کرونا وائرس دنیا کا پانچ اگست

’میرے خیال میں دنیا کا پانچ اگست اب شروع ہوگیا ہے شاید سب کو موقع مل رہا ہے کہ وہ بھی تجربہ کریں کہ کشمیری سات ماہ سے کیسے ڈر، خوف اور دہشت میں زندگی گزار رہے ہیں۔‘

سری نگر میں ایک شخص کرونا وائرس سے بچنے کے لیے سڑک کنارے فیس ماسک فروخت کر رہا ہے (اے ایف پی)

ہمارا خیال تھا کہ مغربی دنیا کے لوگ مہذب، صابر اور سنجیدہ ہیں۔ مسائل کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اور ہنگامی حالات کے ردعمل میں انتہائی بالیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن یہ پورا سچ نہیں۔ ترقی یافتہ ہونا بردباری کا سرٹیفکیٹ نہیں اور نہ دولتیں عقل فراہم کرتی ہے۔

برطانیہ میں حال ہی میں جب کرونا وائرس میں مبتلا بعض افراد کا انکشاف ہوا تو خوراک اور دوسری اشیا سے متعلق بڑے بڑے سٹور آنا فانا خالی ہو گئے حتیٰ کہ ہاتھ صاف کرنے والا ہینڈ واش جس کی قیمت ایک پاؤنڈ سے کم ہوتی ہے 50، 60 پاؤنڈز میں فروخت ہونے لگا۔ بعض گاہکوں کو ٹائلٹ ٹشو اور سینیٹائزر کے بڑے بیگ اٹھاتے ہوئے دیکھا گیا جس کی وجہ سے حکومت کو ان سٹور مالکان سے ہنگامی مشاورت کرنا پڑی۔

ٹشو، ہینڈ واش اب بھی ہزاروں سٹورز سے غائب ہیں۔ سینیٹائزر کا تو نام و نشان تک نہیں۔ آن لائن سٹور ایمزون پر سینٹائزرز کی قیمت آسمان کو چھو چکی ہے۔

لوگوں نے جب میڈیا چینلوں سے سنا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے قرنطینہ کی تیاریوں کے لیے ضروری اشیا کی کمی کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے تو لوگ ہجوم کی صورت میں سٹورز پر ٹوٹ پڑے اور ان کو منٹوں میں خالی کر کے ہی دم لیا۔ ایسا منظر میں نے جنوبی ایشیا کے غریب ترین اور پسماندہ ملکوں میں کبھی نہیں دیکھا جہاں نہ تو بنیادی طبی سہولیات میسر ہیں اور نہ ویلفیئر سٹیٹ کا تصور موجود ہے۔

کرونا وائرس کی چال بھی عجیب ہے کہ یہ طبی عملے کی نظریں بچا کر ووہان کی سرحدوں سے پھلانگ کر پوری دنیا میں پہنچ گیا۔ جنوبی کوریا، اٹلی، ایران اور دیگر ممالک اس کی لپیٹ میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ خود بیجنگ نے اب اس بیماری پر کسی حد تک قابو پایا ہے اور روزانہ اس کی تعداد کم ہونے لگی ہے لیکن اٹلی سمیت دوسرے مغربی ممالک میں کروڑوں عوام کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔

جدید ترین ٹیکنالوجی والے ان ملکوں میں عوام کو قرنطینہ (کورانٹین) کرنا پڑا ہے جو لبرل حکومتوں کے لیے آسان نہیں۔ اٹلی کے ایک ڈاکٹر نے ہسپتالوں کی صورت حال کو قیامت سے تعبیر کیا اور وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ بتائی۔

دنیا میں اس وقت تقریباً سوا لاکھ سے زائد افراد کرونا وائرس سے متاثر ہیں، پانچ ہزار سے زائد بچ نہیں پائے اور تقریباً پانچ ہزار زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

ایسا بھی نہیں کہ دنیا دوسرے سپینش فلو میں مبتلا ہوگئی ہے جب تقریباً پانچ کروڑ افراد اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔ سپینش فلو سے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ میڈیکل سائنس میں اتنی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری وجہ یہ کہ پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے مغربی حکومتوں کا جنگ کے نقصان کے تخمینے میں مصروف ہونا تھا اور تیسری، میڈیا پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔ صرف سپین سے، جو جنگ میں شامل نہیں تھا، فلو سے مرنے والوں کی خبریں عوام تک پہنچ پاتی تھیں۔ کرونا وائرس شاید اتنا خوف ناک نہیں ہوسکتا۔

وائرس کا عالمی سطح پر پھیلنا عالمگیریت کی بدلتی تصویر کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ پہلے عام تھا کہ امریکی چھینک سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے جبکہ اب چینی چھینک سے ہوسکتا ہے کہ ایک تو دنیا کی سات ارب سے زائد آبادی کو کورانٹین کرنا پڑے، دوسرا عالمی معیشت کا بحران اتنا سنگین ہوتا نظر آ رہا ہے کہ کچھ ممالک کا دنیا کے اقتصادی نقشے سے غائب ہونا بھی ممکن ہوگیا ہے۔

وائرس نے جنوب مغرب یا مرد عورت میں فرق کیے بغیر لوگوں کے جسموں کو اپنا مسکن بنایا اور یہ کہنے کی اجازت ہی نہیں دی کہ ’میرا جسم میرا اختیار۔‘

ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک میں جہاں سب کچھ ہے کہ جس سے ان بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ کرونا کو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے سے کیوں نہیں روکا گیا؟ اس پر کافی تنقید کی جا رہی ہے اور اب اس پر قابو نہ پانے پر حکومتوں کو جوابدے بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ مغربی عوام کا ایڈونچرازم انہیں ایک مقام پر ٹکنے نہیں دیتا۔ مختلف ممالک کی سیر، تجارتی لین دین اور خطروں سے کھیلنا ان کے ڈی این اے میں شامل ہے۔

ووہان شہر میں جب اس بیماری کا انکشاف ہوا تو برطانیہ کے درجنوں شہری اس بیماری کی زد میں آئے تھے جن میں اکثر ووہان میں ابتدائی تشخیص کے بعد مکمل علاج کے لیے برطانیہ واپس آ گئے، جہاں وائرس کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

انگریزی کے ایک استاد ولیم کے مطابق جو ووہان سے واپس آ کر لندن میں زیر علاج تھے۔ ’ووہان میں دو ہفتے علاج کے بعد میں لندن پہنچا جہاں مجھے گھر میں مقید رہنا پڑا۔ اب میں واپس ووہان پہنچ گیا ہوں جہاں بیشتر متاثرین معمول کی زندگی میں مصروف عمل ہیں۔

چینی حکام کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے اس بیماری پر کسی حد تک قابو پایا جاسکا ہے جو لبرل جمہوریتوں میں ممکن نہیں اور جہاں انسانوں کو گھروں میں قید کرنے کا مطلب ہے انہیں ضروریات زندگی گھر پہنچانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا۔ ویلفیئر سٹیٹ کا تصور عوام کے لیے خوبصورت ہوسکتا ہے مگر حکومت کے لیے یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے جب معیشت کا جنازہ نکل گیا ہو۔

غریب ملکوں میں قرنطینہ کرنا کوئی مشکل نہیں۔ یہاں حکومتیں مہاراجوں اور جاگیرداروں کی طرح ہوتی ہیں۔ اترپردیش میں سینکڑوں بچے آکسیجن نہ ملنے سے مرگئے تو وہاں اس ڈاکٹر کو ہی جیل بھیجا گیا جس نے آکسیجن کی کمی پر آواز اٹھائی تھی۔ سکول میں شیرخواروں کو دودھ کا ایک لٹر پانی کی گندی بالٹی میں ملا کر پلایا جاتا رہا ہے تو خبر دینے والے رپورٹر پر کیس دائر کرکے غائب کر دیا گیا۔ یہاں تو حکومتیں زہریلے وائرس سے بھی خطرناک ہیں۔

مغربی عوام کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ مشرقی اور غریب ممالک کی بیشتر حکومتیں کریک ڈاؤن، حراستی مراکز یا کھلی جیلیں بنا کر اصل میں عوام کو کورانٹین ہی تو کرتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ مغربی حکمران بیماریوں کو پھیلانے سے روکنے کے لیے ان کو گھروں میں بند کرتے ہیں جبکہ مشرقی جابر عوام کو دبانے اور مروانے کے لیے انہیں کھلی جیلوں میں بند کرتے ہیں۔

کشمیر کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں مودی نے 80 لاکھ آبادی کو سات ماہ سے کورانٹین کیا ہوا ہے۔ مغربی کوراٹین میں ترسیل کی سہولیات مزید میسر کی جاتی ہیں مگر مودی نے فون سروس تک معطل کر دی۔ آسام کے حراستی مراکز میں لاکھوں عوام کورانٹین میں ہیں۔

چند روز قبل جب کشمیر میں پانچ افراد کو کرونا وائرس کے اندیشے میں ہسپتال میں کورانٹین کیا گیا تو میں نے ہسپتال کے سربراہ سے بات کرنا چاہی۔ ابھی میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ وہ کہنے لگے ’ہمارا کورانٹین تو گذشتہ سال پانچ اگست کو شروع ہوا ہے۔ کرونا وائرس ہمارا کیا بگاڑے گا۔ ہمیں تو انسانی وائرس نے نچوڑ لیا ہے۔ اب ہمیں ان حالات میں زندہ رہنے کا کافی تجربہ ہوگیا ہے۔

’میرے خیال میں دنیا کا پانچ اگست اب شروع ہوگیا ہے شاید سب کو موقع مل رہا ہے کہ وہ بھی تجربہ کریں کہ کشمیری سات ماہ سے کیسے ڈر، خوف اور دہشت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کسی نے ہماری پرواہ نہیں کی بلکہ پس پردہ مودی کی پیٹھ تھپ تھپائی۔ پھر بھی ہم دعاگو ہیں کہ ہر زندگی محفوظ اور سلامت رہے۔‘ اس ڈاکٹر نے یہ کہتے ہی فون بند کر دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ