عمران خان کس سے لڑیں، کرونا سے یا میڈیا سے؟

جن کو بولنا چاہیے وہ بولتے نہیں اور جن کو چپ رہنا چاہیے وہ بولتے ہی چلے جاتے ہیں۔

پارٹی میں جہاں پہلے صرف دو واضح دھڑے تھے، اب بڑھ کر چار پانچ ہو چکے ہیں (اے ایف پی)

وزیر اعظم پاکستان کی مشکلات کیا ہیں؟ اگر ابھی تک آپ کو سمجھ میں نہیں آ سکا تو میں آپ کو بتا دیتی ہوں۔

سب سے پہلے تو انتخابات ہوئے جن میں فتح کا یقین عمران خان کے علاوہ پارٹی میں چند ہی لوگوں کو تھا۔ خیر جیت گئے۔ عمران خان کی مہربانی۔ پھر باری آتی ہے کہ دو بڑے صوبے کون چلائے گا؟ تو اس سے قبل کہ بڑے بڑے ستون آپس میں ٹکراتے، خان نے فیصلہ کیا کہ میں خود ہی چلاؤں گا اور اس کا مظاہرہ ہم نے بزدار اور محمود خان کی صورت میں دیکھا۔

ابھی یہ دونوں صوبہ چلانے کے داؤ پیچ سیکھ ہی رہے تھے کہ میڈیا میں زبردست شور اٹھا اور بجائے اس کے کہ لوگ اپنے وزرائے اعلیٰ کو دیکھتے اور ٹی وی انٹرویوز کے ذریعے ان کے بارے میں جانتے، دونوں گھبرا کر اپنی ہی ذات کے حصار میں چھپ گئے۔ اگر سیاستدان اچھی گفتگو کرنا نہ جانتا ہو تو اس کی سیاسی عمر آج کے کمیونیکیشن کے دور میں بہت چھوٹی ہوتی ہے۔

لیکن خیبر پختونخوا میں معاملات قدرے آسان تھے کیونکہ وہاں خان کی ٹیم پہلے سے کام کر رہی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ٹیم گذشتہ دو برسوں میں شاذ و نادر ہی کبھی میڈیا پر جلوہ افروز ہوئی اور ہوتی بھی کیسے؟ اگر محمود خان کی کابینہ کے ممبران ٹی وی پر آتے تو اس کا مطلب ہوتا محمود خان کو کریڈٹ دینا جو کہ مقصود نہ تھا لہذا جب معاملات کنٹرول سے باہر ہوئے تو خان نے دو پرانے بڑے ناموں کو سامان باندھنے کا حکم نامہ دیا اور ان کے فرائض دو دوسرے کابینہ ممبران کو سونپ دیے۔

پنجاب میں جتنے بھی اقتدار میں ہیں انہیں تو بالکل ہی یقین نہیں تھا کہ ان کو وزارتیں ملیں گی۔ اس وجہ سے انہیں پہلے چھ ماہ اپنے وزیر ہونے کا یقین کرنے میں لگے اور اس کے بعد بیوروکریسی سے جنگ شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے۔ صحت کی وزیر نے کرونا کی وبا پھوٹنے سے پہلے کبھی گوارا ہی نہیں کیا کہ ٹی وی پر آ کر بتا دیں کہ پنجاب میں نو ہسپتال بنائے جائیں گے جن میں چند پر کام شروع بھی ہو چکا ہے۔ ایسے ہسپتال بنانے کا کیا فائدہ جب مریضوں کو پتہ ہی نہ ہو کہ جانا کہاں ہے؟

جن کو بولنا چاہیے وہ بولتے نہیں اور جن کو چپ رہنا چاہیے وہ بولتے ہی چلے جاتے ہیں۔

اب آتے ہیں وفاق کی طرف۔ خان صاحب کے جتنے بھی پرانے ساتھی تھے، وہ سب ایک ایک کرکے سیاست کی نذر ہوتے گئے جس سے پارٹی اور خود وزیر اعظم کمزور لگنے لگے۔ وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں اب شاید ہی کوئی سیاستدان رہ گیا ہو، تمام کی تمام بیوروکریسی ہے یا وہ جن کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ عمران خان اگلا انتخاب جیتیں یا ہاریں، کیونکہ ان کا کوئی حلقہ ہی نہیں جہاں انہیں خود جواب دینا پڑے۔

بارہا تحریک انصاف کے وزرا ٹی وی پر کہہ چکے ہیں کہ حکومت میں آنے کے بعد ہماری کمیونیکیشن کمزور ہو گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پارٹی کی کوئی ایک لائن نہیں ہے۔ ایک بندہ آ کے ایک بات کرتا ہے تو دوسرا اس سے مختلف بات شروع کر دیتا ہے۔ دوسری وجہ شاید یہ کہ انہیں اگلی بار اقتدار ملنے کے متعلق شکوک و شبہات ہیں، اس لیے انہوں نے بہتر سمجھا کہ جو موقع ملا ہے ایک ہی دفعہ اس کے مزے لوٹ لیے جائیں۔

پارٹی میں جہاں پہلے صرف دو واضح دھڑے تھے، اب بڑھ کر چار پانچ ہو چکے ہیں۔ اس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے پارٹی کے کسی بھی رکن کے خلاف کوئی بات چھپتی تھی یا ٹی وی پر بولی جاتی تھی تو پوری جماعت اس کے دفاع میں نکل پڑتی تھی۔ یہ مہم ٹی وی پر بھی چلتی تھی اور ٹوئٹر پر بھی۔ آج کی تازہ مثال لی جائے تو وزیر اعظم کے قریب ترین ساتھی زلفی بخاری پر مسلسل تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں لیکن پارٹی کے کسی ممبر نے ٹی وی پر اس کا دفاع تو دور ٹویٹ تک کرنا گوارا نہیں کیا، ماسوائے دو عدد اراکین کے جنہوں نے ٹویٹ تب کی جب زلفی پر لگے الزامات کو دو تین ہفتے گزرگئے اور عدالت تک پہنچا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انفارمیشن ٹیم کی منصوبہ بندی کا یہ عالم ہے کہ جتنے عمران خان کے مخالف اینکر حضرات تھے، سب کو ایک ہی ملاقات میں اکٹھے بلا لیا گیا اور یوں لگا جیسے یہ ملاقات عوام کو کرونا کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے آگاہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ وزیر اعظم کو قوم کے آگے شرمندہ کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہو۔

اپوزیشن بالکل بجا کہتی ہے کہ تحریک انصاف کو کسی اور سے نہیں خود اپنے آپ سے خطرہ ہے۔ پہلے تو اپوزیشن جماعتیں کرونا وائرس پر سیاست کرتی نظر آئیں پھر آہستہ آہستہ الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافی بھی میدان میں اتر آئے۔

جہاں عمران خان سب کو ہی براہ راست میڈیا پر کرونا وائرس پر بریفنگ دینے کے لیے بلاتے ہیں، چاہے وہ حکومت کے حق میں ہوں یا اس کے خلاف، وہیں کچھ کو اس سنگین مشکل وقت میں بھی میڈیا کی آزادی کی فکر ہے جو کہ پہلے ہی بے لگام ہے۔ اس میں ان کا بھی قصور نہیں کیونکہ عمران خان سے پہلے ان کو کسی نے اتنی عزت نہیں دی کہ بلا کر ہر الٹے سیدھے سوال کا جواب دیا ہو اور وہ بھی ٹی وی پر براہ راست۔

خیر ابھی میڈیا کو سنبھالا ہی جا رہا تھا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت کے سہارے کراچی سے تکا لگنے پر جیتنے والے رکن قومی اسمبلی ایک ویڈیو میں خود وزیراعظم کے غریبوں کو تین ہزار روپے دینے کا مذاق اڑاتے نظر آئے۔ معلوم نہیں کہ یہ ویڈیو لیک ہو گئی یا جان بوجھ کر کی گئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ اندھے کے پاؤں تلے بٹیر کے مصداق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کے خلاف تفتان بارڈر کے معاملے کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک باقاعدہ محاذ کھول دیا گیا۔

اس تمام تر صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچ رہی ہوں کہ وزیر اعظم اب اپوزیشن، میڈیا اور خود تحریک انصاف کے اراکین کے درمیان جاری کھینچا تانی کے خلاف لڑیں گے یا کرونا وائرس کے خلاف جنگ کریں گے؟


شفا یوسفزئی ہم نیوز کے مارننگ شو کی میزبان ہیں۔ مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ایئر یونیورسٹی  اسلام آباد سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ