کراچی: لاک ڈاؤن سے دکانوں میں بند جانوروں کی اذیت ناک موت

چھوٹے چھوٹے پنجروں میں تین تین بلیاں ٹھنسی ہوئی تھیں۔ نہ سانس لینے کو ہوا، شٹر گرے ہوئے، نہ پنکھا، نہ روشنی، نہ کھانا، نہ پانی، دو ہفتے جانور اسی طرح رہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو 70 فیصد جانور زمین پر مرے پڑے تھے: عائشہ چندریگر

کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں پالتو جانور بھی اذیت کا شکار ہو رہے ہیں۔ چند روز پہلے کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی بند دکانوں میں ان پالتو جانوروں کو بچایا گیا، جنہیں بازار بند کیے جانے کے باعث مالکان نے دکانوں میں ہی بند چھوڑ دیا تھا۔

لاک ڈاؤن کے دوران جانوروں کو نظرانداز کیے جانے پر ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کی بانی عائشہ چندریگر کے مطابق: 'یہ دکانیں کوزے کی طرح چھوٹی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پنجروں میں تین تین بلیاں ٹھنسی ہوئی تھیں۔ نہ سانس لینے کو ہوا، شٹر گرے ہوئے، نہ پنکھا، نہ روشنی، نہ کھانا، نہ پانی، دو ہفتے جانور اسی طرح رہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو 70 فیصد جانور زمین پر مرے پڑے تھے۔ باقی 30 فیصد جن کو ہم بچا کر لائے ہیں ان کی بھی حالت نازک ہے۔'

سرکاری احکامات کے مطابق اب ایمپریس مارکیٹ میں دکانداروں کو دو گھنٹے کے لیے دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا