں بھی 2002 میں ہونے والے فسادات میں مذہب ثابت کرنے کے ایسے ہی مطالبات کیے گئے تھے۔

گجرات میں فسادات ہندو یاتریوں کی ٹرین پر ہونے والے ایک حملے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ ٹرین حملے میں 60 افراد جبکہ فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

نریندر مودی پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اس تشدد میں بلاواسطہ مدد فراہم کی۔ امریکہ ان پر داخلی پابندی بھی عائد کی تھی۔ تاہم انہیں عدالت نے بے گناہ قرار دیا تو یہ پابندی ختم کر دی گئی تھی۔

امریکہ میں براون یونیورسٹی کے پروفیسر آشوتوش ورشنے کہتے ہیں کہ مودی کے حامیوں نے ان پر کی جانے والی عالمی تنقید کا ذمہ دار صحافیوں اور ناقدین کو قرار دیا تھا۔ آشوتوش ورشنے بھارت میں فسادات کی تاریخ کے ماہر ہیں۔

ورشنے کہتے ہیں: ’2002 سے ہی ہندو قوم پرستوں کی جانب سے صحافیوں کو مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی اور ان کے حامی ’تنقید کرنے والے میڈیا‘ کو ایک ہندو ریاست بنانے کی اپنی کوشش کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی پریس انفارمیشن بیورو کے ڈائریکٹر اور حکومتی ترجمان کلدیپ دھتوالیا کا کہنا تھا کہ وہ ’صحافیوں کو کوریج کے دوران ہونے والے مسائل سے متعلق شکایت آگاہ نہیں ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’مختلف مقامات پر ہونے والے واقعات کو صحافیوں کی کوریج کی صورت حال سے جوڑنا درست نہیں ہو گا۔‘

مودی کے حامیوں کی جانب سے گذشتہ ہفتے کے واقعات پر تنقید کرنے والوں کو پہلے ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

نیو یارک میں مقیم کشمیری کارٹونسٹ میر سہیل نے فسادات کے دوران ایک مسلمان شخص کی دعا کرتی تصویر کو استعمال کرتے ہوئے اسے خون سے بھرے روایتی لباس میں اور یوگا کرتے سفید ریش شخص کی تصویر میں بدل دیا۔‘

سہیل نے یہ خاکہ مودی کی اس تصویر سے اخذ کیا جس میں وہ صبح کے وقت یوگا کرتے نظر آرہے تھے۔ وزیر اعظم مودی نے یہ تصویر 2018 میں آن لائن پوسٹ کی تھی اور اس تصویر کو لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں۔

سہیل کے کارٹون کی تعریف کی گئی لیکن اس کی مذمت بھی سامنے آئی ہے۔

 جمعرات کو فسادات ختم ہونے کے اگلے دن فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر نے سہیل کے کارٹون کو ہٹا دیا ہے جس کی وجہ ان پلیٹ فارمز کے کمیونٹی معیارات کی ہیٹ سپیچ پر خلاف ورزی بتائی جا رہی ہے۔ سہیل کے مطابق اسی وجہ سے انہیں دہلی کے ایک صحافتی ادارے کو چھوڑنا پڑا۔

سہیل کہتے ہیں: ’میں اس کو شائع نہیں کر سکتا اور میں بھارت واپس بھی نہیں جا سکتا کیونکہ وہ مجھے جیل میں پھینک دیں گے۔ یہ ان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔‘

بھارت کے سب سے بڑے سٹریمنگ پلیٹ فارم ہاٹ سٹار نے امریکی ٹی وی شو ’لاسٹ ویک ٹونائٹ ود جان اولیور‘ کی ایک قسط بھی ہٹا دی ہے جس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ کی جانے والی مودی کی ریلی کا مذاق اڑایا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کا پہلا سرکاری دورہ کیا تھا۔ کامیڈین نے دہلی میں ہونے والے تشدد پر بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے ترجمان سوربھ سنگھ کہتے ہیں کہ قسط ہٹانے اور کارٹون شائع ہونے پر سینسرشپ سے ’حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

نیو دہلی ٹی وی کے رپورٹر ارویند گناسیکر فسادات کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں ٹھوڑی پر آنے والے زخموں کی سرجری کروانی پڑے گی جس کے بعد وہ کئی دن تک کام نہیں کر سکیں گے۔

منگل کو وہ اور ان کے ساتھی پل پر کھڑے تھے جہاں سے وہ ہندو ہجوم کی جانب سے مسلمانوں کے قبرستان کی دیواروں کے گرائے جانے کو عکس بند کر رہے تھے۔ حملہ آوروں میں سے ایک شخص نے انہیں دیکھ لیا اور گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باقیوں کو بھی بلا لیا۔ ہندو مذہبی نعرے لگاتے ہوئے ان افراد نے ارویند کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ارویند کے ساتھی سوربھ شکلا ان کی مدد کرنے کو دوڑے اور انہوں نے حملہ آوروں کو اپنے گلے میں موجود دھاگہ دکھاتے ہوئے چیخ کر کہا کہ وہ اونچی ذات کے ہندو ہیں۔ سوربھ شکلا بتاتے ہیں: ’مجھے مجبوری میں یہ کرنا پڑا ورنہ وہ ارویند کو قتل کر ڈالتے۔ وہ ان کو پل سے نیچے پھینکنے والے تھے۔‘

ہجوم نے ارویند کو اپنا فون کھولنے اور حملے کی ویڈیوز ڈلیٹ کرنے پر مجبور کیا۔

شکلا نے کہا: ’اب یہاں صحافی نہیں ہیں۔ ہماری حکومت کے مطابق صرف قوم پرست اور قوم پرستی کے مخالف افراد ہیں۔ اور اس شناخت کو اس حد تک مسلط کیا جاتا ہے کہ ہم پرتشدد ہجوم کا نشانہ بن جاتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا