کرونا کے باعث بچوں کو گھر پر تعلیم دینے والا بلوچستان کا سکول

بلوچستان کے ضلع خضدار  میں سکول آ ف اسکالرز کے نام سے تعلیمی ادارہ چلانے والی سمیرا محبوب آج  کل آن لائن سکول چلانے کا تجربہ کر رہی ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں کرونا وائرس کے متاثرین میں اضافے کے پیش نظر لاک ڈاؤن کیا جارہا ہے اور تعلیمی اداروں سمیت دفاتر اور تجارتی مراکز بند کیے جارہے ہیں، وہیں بلوچستان کا ایک سکول بچوں کو آن لائن تعلیم دینے میں مصروف عمل ہے۔

بلوچستان کا ضلع خضدار اتنا ترقی یافتہ نہیں، لیکن وہاں کی ایک خاتون اپنے سکول کے طلبہ کو فاصلاتی (آن لائن) تعلیم  دے رہی ہیں۔

موبائل فون کے ذریعے تعلیم دینی والی یہ خاتون سمیرا محبوب ہیں جو بلوچستان کے ضلع خضدار  میں سکول آ ف اسکالرز کے نام سے تعلیمی ادارہ چلاتی ہیں، لیکن آج  کل سکول بند ہونے پر وہ آن لائن سکول چلانے کا تجربہ کر رہی ہیں۔

سمیرا محبوب نے انڈپینڈنٹ اردو  کو بتایا کہ 'جہاں کرونا وائرس نے دنیا بھر کو خوف کا شکار کردیا ہے وہاں ہم بھی اس سے متاثر ہوئے کیونکہ ہمارا تعلیمی سال شروع ہونے والا تھا۔ سکول بند ہونے سے قبل ہم نے یہ سوچنا شروع کیا کہ کس طرح اپنے بچوں کو تعلیم سےمنسلک رکھیں تاکہ ان کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔'

سمیرا نے بتایا: 'پہلے ہم نے گروپ کے ذریعے تعلیم دینے کا سوچا لیکن وہ قابل عمل نہیں تھا پھر ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ایک نیا تجربہ کیا جائے اور آن لائن تعلیم دی جائے، جو بلوچستان میں ایک مشکل کام تھا۔ایک تو ہم خضدار جیسے علاقے میں رہتے ہیں اور ہمیں انٹر نیٹ تک رسائی بھی کم ہے، لیکن اس کے باوجو د ہم نے اس پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا۔'

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے باعث ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی تعلیمی ادارے مارچ کے مہینے میں بند رکھے گئے ہیں، اس مہینے میں یہاں نیا تعلیمی سال شروع ہونے والا تھا۔

سمیرا نے بتایا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے قبل انہوں نے طلبہ کے والدین کو اعتماد میں لیا اور ان کی اس حوالے سے تربیت کی۔

یاد رہے کہ خضدار کا سکول آف سکالرز بلوچستان میں اپنی نوعیت کا پہلا سکول ہے، جو آن لائن تعلیم دے رہا ہے۔

سمیرا کے مطابق فاصلاتی نظام تعلیم کے باعث نہ صرف ہمیں ایک نیا تجربہ ہوا بلکہ اس سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا: 'ہم نے پہلے سلیبس بنایا کہ کن اسباق کو ہم نے سرفہرست رکھنا ہے کیونکہ یہ باقاعدہ طریقہ تعلیم نہیں ہے، جس کے لیے ہم نے صحت اور سیلف ڈویلمپنٹ کو مدنظر رکھا تاکہ بچوں کی ذہنی تربیت بھی ہوسکے۔ ہم نے بچوں  کو صحت و صفائی اور کرونا وائرس کے حوالے سے بھی بتایا کہ اس سے کس طرح اپنے کو محفوظ رکھنا ہے اور ہفتہ وار اسباق میں صحت و صفائی کو سرفہرست رکھا گیا۔'

سمیرا نے مزید بتایا: 'ہم پہلے وٹس ایپ کے ذریعے کلاس لے رہے ہیں اور ہم نےمہینہ بھر کے لیے ایک ہی سبق رکھا ہے تاکہ پہلےآہستہ چلیں اور پھر سکول کھلنے پر تعلیم کے سلسلے  کو تیز کردیں۔'

فاصلاتی نظام تعلیم میں کن چیلنجز کا سامنا رہا؟

اس سوال کے جواب میں سمیرا نے بتایا کہ 'اس منصوبے کے آغاز میں جہاں بہت سے چیلنجز تھے وہاں ایک مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے طلبہ چھوٹے ہیں اور ان کے پاس موبائل فون نہیں ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنےکے لیے ہم نے پہلے ہر بچے کے والدین سے رابطہ کیا اور ان کو بتایا کہ ہمیں ان کا صرف ایک گھنٹہ درکار ہے اور ان کی مرضی سے یہ فیصلہ کیا گیا۔'

سمیرا کے بقول ان کا شیڈول سکول کی طرح نہیں ہے، کچھ کلاسز صبح،کچھ دوپہر اور کچھ شام کے وقت ہوتی ہیں۔

کیا بچے اکیلے لیکچر لیتے ہیں؟

سمیرا نے بتایا کہ چونکہ بچے اکیلے فاصلاتی نظام تعلیم کا حصہ نہیں بن سکتے اس لیے ہم نے ان کےوالدین کو بھی ساتھ میں  رکھا ہے تاکہ وہ ان کی آن لائن موجودگی میں مدد دے سکیں۔

ان کا کہنا تھا: 'ہمارے اس اقدام سے نہ صرف بچے لطف اندوز ہو رہے ہیں بلکہ وہ اس حد تک مانوس ہوگئے ہیں کہ وٹس ایپ گروپ میں ایک دوسرے سے بھی پوچھتے ہیں کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں۔'

سمیرا نے بتایا کہ 'ہمارے سکول میں طلبہ کی تعداد 85 سے زیادہ ہے لیکن ہم اپنے پلے گروپ اور نرسری کو ساتھ نہیں ملاسکتے کیونکہ وہ بہت چھوٹے ہیں۔ اس وقت ہم 55 سے 60 بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔'

کیا یہ تمام بچے ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں؟

اس سوال پر سمیرا محبوب نے بتایا کہ اگرچہ ان کا سکول تو خضدار میں ہے لیکن اس وقت بچے خضدار سمیت وڈھ، حب، قلات اور کوئٹہ میں موجود ہیں۔

سمیرا سمجھتی ہیں کہ آن لائن تعلیم، سکول کی باقاعدہ کلاسز کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ اس میں آپ ہر بچے کو فرداً فرداً پڑھاتے ہیں جبکہ کلاس میں ہر ایک کو توجہ نہیں دے سکتے۔

ان کا کہنا تھا: 'آن لائن کلاسز سے نہ صرف بچے سیکھ رہے ہیں بلکہ جو بچے کلاسز میں کمزور تھے وہ بھی آگے بڑھ رہے ہیں، جس کا ہمیں مستقبل میں فائدہ ہوگا۔'

آن لائن نظام تعلیم نے جہاں بچوں کو تعلیم سے منسلک کردیا وہیں سمیرا محبوب کے مطابق اس سے نہ صرف والدین فیس ادا کر رہے ہیں بلکہ ہم اساتذہ کو بھی تنخواہوں کی ادائیگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سکول آ ف اسکالرز کے منتظمین کا ماننا ہے کہ فاصلاتی نظام تعلیم نے نہ صرف بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کردیا ہے بلکہ ان کو بھی ایک نئے تجربے سے روشناس کروایا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس