گلگلت بلتستان زلزلے کے متاثرین کا شدید سردی میں انخلا ضروری

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق زلزلے کے بعد چیپُرسن کے مقامی افراد خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، جنہیں فوری امدادی اقدامات، انخلا، طبی سہولتیں اور سردیوں میں عارضی پناہ گاہیں درکار ہیں۔

گلگت بلتستان میں 19 جنوری کو آنے والے زلزلے نے چیپُرسن قصبے میں 600 گھرانوں کو متاثر کیا (قاسم شاہ)

انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان (ایچ آر سی پی) نے جمعے کو ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے علاقے چیپُرسن میں 19 جنوری کو آنے والے زلزلے سے  متاثر افراد کی فوری مدد کے لیے ’تمام وسائل بروئے کار لائے۔‘

19 جنوری کو آنے والے زلزلے سے ہنزہ کی چِپُرسن ویلی شدید متاثر ہوئی تھی۔

ایچ آر سی پی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا: ’ترجیحی بنیادوں پر سڑکوں کی بحالی، موسمِ سرما کے مطابق پناہ گاہوں کی فراہمی، طبی سہولیات اور ضروری سامان مہیا کیا جائے اور ایک شفاف، حقوق پر مبنی امدادی عمل کو یقینی بنایا جائے، بالخصوص بچوں، بزرگوں، خواتین اور مریضوں کے لیے جو منفی درجۂ حرارت میں زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’رپورٹس کے مطابق کئی سو خاندان خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس سے بحران کی سنگینی واضح ہوتی ہے اور مؤثر، مربوط ریاستی اقدامات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔‘
 

مقامی رہائشی اور انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بچے، خواتین، معذور اور بزرگ شدید سردی میں خطرے میں ہیں اور ان کی فوری طور پر محفوظ علاقوں میں منتقلی انتہائی ضروری ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زخمی افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جانی چاہیے اور ممکنہ بیماریوں یا وبائی خطرات سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جانے چاہئیں، خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو عارضی شیلٹرز میں جمع ہیں۔

یہ بھی کہا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں باقی ماندہ مکانات اور ڈھانچوں کا تفصیلی سیسمک جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچاؤ کے لیے منصوبہ بندی کی جا سکے۔

سردیوں کی شدت کے پیش نظر، حرارت کے انتظامات کے ساتھ عارضی شیلٹرز قائم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ لوگ سخت موسم اور برف باری سے محفوظ رہ سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقامی انتظامیہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں زور دے رہی ہیں کہ فوری کارروائی نہ ہونے کی صورت میں انسانی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

چیپُرسن کے مقامی رہائشیوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری نقل مکانی کے انتظامات کیے جائیں، متاثرہ مقامات کا سیسمک جائزہ لیا جائے اور ریلیف مواد، طبی امداد اور سردیوں کے لیے موزوں عارضی شیلٹرز فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔

انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صورت حال انتہائی نازک ہے اور متاثرہ آبادی کی حفاظت کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کیے جانے چاہییں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان