گلگت بلتستان میں 19 جنوری کو آنے والے زلزلے نے چیپُرسن قصبے میں 600 گھرانوں کو متاثر کیا ہے جن میں سے 300 مکانات شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ( ایچ آر سی پی گلگت بلتستان) کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں جبکہ مسلسل آنے والے آفٹر شاکس نے مقامی لوگوں میں خوف اور عدم تحفظ کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
مقامی رہائشی اور انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بچے، خواتین، معذور اور بزرگ شدید سردی میں خطرے میں ہیں اور ان کی فوری طور پر محفوظ علاقوں میں منتقلی انتہائی ضروری ہے۔
بیان کے مطابق زخمی افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جانی چاہیے اور ممکنہ بیماریوں یا وبائی خطرات سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جانے چاہئیں، خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو عارضی شیلٹرز میں جمع ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں باقی ماندہ مکانات اور ڈھانچوں کا تفصیلی سیسمک جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچاؤ کے لیے منصوبہ بندی کی جا سکے۔
ایچ آر سی پی نے مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ افراد کے لیے ریلیف پیکجز، خوراک، صفائی کا سامان، اور خواتین کے لیے ڈگنیٹی کٹس فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سردیوں کی شدت کے پیش نظر، حرارت کے انتظامات کے ساتھ عارضی شیلٹرز قائم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ لوگ سخت موسم اور برف باری سے محفوظ رہ سکیں۔ مقامی انتظامیہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں زور دے رہی ہیں کہ فوری کارروائی نہ ہونے کی صورت میں انسانی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
چیپُرسن کے مقامی رہائشیوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری نقل مکانی کے انتظامات کیے جائیں، متاثرہ مقامات کا سیسمک جائزہ لیا جائے، اور ریلیف مواد، طبی امداد اور سردیوں کے لیے موزوں عارضی شیلٹرز فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صورت حال انتہائی نازک ہے اور متاثرہ آبادی کی حفاظت کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کیے جانے چاہئیں۔