ضلع خیبر: 'دو نو عمر بھائیوں کے قتل میں چچا ملوث'

سات مارچ کو مدرسے سے واپس آتے ہوئے لاپتہ ہونے والے سات سالہ منصف اور پانچ سالہ آصف خان کی لاشیں 19 دن بعد مدرسے کے قریب گڑھے سے ملیں۔

پولیس سربراہ محمد اقبال کے مطابق دو کم عمر بھائیوں، سات سالہ منصف اور پانچ سالہ آصف خان، کے قتل کے ملزم امام مسجد مغل شاہ اور ان کا بیٹے اسحاق خان ہیں جو بچوں کے رشتہ دار ہیں اور دونوں کو خیبر پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔(فائل فوٹو)

 

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے سات مارچ کو لاپتہ ہونے والے دو بھائیوں کی لاشیں 19دن بعد اسی مدرسے میں موجود ایک گڑھے سے ملیں جہاں وہ زیر تعلیم تھے۔

پولیس کے مطابق مبینہ طور پر بچوں کے قتل میں ان ہی کہ رشتہ دار ملوث تھے جنہوں نے زندہ بچوں کو گڑھے میں پھینک دیا تھا۔

پولیس سربراہ محمد اقبال کے مطابق دو کم عمر بھائیوں، سات سالہ منصف اور پانچ سالہ آصف خان، کے قتل میں ملوث ملزم امام مسجد مغل شاہ اور ان کا بیٹے اسحاق خان نکلے ہیں جو بچوں کے رشتہ دار ہیں اور دونوں کو خیبر پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے دونوں بچوں کو کئی فٹ گہرے گڑھے میں پھینک دیا تھا جو فضلے سے بھرا تھا اور ایسا انہوں نے وراثتی حقوق پانے کے لیے کیا۔

پولیس کے سربراہ محمد اقبال کا کہنا تھا کہ ملزم مغل شاہ کے مطابق مقتول بچوں کے والد شفیق خان اور وہ چچازاد بھائی ہیں اور انہوں نے بچوں کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ شفیق خان کا کوئی وارث نہ رہے اور جب ان کا انتقال ہو تو ان کی ملکیت مغل شاہ کو مل جائے۔

ڈپٹی کمشنر محمود اسلم نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ بچوں کے لاپتہ ہونے کا واقع ضلع خیبر کے دور دارز علاقے تیراہ میں سات مارچ کو پیش آیا تھا جب منصف اور آصف خان مدرسے سے چھٹی کے بعد گھر جارہے تھے کہ راستے سے لاپتہ ہوگئے تھے۔

پولیس افسر عابد افریدی کے مطابق تفتیش کے دوران مغل شاہ نے بتایا کہ پچاس سال پہلے ان کے والد نے باڑہ میں زمین خریدی تھی جو بعد میں ان کے چچاذاد بھائی یعنی شفیق کے والد نے فروخت کی تھی، اور اس طرح تیراہ میں بھی شفیق نے ان کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ بچوں کی گمشیدگی کے بعد پورے علاقے میں احتجاجاً تجارتی مراکز بند کر دیے گئے تھے اور  دھرنا بھی دیا گیا تھا۔ مگر کرونا وائرس کے وبا کے خطرے کے پیش نظر مزید احتجاجی مظاہرے ملتوی کرنا پڑے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقے میں تعلیم کے حصول کے لیے کوئی خاص سہولت میسر نہیں اور جو سرکاری سکول بنائے گئے ہیں وہ مہمان خانوں میں تبدیل ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے علاقے میں مدرسے قائم ہیں جہاں بچے دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

بچوں کے والد شفیق خان نے بتایا کہ ان کے بچے مدرسے کے قریب سے لاپتہ ہوگئے تھے اور جس دن یہ واقع پیش آیا وہ اپنی بیمار والدہ کے ساتھ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی انہیں گھر سے فون آیا کہ بچے لاپتہ ہوگئے ہیں تو وہ والدہ کو ہسپتال میں ہی چھوڑ کر گھر پہنچ گئے اور بچوں کی تلاش میں دن رات ایک کر دیے۔

والد کا مزید کہنا تھا کہ گھر والوں نے مدرسے والوں سے رابط کیا جس پر ان کو بتایا گیا کہ بچے تو پڑھ کر گھر چلے گئے تھے۔مساجد سے اعلانات بھی کروئے گئے مگر ان کا کچھ پتہ نہ چلا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ان کا اپنے چچازاد بھائیوں سے کوئی جھگڑا نہیں تھا۔

تاہم تفتیشی پولیس آفسر عابد آفریدی کا کہنا تھا کہ بچوں کے لاپتہ ہونے کے بعد 18 افراد کو زیر حراست لیا گیا اور وہ تمام لوگ شفیق خان کے قریبی رشتہ دار تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے علاقہ مکینوں اور بچوں کے رشتہ داروں سے تفتیش جاری رکھی اور بالاخر اس بات کی نشاندہی ہوئی کہ بچوں کی لاشیں مدرسے کے پاس فضلے کے گڑھے میں تھیں اور پھر انہیں وہاں سے نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے پشاور بھجوا دیا گیا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ شفیق خان کے بس یہی دو بیٹے تھے اور جائیداد کے لالچ میں ان کے ہی چچا نے دنوں بچوں کو قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق بچوں کے قتل میں امام مسجد اور ان کے بیٹے کے ملوث ہونے کی خبر پھیلنے کے بعد علاقے کے رہائشیوں نے مشتعل ہوکر ملزمان کے گھر کو آگ لگا دی۔

انہوں اور گھروں کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی مگر پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں رضوان نامی ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان