جھوٹے مقدمات: ماضی، حال اور مستقبل ایک

ہر زمانے کے حکمران قانون کی بیساکھیوں کا سہارا لے کر ارباب عقل و دانش کو اور روشن خیالی اور فہم و فراست کے میناروں کو تخت و تاراج کرتے ہیں۔۔

دیوان سنگھ مفتون (سوشل میڈیا)

وہ لوگ یا اہل قلم جن میں مطالعے کا لپکا ہو انہیں دیوان سنگھ مفتون کے نام سے شناسائی ہوگی۔ دیوان سنگھ مفتون برصیغر کے شہرہ آفاق صحافی گزرے ہیں۔

وہ اپنی کتاب ’ناقابل فراموش‘ میں رقم طراز ہیں کہ مسٹر ہارنمیین ’ایڈیٹر بمبئی سنیٹینل‘ کا کہنا تھا کہ ’اخبار نویس دنیا میں صرف ان لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے پیدا ہوئے ہیں جو مصائب میں ہوں اور سچ لکھنا جن کا اوڑھنا بچھونا ہو۔ ان لوگوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں جو خوشی و آرام میں ہوں۔‘

دیوان سنگھ مفتون ’ریاست‘ اخبار کے ایڈیٹر ان چیف تھے۔ اپنے اخبار میں ہمیشہ سچ لکھتے اور والیان ریاستوں کے کرتوتوں کو سامنے لاتے۔ سچ والیان ریاست پر بجلی بن کر گرتا جس کے پاداش میں دیوان سنگھ مفتون پر مقدمات کی بھرمار ہوتی لہذا انہیں جھوٹے مقدمات میں جیل جانا پڑتا۔

ان پر سب سے پہلا مقدمہ چوری کا اور دوسرا کوکین رکھنےکا بنایا گیا۔ وہ جب بھی طاقت وروں کے سیاہ کارنامے طشت ازبام کرتے اس کے اگلے دن ہی ان کے خلاف مقدمہ دائر ہو جاتا۔ وہ اپنی کتاب ’ناقابلِ فراموش' میں لکھتے ہیں کہ ’میرا زندگی بھر یہ معمول رہا کہ اس وقت تک کسی معاملے کو اخبار میں شروع نہ کرتا جب تک کہ ہاتھ مضبوط نہ ہوں اور میں قدم اٹھانے کے بعد ڈر یا دھمکی کے ذریعے قدم پیچھے لے جانا بزدلی سمجھتا ہوں۔‘

مہاراجہ پٹیالہ نے اپنے سیاسی مخالف سردار لال سنگھ کا قتل کروا دیا۔ ان کے خلاف اخبار میں زوردار اداریہ لکھا۔ اس لیڈر میں کھلے الفاظ میں مہاراجہ پر الزام لگایا کہ وہ اس قتل میں ملوث ہیں اور چیلنج کیا گیا کہ مہاراجہ میں غیرت ہے تو ان پر اس الزام میں مقدمہ چلایا جائے، وہ ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں کہ قتل کی ذمہ داری مہاراجہ پیٹالہ کی گردن پر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پندرہ روز تک اس الزام کے بارے میں روزانہ لکھتے رہے۔ ’ایک دن میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک ایکسائز انسپکٹر، ایک سب انسپکٹر پولیس اور ایک درجن کے قریب پولیس اور ایکسائز کے ملازم اور گواہ کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا فرمائیں کیا حکم ہے؟‘

انہوں نے بتایا کہ کوکین رکھنے کے الزام میں تلاشی ہوگی۔ پولیس کو اطلاع ملی ہے کہ دیوان سنگھ کوکین فروش ہے۔ تلاشی لی گئی وہاں کوکین کی ایک پڑیا اور ساتھ کارڈ ملا جس میں لکھا تھا کوکین بھیجی جا رہی ہے روپیہ جلدی بھیج دو۔

میں حیران تھا کہ کوکین یہاں کیسے پہنچی؟ جرم قابل ضمانت تھا کئی دوستوں نے ضمانت کروانے کی کوشش بھی کی مگر پولیس والوں نے ضمانت نہ لی۔ مقدمہ چلا تو ثابت ہوا کہ استغاثہ نے جعل سازی سے مقدمہ بنوایا۔ کوکین گجرانوالہ سے بھیجی گئی تھی جس میں ڈاک خانے کے لوگ ملوث پائے گئے۔

اس مقدمے میں ٹھاکر للت چند مجسٹریٹ نے راقم الحروف کو بری کرتے ہوئے فیصلہ میں لکھا ’یہ مقدمہ ایک سازش کا نتیجہ ہے جس کی تہہ میں ریاست پیٹالہ کا روپیہ ہے اور بلاشبہ جعل سازی کی گئی۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ایک بار پنڈت موتی نہرو قانونی مشاورت دینے کے بہانے نواب آف بھوپال کے پاس گئے۔ ’ان سے 20 ہزار روپیہ لیا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ بھوپال میں کانگریس کے لوگ احتجاج نہ کریں۔ یہ خبر مجھ تک پنڈت شیام لال نہرو نے پہنچائی ریاست اخبار میں نوٹ لکھا کہ نواب آف بھوپال عوام کی آواز کو دبانے کے لیے ملک کے لیڈروں کی دعوتیں کرتے ہیں اور قانونی مشورے کے نام پر 20، 20 ہزار روپیہ نذر کیا جاتا ہے جسے رشوت قرار دیا جا سکتا ہے۔

’نواب آف بھوپال ننگا سچ کیسے برداشت کرتے۔ انہوں نے میرے خلاف چھ سو میل دور ہوشنگ آباد میں پرنسس پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ دائر کر دیا، چونکہ یہ مقدمہ بھی جھوٹ اور جعل سازی کے تحت دائر کیا گیا تھا، اس کا فیصلہ بھی میرے حق میں آیا اور نواب کو منہ کی کھانی پڑی۔‘

آزاد منش صحافی پر یہ مقدمات انگریز دور میں بنائے جاتے رہے مگر میں جیسے جیسے اس کتاب کا مطالعہ کرتا رہا تو مجھے لگا ہم آج بھی اسی عہد میں جی رہے ہیں۔ جنگ اور جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمٰن اور دیوان سنگھ مفتون کی کہانی ملتی جلتی ہے۔

سچ لکھنے کی پاداش میں دیوان سنگھ مفتون پر مقدمہ دلی کی بجائے چھ سو میل دور ہوشنگ آباد میں دائر کیا گیا۔ اتنا دور مقدمہ دائر کرنے کا مقصود تھا کہ ملزم پیروی نہیں کرے گا اور ملزم دباؤ میں آ کر معافی مانگ لے گا یا پھر ’ریاست‘ بند کر دے گا۔

35 سال قبل میر شکیل الرحمٰن پر پلاٹ لینے کا الزام لگا کر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ میرے خیال میں پلاٹ محض بہانہ ہے اصل مقصود انہیں سچ لکھنے پر سبق سکھانا ہے۔ میں چونکہ خود کورٹ رپورٹر ہوں نیب سے متعلق جتنے بھی مقدمات ہیں وہ نواز شریف کے خلاف ہوں یا مریم نواز، شاہد خاقان عباسی کے خلاف ہوں یا احسن اقبال، زرداری کے خلاف ہوں یا فریال تالپور کے، احتساب کورٹ اور ہائی کورٹ میں ان کیسز کی بھد اڑتے دیکھی۔ یہ مقدمات کمزور بنیادوں پر بنائے جاتے ہیں جن کا دفاع نیب کے پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر عدالت میں نہیں کر سکتے۔

ایوب خان کے دور میں پریس اینڈ پبلی کیشنز 1963 نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کا پھندا وقتاً فوقتاً آج تک ہماری صحافت کے گلے میں پڑا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کو خوش فہمی تھی کہ ایوب دور کے بعد یہ کالا قانون اپنی موت آپ مر جائے گا لیکن ہر دور میں یہ نقش برآب ثابت ہوتی رہی۔ اندھے کے ہاتھ میں ایک بار لاٹھی آ جائے تو وہ اس کے سہارے کے بغیر دو قدم چلنے سے بھی معذور ہو جاتا ہے۔

حکومت ایوب کی ہو یا یحییٰ کی، ضیاء کی ہو یا مشرف کی، بھٹو کی ہو یا عمران کی، ہر زمانے کے حکمران اسی قانون کی بیساکھیوں کا سہارا لے کر پاکستان کے ارباب عقل و دانش کو اور روشن خیالی اور فہم و فراست کے میناروں کو تخت و تاراج کرتے ہیں۔

ذہنوں پر روک تھام، بندش اور پابندی عائد کرنے والا ہر اقتدار کے دور میں قانون لازمی طور پر قوت تخلیق کو بنجر بانجھ اور بے ثمر کر دیتا ہے۔ دھونس و دھاندلی کا نشہ بھی شراب کی مانند ہوتا ہے۔ دونوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ چٹھتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔

طاقت کے نشے میں سچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ سچ نہ کل دبا تھا اور نہ مستقبل میں دبے گا۔ سچ لکھنے کی پاداش میں ایک نہیں سو بار جھوٹے مقدمات بنا کر پابند سلاسل کیا جائے بخوشی قبول کریں گے کیونکہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے اور جھوٹ کا منہ کالا ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ