جامعہ حفصہ کی اُمِّ حسّان کی عورت مارچ والوں کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت

اُمِّ حسّان نے عورت مارچ کو روکنے اور اس پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیوں سے معاشرے میں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔

لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی پرنسپل اُمِّ حسّان نے آٹھ مارچ کو ہونے والے عورت مارچ کے منتظمین کو مل کر مسائل حل کرنے کی دعوت دے دی۔

اُمِّ حسّان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ تمام خواتین کے مسائل اور مطالبات ایک جیسے ہیں لہٰذا مل بیٹھ کر ان پر بات کی جا سکتی ہے۔ ’عورت مارچ کے منتظمین تمام مردوں کو عورتوں کی تکالیف کا ذمہ دار گردانتی ہیں، جو غلط ہے۔‘

انہوں نے کہا سارے مرد بُرے نہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے سوال کیا: ’کیا جو خواتین عورت مارچ کروا رہی ہیں ان کے گھروں میں مرد نہیں؟ کیا وہ ان پر ظلم کرتے ہیں؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا خیال ہے کہ عورت مارچ کے منتظمین ’مغربی ایجنڈے‘ پر عمل پیرا ہیں۔

اُمِّ حسّان نے عورت مارچ کو روکنے اور اس پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’عورت مارچ جیسی سرگرمیوں سے معاشرے میں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔‘

جب ان سے جامعہ حفصہ کی خواتین کے سڑک پر احتجاج سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’ہمیں جب بہت مجبور کر دیا جاتا ہے تو ہم سڑکوں پر نکلتی ہیں۔‘

ان کے خیال میں پاکستان کی عورت بہت زیادہ مجبور نہیں بلکہ ملک میں ایک نظام موجود ہے جسے استعمال کر کے عورت اپنے حقوق کی جنگ لڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال عورت مارچ میں جو نعرے اور مطالبات سامنے آئے وہ ’بے شرمی اور بے ہودگی‘ کی عکاسی کرتے تھے۔ ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسے نعرے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ’یہ خواتین ملک میں بے حیائی اور بے شرمی کا پرچار کر رہی ہیں۔‘

’مجموعی طور پر عورت مارچ کا مقصد عورت کے حقوق کی بات یا تحفظ نہیں بلکہ اس کے پیچھے مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہے۔ چادر اور چار دیواری دراصل عورت کی حفاظت کے لیے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ امہات المومنین اور صحابیات پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام عورت پر گھر میں بیٹھے رہنے کی پابندی نہیں لگاتا۔ ’آج کی عورت کو سب سے زیادہ آزادی حاصل ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں خواتین ہر شعبہ زندگی میں کام کر رہی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عورت کو پوری آزادی حاصل ہے اور عورت مارچ والوں کو صرف مظلوم عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا چاہیے۔

مکمل انٹریو کے لیے کِلک کیجیے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین