ناسا نے چاند پر جانے کے خواہش مندوں سے درخواستیں طلب کر لیں

خلائی ایجنسی نے زور دیا ہے کہ وہ چاند پر جانے والے پروگرام کے لیے ’متنوع پس منظر‘ سے تعلق رکھنے والے افراد کی تلاش میں ہے۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جِم برائڈنسٹائن اور سپیس سوٹ انجینیئر کرسٹین ڈیوس اکتوبر 2019 میں  ناسا کے نئے سپیس سوٹس کی نمائش کے دوران (اے ایف پی)

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند پر جانے کی خواہش رکھنے والوں سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ چار سال میں پہلی بار خلائی ایجنسی کی جانب سے اس سلسلے میں لوگوں سے درخواست دینے کا کہا گیا ہے۔

ناسا نے یہ درخواستیں ایسے وقت میں طلب کی ہیں جب وہ کئی دہائیوں کے بعد چاند کی سطح پر واپس جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ناسا اسے مریخ کے سفر سے پہلے ایک مرحلے کے طور پر استعمال کرے گا۔

امریکی شہری اس پروگرام کے لیے اس حوالے سے مختص وفاقی ویب سائٹ پر درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ درخواستیں رواں ماہ کے اختتام سے قبل بھیجنا ضروری ہیں۔

خلائی ایجنسی نے زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے ’متنوع پس منظر‘ سے تعلق رکھنے والے افراد کی تلاش میں ہیں۔

ناسا کے منتظم جِم برائڈنسٹائن نے ایک بیان میں کہا: ’اپولو پروگرام کے بعد موجودہ وقت میں امریکہ چاند پر جانے کے سب سے قریب ہے۔ ہم پہلی خاتون اور ایک مرد کو 2024 تک چاند کے جنوبی قطب پر بھیجیں گے اور ہمیں چاند اور پھر مریخ پر جانے کے لیے مزید خلابازوں کی ضرورت ہو گی۔ ہم باصلاحیت مرد اور خواتین کی تلاش میں ہیں جو متنوع پس منظر سے تعلق رکھتے ہوں، جن کا تعلق زندگی کے مخلتف شعبوں سے ہو اور جو خلائی تسخیر کے اس سفر میں ہمارے شریک ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کامیاب ہونے والے خلابازوں کو 2021 میں منتخب کیا جائے گا اور پھر ان کی تربیت شروع کی جائے گی۔ اس تمام عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

اس سے قبل جب 2015 میں درخواستیں طلب کی گئی تھیں تو 18 ہزار تین سو افراد نے درخواست دی تھی، جن میں سے صرف 11 افراد ہی آخری مراحل تک کامیاب ہو سکے تھے۔

ہیوسٹن میں واقع ناسا کے جانسن سپیس سینٹر کے فلائٹ آپریشنز ڈائریکٹر اور چیئر آف دی آسٹروناٹ سلیکشن بورڈ سٹیو کورنر کہتے ہیں: ’خلاباز بننا کوئی آسان عمل نہیں ہے کیونکہ خلا باز ہونا بھی کوئی آسان چیز نہیں ہے۔ جنہوں نے درخواست دی ہے ان کو ایسے ہزاروں افراد سے مقابلہ کرنا ہوگا جو طویل عرصے سے خلا میں جانے کے لیے محنت کر رہے تھے اور خواب دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے کچھ افراد مستقبل کے خلا باز ہیں اور ہم ان سے ملنے کے منتظر ہیں۔‘

درخواست دہندہ افراد کے لیے معیار بہت سخت رکھا گیا ہے۔ ان کے پاس کسی سٹیم (یعنی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ یا میتھ) شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ ان کے لیے متعلقہ شعبے میں دو سال کا تجربہ یا جیٹ ایئر کرافٹ کو اڑانے کا ایک ہزار گھنٹے سے زائد کا تجربہ ہونا چاہیے۔

سلیکشن پروگرام میں کامیاب ہونے کے لیے انہیں ایک جسمانی امتحان بھی پاس کرنا ہو گا۔ پہلی بار اس بارے میں آن لائن جانچ پڑتال بھی کی جائے گی جو کہ دو گھنٹے پر محیط ایک ٹیسٹ پر مبنی ہو گی۔

کامیاب خلابازوں کو مختلف مشنز پر تعینات کیا جائے گا۔ تربیت کے بعد وہ عالمی خلائی سٹیشن میں ہونے والے تجربوں میں حصہ لیں گے جہاں سے وہ چاند پر جانے کے منصوبوں کا حصہ بھی بنائے جا سکتے ہیں جو 2030 کی دہائی میں مریخ پر بھیجے جانے والے مشن کا ایک مرحلہ ہو گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس